زراعت و لائیو اسٹاک تحقیقی منصوبوں کیلیے 11 کروڑ روپے منظور
پانی کے باکفایت استعمال، ٹماٹر،مرچ و گندم کی پیداوار بڑھانے کیلیے کھادوں پرتحقیق کرائی جائیگی
ان منصوبوں میں شعبہ زراعت کے 3 منصوبوں کے لیے 90.19ملین روپے جبکہ شعبہ لائیواسٹاک کے ایک منصوبے کے لیے 19.81ملین روپے شامل ہیں۔ فوٹو: رائٹرز/ فائل
پنجاب ایگریکلچر ل ریسرچ بورڈ (پارب) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے زراعت و لائیواسٹاک کے 4تحقیقاتی منصوبوں کے لیے 110ملین روپے کی رقم کی منظوری دے دی۔
ان منصوبوں میں شعبہ زراعت کے 3 منصوبوں کے لیے 90.19ملین روپے جبکہ شعبہ لائیواسٹاک کے ایک منصوبے کے لیے 19.81ملین روپے شامل ہیں۔ بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس کی صدارت وزیر زراعت پنجاب ڈاکٹر فرخ جاوید نے کی، اس موقع پر وزیر زراعت کو بتایا گیا کہ پنجاب ایگریکلچرل ریسرچ بورڈ کے تحت اب تک 52اہم تحقیقی منصوبوں کے لیے 1086ملین روپے فراہم کیے گئے ہیں جن میں گندم کے 8منصوبوں کے لیے 188ملین روپے ، کپاس کے 6منصوبوں کے لیے 121ملین روپے ، دھان کے 4منصوبوں کے لیے 121ملین روپے ، کماد کے 3منصوبوں کے لیے 69.8ملین روپے،پھلوں کے 7منصوبوں کے لیے 140ملین روپے جبکہ لائیواسٹاک کے 5منصوبوں کے لیے 89ملین روپے شامل ہیں۔
اجلاس میں پارب کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر مبارک علی نے نئے منظور کیے جانے والے تحقیقاتی منصوبوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ان منصوبہ جات کے ذریعے مختلف فصلات کے لیے پانی کے باکفایت استعمال، ٹماٹر اور مرچ کی پیداوار بڑھانے کے لیے بائیو پیسٹی سائیڈز کی تیاری اور گندم کی پیداوار میں اضافے کے لیے نامیاتی کھادوں کی تیاری کے لیے تحقیق کرائی جائے گی۔ وزیر رزاعت پنجاب نے کہا کہ زراعت اور لائیواسٹاک کے شعبوں کو معیشت میں غیر معمولی اہمیت کی حاصل ہے اس لیے حکومت ان شعبوں کے تحقیقی منصوبوں کے لیے فنڈز فراہم کر رہی ہے تاکہ بین الاقوامی معیار کے مطابق تحقیق کے ذریعے مستقل بنیاد پر زرعی پیداوار میں اضافے کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان منصوبوں کے نتائج سے کاشتکاروں کو بھی فائدہ ہوگا اور ملکی معیشت کو بھی استحکام حاصل ہوگا۔
ان منصوبوں میں شعبہ زراعت کے 3 منصوبوں کے لیے 90.19ملین روپے جبکہ شعبہ لائیواسٹاک کے ایک منصوبے کے لیے 19.81ملین روپے شامل ہیں۔ بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس کی صدارت وزیر زراعت پنجاب ڈاکٹر فرخ جاوید نے کی، اس موقع پر وزیر زراعت کو بتایا گیا کہ پنجاب ایگریکلچرل ریسرچ بورڈ کے تحت اب تک 52اہم تحقیقی منصوبوں کے لیے 1086ملین روپے فراہم کیے گئے ہیں جن میں گندم کے 8منصوبوں کے لیے 188ملین روپے ، کپاس کے 6منصوبوں کے لیے 121ملین روپے ، دھان کے 4منصوبوں کے لیے 121ملین روپے ، کماد کے 3منصوبوں کے لیے 69.8ملین روپے،پھلوں کے 7منصوبوں کے لیے 140ملین روپے جبکہ لائیواسٹاک کے 5منصوبوں کے لیے 89ملین روپے شامل ہیں۔
اجلاس میں پارب کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر مبارک علی نے نئے منظور کیے جانے والے تحقیقاتی منصوبوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ان منصوبہ جات کے ذریعے مختلف فصلات کے لیے پانی کے باکفایت استعمال، ٹماٹر اور مرچ کی پیداوار بڑھانے کے لیے بائیو پیسٹی سائیڈز کی تیاری اور گندم کی پیداوار میں اضافے کے لیے نامیاتی کھادوں کی تیاری کے لیے تحقیق کرائی جائے گی۔ وزیر رزاعت پنجاب نے کہا کہ زراعت اور لائیواسٹاک کے شعبوں کو معیشت میں غیر معمولی اہمیت کی حاصل ہے اس لیے حکومت ان شعبوں کے تحقیقی منصوبوں کے لیے فنڈز فراہم کر رہی ہے تاکہ بین الاقوامی معیار کے مطابق تحقیق کے ذریعے مستقل بنیاد پر زرعی پیداوار میں اضافے کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان منصوبوں کے نتائج سے کاشتکاروں کو بھی فائدہ ہوگا اور ملکی معیشت کو بھی استحکام حاصل ہوگا۔