کراچی آپریشن کیلیے مانیٹرنگ کمیٹی بنانے کی ضرورت نہیںشرجیل میمن
متحدہ قومی موومنٹ اور پیپلز پارٹی کے حوالے سے میڈیا میں آنے والی خبریں من گھڑت ہیں
کراچی کا گند 25 سے 30 سال پراناہے چند ہفتوں یا چند ماہ میں صاف نہیں کیا جا سکتا،وزیراطلاعات۔ فوٹو: فائل
KARACHI:
سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ اور پیپلز پارٹی کے حوالے سے میڈیا میں آنے والی خبریں من گھڑت ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے ایم کیو ایم کو حکومت میں شامل ہونے کی کوئی دعوت نہیں دی گئی، کراچی میں جاری ٹارگٹڈآپریشن کے حوالے سے کمیٹی کا مطالبہ مضحکہ خیزہے، وفاق کواگردہشت گردوں کے خلاف کمیٹیاں بنانی ہوں تووہ پہلے دیگر صوبوں میں بنائے، کراچی کا گند 25 سے 30 سال پراناہے چند ہفتوں یا چند ماہ میں صاف نہیں کیا جا سکتا،لیاری میں جرائم پیشہ عناصرکے خلاف آپریشن جاری ہے،کراچی بھر میں آپریشن آخری کرمنل کی موجودگی تک جاری رہے گا۔
ان خیالات کا اظہار انھوں نے ہفتے کوبھٹو خاندان کے فوٹو گرافر آغا فیروز اختر کی جانب سے نیشنل میوزیم میں لگائی جانے والی بھٹو خاندان کی تصویری نمائش کے دورے کے بعدمیڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔شرجیل انعام میمن نے کہا کہ متحدہ کے ترجمان کی جانب سے حکومت میں شامل نہ ہونے کااعلان مضحکہ خیز ہے،سندھ حکومت کے ترجمان کی حیثیت سے گزشتہ روز بھی ان خبروں کی تردید کردی تھی تاہم بعض اخبارات اور چینل میں ان خبروں کو دلچسپ بنانے کی غرض سے من گھڑت خبریں شائع اورنشر کیں،ایم کیو ایم کی جانب سے کراچی میں جاری ٹارگٹڈ آپریشن کے لیے کمیٹی کی تشکیل کامطالبہ بے سودہے کیونکہ پولیس اوررینجرز اپنے فرائض بخوبی انجام دے رہے ہیں اوراگر کوئی گرفتارہوتاہے تو اس کے گنہگاریا بے گناہ ہونے کا فیصلہ آزاد عدلیہ نے کرنا ہے تو پھر کمیٹی کی کیا ضرورت ہے ؟
وزیر اعلیٰ سندھ اورسندھ حکومت کی جانب سے کمیٹی کے حوالے سے واضح موقف پیش کردیا گیا ہے کہ اس کی ضرورت نہیں ہے،اگر وفاق کودہشت گردی یادہشت گردوں کے خلاف آپریشن پر کوئی کمیٹی بنانی ہیں تو وہ پہلے دیگر ان صوبوں میں کمیٹیاں بنائیں جوسندھ سے زیادہ متاثر ہیں،کراچی میں ٹارگٹڈ آپریشن درست سمت کی جانب ہے اورجرائم پیشہ افراد، ٹارگٹ کلرزاوردہشت گردوں کیخلاف کارروائیوں میں بڑی کامیابی ملی ہیں اوراب یہ دہشت گرد چھپتے پھررہے ہیں۔
لیاری میں سب سے زیادہ چھاپے مارے گئے ہیں اور اب بھی کراچی بھر میں جرائم پیشہ افراد کی موجودگی پرپولیس اور رینجرز کی جانب سے چھاپے مارے جارہے ہیں اوریہ اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک اس شہر سے تمام جرائم پیشہ عناصر کامکمل قلع قمع نہیں کردیاجاتا اور کراچی کو روشنیوں کا شہر نہیں بنا دیا جاتا۔اس موقع پر انھوں نے اعلان کیا کہ آغا فیروز اختر کی بھٹو خاندان کی قربانیوں اور جموریت کے لیے کی جانے والی کاوشوں اور ان کی فوٹو گرافی کی اس نمائش میں موجودتصاویر کومحکمہ اطلاعات اور محکمہ آرکائیوز کے اشتراک سے ویب سائٹ پر دنیا بھر کے عوام کے لیے ڈالا جائے گا۔انھوں نے اس موقع پر نمائش کومزید تین روز تک محکمہ اطلاعات سندھ کی جانب سے جاری رکھنے کا بھی اعلان کیا۔
سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ اور پیپلز پارٹی کے حوالے سے میڈیا میں آنے والی خبریں من گھڑت ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے ایم کیو ایم کو حکومت میں شامل ہونے کی کوئی دعوت نہیں دی گئی، کراچی میں جاری ٹارگٹڈآپریشن کے حوالے سے کمیٹی کا مطالبہ مضحکہ خیزہے، وفاق کواگردہشت گردوں کے خلاف کمیٹیاں بنانی ہوں تووہ پہلے دیگر صوبوں میں بنائے، کراچی کا گند 25 سے 30 سال پراناہے چند ہفتوں یا چند ماہ میں صاف نہیں کیا جا سکتا،لیاری میں جرائم پیشہ عناصرکے خلاف آپریشن جاری ہے،کراچی بھر میں آپریشن آخری کرمنل کی موجودگی تک جاری رہے گا۔
ان خیالات کا اظہار انھوں نے ہفتے کوبھٹو خاندان کے فوٹو گرافر آغا فیروز اختر کی جانب سے نیشنل میوزیم میں لگائی جانے والی بھٹو خاندان کی تصویری نمائش کے دورے کے بعدمیڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔شرجیل انعام میمن نے کہا کہ متحدہ کے ترجمان کی جانب سے حکومت میں شامل نہ ہونے کااعلان مضحکہ خیز ہے،سندھ حکومت کے ترجمان کی حیثیت سے گزشتہ روز بھی ان خبروں کی تردید کردی تھی تاہم بعض اخبارات اور چینل میں ان خبروں کو دلچسپ بنانے کی غرض سے من گھڑت خبریں شائع اورنشر کیں،ایم کیو ایم کی جانب سے کراچی میں جاری ٹارگٹڈ آپریشن کے لیے کمیٹی کی تشکیل کامطالبہ بے سودہے کیونکہ پولیس اوررینجرز اپنے فرائض بخوبی انجام دے رہے ہیں اوراگر کوئی گرفتارہوتاہے تو اس کے گنہگاریا بے گناہ ہونے کا فیصلہ آزاد عدلیہ نے کرنا ہے تو پھر کمیٹی کی کیا ضرورت ہے ؟
وزیر اعلیٰ سندھ اورسندھ حکومت کی جانب سے کمیٹی کے حوالے سے واضح موقف پیش کردیا گیا ہے کہ اس کی ضرورت نہیں ہے،اگر وفاق کودہشت گردی یادہشت گردوں کے خلاف آپریشن پر کوئی کمیٹی بنانی ہیں تو وہ پہلے دیگر ان صوبوں میں کمیٹیاں بنائیں جوسندھ سے زیادہ متاثر ہیں،کراچی میں ٹارگٹڈ آپریشن درست سمت کی جانب ہے اورجرائم پیشہ افراد، ٹارگٹ کلرزاوردہشت گردوں کیخلاف کارروائیوں میں بڑی کامیابی ملی ہیں اوراب یہ دہشت گرد چھپتے پھررہے ہیں۔
لیاری میں سب سے زیادہ چھاپے مارے گئے ہیں اور اب بھی کراچی بھر میں جرائم پیشہ افراد کی موجودگی پرپولیس اور رینجرز کی جانب سے چھاپے مارے جارہے ہیں اوریہ اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک اس شہر سے تمام جرائم پیشہ عناصر کامکمل قلع قمع نہیں کردیاجاتا اور کراچی کو روشنیوں کا شہر نہیں بنا دیا جاتا۔اس موقع پر انھوں نے اعلان کیا کہ آغا فیروز اختر کی بھٹو خاندان کی قربانیوں اور جموریت کے لیے کی جانے والی کاوشوں اور ان کی فوٹو گرافی کی اس نمائش میں موجودتصاویر کومحکمہ اطلاعات اور محکمہ آرکائیوز کے اشتراک سے ویب سائٹ پر دنیا بھر کے عوام کے لیے ڈالا جائے گا۔انھوں نے اس موقع پر نمائش کومزید تین روز تک محکمہ اطلاعات سندھ کی جانب سے جاری رکھنے کا بھی اعلان کیا۔