نواز شریف امن کے خواہاں بھارت میں انتخابات صورتحال کیسے بہتر ہو

وزیراعظم نے ہر تقریر، ہر انٹرویو میں امن اور تصفیہ طلب مسائل حل کرنے کی بات کی.

وزیراعظم نے ہر تقریر، ہر انٹرویو میں امن اور تصفیہ طلب مسائل حل کرنے کی بات کی. فوٹو: فائل

بارود کی بدبو کو امن کی خوشبو پر غالب آنے کی عجیب سی عادت پڑ گئی ہے اور پہی کچھ آج کل پاک بھارت سرحد پر ہورہا ہے۔

نومبر 2003 میں پاکستان اور بھارت نے کنٹرول لائن پر جنگ بندی کا معاہدہ کیا تھا اور ایک دہائی تک دونوں طرف کی بندوقیں خاموش رہیں۔ رواں سال جنوری میں اچانک مشکل پیدا ہوگئی جس کے بعد سے صورتحال خراب ہے، گزشتہ ہفتے سیالکوٹ ورکنگ بائونڈری پر گولہ باری کا تبادلہ ہوا۔ اس سے قبل پاکستان نے بھارتی ہائی کمشنر کو طلب کرکے احتجاج کیا تھا۔ بھارتی وزیر داخلہ نے مقبوضہ کشمیر میں سرحدی گائوں کا دورہ کیا اور پاکستان کو بھی دھمکی دی۔ حقیقت میں کیا ہوا؟ اس کی مختلف وضاحتیں ہیں۔ بھارت سے متعلق پالیسی بنانے والے ایک پاکستانی افسر کا کہنا ہے کہ بھارتی جارحیت کا تعلق اسکی اندرونی سیاست سے ہے، انتخابی بخار اور نریندر مودی کا پاکستان مخالف روپہ بھارتی ریاست کے ایک نئے مزاج کو جنم دے رہا ہے۔ یہ ایک وجہ ہے، اسکے علاوہ اور محرک بھی ہوسکتے ہیں۔




پاک بھارت تعلقات بالعموم دونوں ملکوں میں سیاسی ماحول و مزاج کے یرغمال رہے ہیں۔ افغان جنگ، امریکی افواج کا انخلا اور دیگر معاملات اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔ نریندر مودی پاکستان کیساتھ نرم روپہ رکھنے پر من موہن کو شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ بھارت میں انتخابی مہم کے دوران ہر امیدوار پاکستان کو 'سبق سیکھانے' کی بات کرے گا۔ ہماری طرف نواز شریف نے ہر تقریر، ہر انٹرویو میں امن اور بھارت کے ساتھ تمام مسائل کو حل کرنے کی بات کی مگر فی الحال وقت امن کیلیے کسی بڑے آغاز کیلیے سازگار دکھائی نہیںدے رہا۔ نواز شریف کی خواہش ہوسکتی ہے کہ وہ وہی کریں جو مشرف نے کیا تھا مگر انھیں ریاستی پالیسی پر اتنا اختیار نہیں ہے جتنا مشرف کو تھا۔

2004 سے 2007 کے دوران پاک بھارت بیک چینل ڈپلومیسی میں اہم پیشرفت ہوئی۔ طارق عزیز اور ایس کے لامبا کے درمیان ملاقاتوں میں حیران کن کامیابی ملی۔ جیسا کہ 2009 میں ایک بھارتی افسر نے کہا تھا کہ دونوں ملک 'تاریخی' اعلان کرنے ہی والے تھے۔ جس کے بعد مشرف نے چیف جسٹس کو ہٹا دیا اور پھر خود بھی چلے گئے مگر کنٹرول لائن پر سیزفائر برقرار رہا۔ مشرف کے دور میںجنرل کیانی ڈی جی آئی ایس آئی رہے اور وہ بیک چینل ڈپلومیسی میں پیشرفت کے حوالے سے مکمل طور پر آگاہ تھے۔ بطور آرمی چیف جنرل کیانی صرف بھارتی پر مرتکز نہ رہے بلکہ انھوں نے افغانستان اور دہشتگردی کیخلاف جنگ پر بھی توجہ دی۔

Recommended Stories

Load Next Story