بال ٹیمپرنگ قوانین میں تبدیلی کی ضرورت ہے احسان مانی

ڈوپلیسس کو سخت سزا دلانے کیلیے بورڈکی حالیہ کوشش بے سود ہے، سابق چیف

ڈوپلیسس کو اس کی سزا مل چکی اور پی سی بی اس معاملے میں کچھ بھی نہیں کرسکتا۔ سابق چیف۔ فوٹو: فائل

آئی سی سی کے سابق صدر احسان مانی نے بال ٹیمپرنگ پر پی سی بی کے شورشرابے کو بے سود قرار دے دیا۔

ان کا کہنا ہے کہ بورڈ اپنی توانائیاں ڈو پلیسس کو سخت سزا دلانے کے بجائے قوانین کو تبدیل کرنے پر صرف کرے، گیند سے چھیڑ چھاڑ کو روکنے کیلیے کڑے اقدامات کی ضرورت ہے۔ تفصیلات کے مطابق دبئی ٹیسٹ میں جنوبی افریقی کھلاڑی فاف ڈو پلیسس بال ٹیمپرنگ کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑے گئے تھے جس پر انھیں میچ ریفری ڈیوڈ بون نے صرف 50 فیصد میچ فیس جرمانہ کی جس پر پاکستان کے سابق کھلاڑیوں سمیت بورڈ نے بھی شدید احتجاج کیا اور اس سلسلے میں آئی سی سی کو خط بھی لکھ دیا گیا ہے تاہم کونسل کے سابق صدر احسان مانی ان چیزوں کو بے سود سمجھتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ میں نہیں سمجھتا کہ پی سی بی ان معاملات میں مداخلت کرسکتا ہے کیونکہ میچ ریفری نے بال ٹیمپرنگ سے متعلق قوانین کے تحت ہی اپنا فیصلہ سنایا ہے جوکچھ بھی ہوا وہ کرکٹ کی ساکھ کیلیے بدقسمتی کی بات ہے مگر حقیقت تو یہ ہے کہ ڈوپلیسس کو اس کی سزا مل چکی اور پی سی بی اس معاملے میں کچھ بھی نہیں کرسکتا۔




آئی سی سی کو بال ٹیمپرنگ سے متعلق قوانین میں تبدیلی کی ضرورت ہے، میرے خیال میں پاکستان کرکٹ بورڈ کو اس معاملے میں ہم خیال کرکٹ بورڈز کی حمایت حاصل کرنے اور آئی سی سی بورڈ کے لیول پر بال ٹیمپرنگ قوانین تبدیل کرانے چاہئیں۔ احسان مانی نے ایک اور ہوم سیریز کے دیار غیر میں انعقاد کو بھی پاکستان کرکٹ کیلیے بدقسمتی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی شائقین بدستور اپنے پلیئرز کو ہوم گرائونڈ پر ایکشن میں دیکھنے سے محروم رہے، پی سی بی کے سابق چیف ایگزیکٹیو عارف عباسی کا کہنا ہے کہ میچ ریفری نے بال ٹیمپرنگ کے موجودہ قوانین سے فائدہ اٹھایا ، ہمارے بورڈ میں مسلسل سیاسی مداخلت کی وجہ سے غیریقینی پائی جاتی ہے، ایسے میں آئی سی سی یا دوسرے بورڈ کہاں ہماری عزت کریں گے۔
Load Next Story