ایشز سیریز رکی پونٹنگ کے اعتراضات سے مائیکل کلارک پر دباؤ بڑھ گیا
اگر پونٹنگ کو مجھ سے کوئی پریشانی تھی تو پہلے بتاتے، کتاب میں ایسی باتیں لکھنے کی کیا ضرورت تھی،کلارک
پونٹنگ جب تک آسٹریلوی ٹیم کے کپتان رہے ان کا اپنے نائب مائیکل کلارک سے قریبی تعلق رہا۔ فوٹو: فائل
سابق آسٹریلوی کپتان رکی پونٹنگ کے اعتراضات نے ایشز سے قبل مائیکل کلارک پر دباؤ بڑھا دیا، موجود کپتان بھی اپنے سابق استاد کی باتوں پر حیران رہ گئے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر پونٹنگ کو مجھ سے کوئی پریشانی تھی تو پہلے بتاتے، کتاب میں ایسی باتیں لکھنے کی کیا ضرورت تھی۔ تفصیلات کے مطابق رکی پونٹنگ جب تک آسٹریلوی ٹیم کے کپتان رہے ان کا اپنے نائب مائیکل کلارک سے قریبی تعلق رہا بلکہ انھیں قیادت کے حوالے سے کلارک کا استاد قرار دیا جاتا تھا دونوں نے 8 برس تک ایک دوسرے کے ساتھ کرکٹ کھیلی اور کبھی ان میں کوئی تنازہ سامنے نہیں آیا مگر اب پونٹنگ کی حال ہی میں سامنے آنے والی آٹو بائیوگرافی نے نیا پنڈورا باکس کھول دیا جس نے خود کلارک کو بھی حیران کردیا، انھیں تو اس بات کا یقین ہی نہیں آیا کہ ان کے اپنے استاد ان کے بارے میں ایسی باتیں لکھ سکتے ہیں۔
پونٹنگ نے اپنی کتاب میں انکشاف کیا تھا جب تک کلارک کی لارا بنگل کے ساتھ دوستی رہی وہ کسی کو خاطر میں ہی نہیں لاتے تھے، الگ تھلگ رہتے، ٹیم میٹنگز میں شرکت ہی نہ کرتے اور نائب کپتان ہونے کے باوجود ان کا بوجھ نہیں بانٹتے تھے۔اس بارے میں کلارک نے کہا کہ جب تک پونٹنگ کپتان رہے اور بعد میں بھی کتاب شائع ہونے تک انھوں نے کبھی بھی میرے سامنے ذکر نہیں کیا کہ انھیں مجھ سے کیا پریشانی ہے اس لیے جب کتاب میں اپنا ذکر پڑھا تو مجھے کافی حیرت ہوئی، آزادی اظہار سب کا حق ہے مگر میں محسوس کرتا ہوں کہ اگر پونٹنگ کو مجھ سے کوئی مسئلہ تھا بھی تب بھی انھیں مجھ سے بات کرنا چاہیے تھی، کلارک نے واضح کیا کہ وہ کتاب میں اپنے بارے میں باتیں پڑھنے کے باوجود پہلے ہی کی طرح پونٹنگ کے احترام کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر پونٹنگ کو مجھ سے کوئی پریشانی تھی تو پہلے بتاتے، کتاب میں ایسی باتیں لکھنے کی کیا ضرورت تھی۔ تفصیلات کے مطابق رکی پونٹنگ جب تک آسٹریلوی ٹیم کے کپتان رہے ان کا اپنے نائب مائیکل کلارک سے قریبی تعلق رہا بلکہ انھیں قیادت کے حوالے سے کلارک کا استاد قرار دیا جاتا تھا دونوں نے 8 برس تک ایک دوسرے کے ساتھ کرکٹ کھیلی اور کبھی ان میں کوئی تنازہ سامنے نہیں آیا مگر اب پونٹنگ کی حال ہی میں سامنے آنے والی آٹو بائیوگرافی نے نیا پنڈورا باکس کھول دیا جس نے خود کلارک کو بھی حیران کردیا، انھیں تو اس بات کا یقین ہی نہیں آیا کہ ان کے اپنے استاد ان کے بارے میں ایسی باتیں لکھ سکتے ہیں۔
پونٹنگ نے اپنی کتاب میں انکشاف کیا تھا جب تک کلارک کی لارا بنگل کے ساتھ دوستی رہی وہ کسی کو خاطر میں ہی نہیں لاتے تھے، الگ تھلگ رہتے، ٹیم میٹنگز میں شرکت ہی نہ کرتے اور نائب کپتان ہونے کے باوجود ان کا بوجھ نہیں بانٹتے تھے۔اس بارے میں کلارک نے کہا کہ جب تک پونٹنگ کپتان رہے اور بعد میں بھی کتاب شائع ہونے تک انھوں نے کبھی بھی میرے سامنے ذکر نہیں کیا کہ انھیں مجھ سے کیا پریشانی ہے اس لیے جب کتاب میں اپنا ذکر پڑھا تو مجھے کافی حیرت ہوئی، آزادی اظہار سب کا حق ہے مگر میں محسوس کرتا ہوں کہ اگر پونٹنگ کو مجھ سے کوئی مسئلہ تھا بھی تب بھی انھیں مجھ سے بات کرنا چاہیے تھی، کلارک نے واضح کیا کہ وہ کتاب میں اپنے بارے میں باتیں پڑھنے کے باوجود پہلے ہی کی طرح پونٹنگ کے احترام کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔