ڈیرہ اورٹانک کوسرائیکی صوبہفاٹاکوپختونخوا میںشامل کرنیکی تجویز
پی پی کااے این پی سے معاملات طے کرنیکافیصلہ،سودے بازی قبول نہیں کرینگے، سینیٹر زاہد۔
پی پی کااے این پی سے معاملات طے کرنیکافیصلہ،سودے بازی قبول نہیں کرینگے، سینیٹر زاہد. فوٹو: فائل
مرکزی حکومت نے نئے صوبوں کے قیام کے سلسلے میںسرائیکی صوبہ میں ڈیرہ اسماعیل خان ڈویژن کوشامل کرنے کے لیے اے این پی کے سا تھ معاملات طے کرنے کا فیصلہ کیاہے۔ ڈی آئی خان ڈویژن کے دواضلاع ڈیرہ اسماعیل خان اورٹانک کوسرائیکی صوبے میں شامل کرنے پر رضامندی ظاہر کرنے پر فاٹا کو خیبرپختونخوا میں شامل کرنے کی منظوری دے دی جائیگی۔
تاہم اے این پی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات زاہد خان نے ایکسپریس کوبتایا کہ نہ تو پیپلز پارٹی کی قیادت نے ان کے ساتھ اس بارے کوئی رابطہ کیا ہے نہ ہی اے این پی ایسی کسی سودے بازی کے لیے تیارہے کہ ڈی آئی خان دیں اور فاٹا لے لیں۔انھوں نے کہا کہ ہم اپنے صوبے کی ایک انچ زمین بھی کسی کو نہیں دیں گے۔ فاٹا کے مستقبل کے بارے میں جو بھی فیصلہ کیاجائے گا وہ قبائلی عوام خودکریں گے۔
قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکراورڈیرہ اسماعیل خان سے منتخب ایم این اے فیصل کریم کنڈی نے ایکسپریس کو بتایا کہ ہم نے ڈی آئی خان ڈویژن کوسرائیکی صوبہ میں شامل کرنے کا مطالبہ اپنی پارٹی کی مرکزی قیادت کو پیش کررکھاہے،ہم بھی اپنی پہچان چاہتے ہیں کیونکہ ڈی آئی خان اورٹانک میں اکثریت سرائیکی زبان بولنے والوں کی ہے۔
تاہم اے این پی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات زاہد خان نے ایکسپریس کوبتایا کہ نہ تو پیپلز پارٹی کی قیادت نے ان کے ساتھ اس بارے کوئی رابطہ کیا ہے نہ ہی اے این پی ایسی کسی سودے بازی کے لیے تیارہے کہ ڈی آئی خان دیں اور فاٹا لے لیں۔انھوں نے کہا کہ ہم اپنے صوبے کی ایک انچ زمین بھی کسی کو نہیں دیں گے۔ فاٹا کے مستقبل کے بارے میں جو بھی فیصلہ کیاجائے گا وہ قبائلی عوام خودکریں گے۔
قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکراورڈیرہ اسماعیل خان سے منتخب ایم این اے فیصل کریم کنڈی نے ایکسپریس کو بتایا کہ ہم نے ڈی آئی خان ڈویژن کوسرائیکی صوبہ میں شامل کرنے کا مطالبہ اپنی پارٹی کی مرکزی قیادت کو پیش کررکھاہے،ہم بھی اپنی پہچان چاہتے ہیں کیونکہ ڈی آئی خان اورٹانک میں اکثریت سرائیکی زبان بولنے والوں کی ہے۔