کوئی ٹی وی چینل بیرونی ایجنسیوں کی ہدایت پر پروپیگنڈا کرے تو انکوائری ہونی چاہیے عمران خان

ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ بہت سنجیدہ معاملہ ہے، اگر اس میں کوئی بھی حقیقت ہے تو اسکی تحقیقات ہونی چاہیے

چینل ملک سے باہر خصوصاً باہر کی ایجنسیوں کے اثر و رسوخ سے ملک کے اندر پروپیگنڈا کرے تو یہ بالکل غلط ہے۔ فوٹو: فائل

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ اگر ملک کا کوئی ٹی وی چینل بیرونی ایجنسیوں کے اثر و رسوخ سے ملک کے اندر پروپیگنڈا کرے تو اسکی انکوائری ہونی چاہیے۔


ٹی وی اے آر وائی کے پروگرام کھرا سچ کے میزبان مبشر لقمان کیساتھ گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ پاکستان کے ایک نئے آنیوالے نجی ٹی وی چینل کے حوالے سے بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے سوال پر کہا کہ یہ بہت سنجیدہ معاملہ ہے، اگر اس رپورٹ میں کوئی بھی حقیقت ہے تو اسکی تحقیقات ہونی چاہیے، کیونکہ یہ چھوٹا الزام نہیں، یعنی اس طرح کی بات ہو اور ملک کے اندر کوئی بھی ٹی وی چینل ملک سے باہر خصوصاً باہر کی ایجنسیوں کے اثر و رسوخ سے ملک کے اندر پروپیگنڈا کرے تو یہ بالکل غلط ہے اور اسکی انکوائری ہونی چاہیے اور سچ سامنے آنا چاہیے۔

عمران خان نے کہا کہ جو ایک نجی ٹی وی میں کام کرتے ہیں، وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ بن گئے ہیں، انہوں نے رولز بنائے اور نجی ٹی وی کو کنٹریکٹ دیدیا اور وہ بھی چھ ماہ کیلئے۔ اب یہ دلچسپ بات ہے کہ ایک ٹی وی چینل کو چھ ماہ کیلئے کنٹریکٹ دیدیا گیا ہے، ہندوستان میں سال سال، دو، دو اور پانچ سال تک رائٹس دے دیتے ہیں ۔ اور ایک چینل کو چھ ماہ کیلئے رائٹس دے دیئے، اسکا مطلب یہ ہے کہ کیا حکومت اب میڈیا ہائوس کے اوپر پریشر رکھے گی کہ آپ نے چھ ماہ کیلئے پرفارمنس دی تو اگلے رائٹس ملیں گے ۔ پروگرام کے میزبان کے مطابق عمران خان نے کہا کہ جس طرح پی ٹی وی کو کرکٹ رائٹس کیلئے نیلامی میں حصہ ہی نہیں لینے دیا گیا، اس کی بھی انکوائری ہونی چاہیے۔
Load Next Story