سعودی حکومت کی وارننگ کے باوجود خواتین کی ڈرائیونگ

گاڑی چلانے کی وڈیواحتجاجاً انٹرنیٹ پر جاری کردی، وزراتِ داخلہ کا تنبیہہ کا اعادہ

خواتین کو ڈرائیونگ کااختیار دلانے کیلیے عرضداشت پر 17 ہزار افراد کے دستخط ہیں۔ ۔فوٹو: فائل

سعودی دارالحکومت ریاض میںڈرائیونگ پرپابندی کے خلاف بطوراحتجاج گاڑی چلاتے ہوئے 2 خواتین کی وڈیوانٹرنیٹ پرجاری کی گئی ہے۔

سعودی حکومت کی جانب سے سخت انتباہ کے باوجودسعودی خواتین کی ایک بڑی تعدادگاڑی چلانے پرپابندی کے خلاف کے احتجاج کررہی ہے۔ سعودی وزراتِ داخلہ نے اس پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوںکو غیرمعینہ سزادیے جانے کی تنبیہہ کوایک بارپھر دہرایا ہے۔ سعودی عرب میں خواتین کی ڈرائیونگ پرپابندی قانون کاحصّہ نہیںتاہم معاشرتی اورتہذیبی طورپر یہاں اس کی اجازت نہیں ہے۔ عورتوں کو ڈرائیونگ کااختیار دلوانے کے لیے جاری مہم اپنے عروج پرہے۔ یہ اپنی نوعیت کاتیسرا احتجاج ہے۔




پہلی مرتبہ 1990میں متعددخواتین کوحراست میں لیا گیااور کئی نے اپنی ملازمتیں گنوائیں۔ احتجاج کی تازہ لہرمیں درجنوں خواتین نے اپنی وڈیوزآن لائن پوسٹ کی ہیں جن میں انھیں مختلف سعودی شہروں میں ڈرائیونگ کرتے ہوئے دکھایاگیا ہے۔ اس مہم کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ اب معاشرے کاچلن تبدیل ہورہا ہے اورمردوں سمیت لوگوںکی بڑی تعداداس پابندی کے خاتمے کے حق میں ہے۔ اس حوالے سے ایک عرضداشت پر 17ہزار لوگوں نے دستخط کیے ہیں جس میں کہا گیاہے کہ یاتو اس قانون میںتبدیلی کی جائے یاواضح کیاجائے کہ یہ کیوںلاگو رہے؟
Load Next Story