اسٹریٹ کرائم کے ملزمان کیلیے خصوصی عدالتوں کے قیام کا فیصلہ

خصوصی عدالتوں کے قیام کا مسودہ منظوری کے آخری مراحل میں ہے، اسٹریٹ کرائم کے مقدمات کو ٹائم فریم میں لایا جائے گا

فوری انصاف کی فراہمی کیلیے پولیس اور عدلیہ کے مابین لائژن بنایا جائے، ترجمان سندھ حکومت بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کا خطاب۔ فوٹو:فائل

حکومت سندھ کا اہم اقدام، اسٹریٹ کرائم سے متاثر افراد اور ملزمان کیلیے خصوصی عدالتوں کے قیام کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔

خصوصی عدالتوں کے قیام کا فیصلہ وزیراعلی سندھ کے مشیر برائے قانون، ماحولیات، و ساحلی ترقی اور ترجمان سندھ حکومت بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کی صدارت میں اجلاس میں کیا گیا، اجلاس میں سیکریٹری محکمہ قانون، سیکریٹری محکمہ داخلہ، پراسیکیوٹر جنرل، ایڈیشنل آئی جی کراچی سمیت دیگر افسران نے شرکت کی۔

اس موقع پر بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ اسٹریٹ کرائم کے خاتمے کیلیے موثر حکمت عملی بنائی جائے، فوری انصاف کیلیے اداروں کے مابین لائژن قائم کیا جائے، خصوصی عدالتوں کے قیام کا مسودہ منظوری کے آخری مراحل میں ہے جس کے بعد اسٹریٹ کرائم کے مقدمات کو ٹائم فریم میں لایا جائے گا۔


انھوں نے کہا کہ فوری انصاف کی فراہمی کے لیے پولیس، عدلیہ کے مابین لائژن بنایا جائے جس میں مقدمات کی سماعت، جرح، شواہد اور ثبوتوں کی بنیادوں پر مرتب کرتے ہوئے ٹیکنالوجی بیسڈ ایکشن کو بروئے کار لایا جائے۔

بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا کہ اسٹریٹ کرائم کے مقدمات میں سزا کو یقینی بنانے کیلیے حکمت عملی بنائی ہے۔ اسپیشل کورٹس اور پراسیکیوشن کے نظام کو ٹیکنالوجی بیسڈ بنایا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ اسٹریٹ کرائم ہمارے معاشرے کا ناسور بن چکا ہے جس کے خاتمے کے لیے مشترکہ حکمت عملی ناگزیر ہے کیونکہ کمزور شواہد کی وجہ سے ملزمان فائدہ اْٹھاتے ہیں اور وہ رہا ہوجاتے ہیں اس کے لیے استغاثہ کی کارروائی کو جدید خطوط پر منظم کرنا ہوگا، حکومت کی کوشش ہے کہ اسٹریٹ کرائم کی شرح پر قابو پایا جائے۔

بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا کہ سندھ وہ واحد صوبہ ہوگا جہاں اسٹریٹ کرائم کی سماعت کے لیے خصوصی عدالتیں قائم کی جارہی ہیں۔
Load Next Story