دوسری عالمی اردو کانفرنس کی محفل موسیقی میں حاضرین جھومتے رہے

بین الاقوامی شہرت یافتہ ستارنوازاستاد رئیس خاں کی عمدہ پرفامنس

شوبز کی معروف شخصیات کا شاندارالفاظ میں خراج تحسین۔ فوٹو: ظہور الحق / ایکسپریس

TEHRAN:
''روزنامہ ایکسپریس '' کے زیراہتمام لاہور میں ہونے والی 'دوسری عالمی اُردو کانفرنس' کا انعقاد آواری ہوٹل میں کیا گیا۔

جس میں اردو ادب سے تعلق رکھنے والی بین الاقوامی شہرت یافتہ شخصیات نے شرکت کی تو وہیں اردو ادب سے لگاؤرکھنے والے مختلف شعبہ ہائے زندگی کے افراد بھی مختلف سیشنزمیں شریک ہوتے رہے۔ اس اعتبارسے یہ ''روزنامہ ایکسپریس'' کی بہت اہم کاوش تھی کہ ملک بھرمیں اردوادب کی معروف شخصیات کے ساتھ ساتھ بیرون ممالک سے بھی معروف ادیب، دانشور اور شاعروں کوزندہ دل لوگوں کے شہرلاہورمیں مدعو کیا۔ معروف ادیب، دانشوراور شاعر عالمی اردوکانفرنس میں بھرپوراندازسے شریک ہوئے اوراپنے خیالات کابھی خوب اظہارکیا۔

اس دوران اپنے معززمہمانوں کو کلاسیکی موسیقی سے محظوظ کرنے کیلئے اردوکانفرنس کے پہلے روز ''روزنامہ ایکسپریس'' کی جانب سے محفل موسیقی کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔ اس موقع پربین الاقوامی شہرت یافتہ ستارنوازاُستاد رئیس خاں نے اپنے مخصوص انداز میں ستاربجاتے ہوئے حاضرین کوجھومنے پر مجبور کردیا۔ شرکاء نے برصغیرپاک وہند کے لیجنڈ ستارنوازکی عمدہ پرفارمنس کوخوب سراہا اوران کو دل کھول کرداد دی۔ اس محفل کوخاص طورپراردوادب سے تعلق رکھنے والے معروف دانشور، ادیب اور شعراء کرام کیلئے سجایا گیا تھا لیکن ''ایکسپریس'' کی دعوت پرفنون لطیفہ کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے مقبول فنکاربھی سچے سُروںسے سجی اس محفل میں شریک ہوئے۔



ان میں صدارتی ایوارڈ یافتہ گلوکارہ شاہدہ منی، ترنم ناز، فریحہ پرویز، رکن پنجاب اسمبلی کنول نعمان، وارث بیگ، اداکارنیئراعجاز، شہزاد رفیق ، پرویزکلیم، استاد فتح علی خاں ( گوالیارگھرانہ )، استاد شفقت سلامت علی خاں (شام چوراسی گھرانہ )، معروف طبلہ نوازاورموسیقار استاد طافوخاں، پاکستان ٹیلی ویژن کے سابق ڈی ایم ڈی فرخ بشیر، علی عباس، شجاعت علی خاں، قوال سکندرمیانداد خاں، موسیقار وجاہت عطرے، نعمان جاوید، پاکستان فلم ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین چوہدری اعجازکامران ، فلمسازقیصرثناء اللہ خان، محسن رضا، ایگزیکٹوپروڈیوسر پی ٹی وی محسن جعفر، سورج بابا، خالدی، ماڈل عبدالصمد خان، طارق طافو، زاہد علی خان، ڈاکٹرسہیل، سلیم نور، جاوید اقبال اورجرمنی سے آئے ہوئے معروف شوآرگنائزریارمحمد شمسی سمیت دیگر موجودتھے۔

موسیقی کی خوبصورت اوررنگا رنگ محفل میں استاد رئیس خاں کے ہمراہ ان کے صاحبزادے فرحان اورطبلہ پر جھاری خاں نے سنگت کی جبکہ استاد ریئس خاں کی شریک حیات اورماضی کی معروف گلوکارہ بلقیس خانم بھی پروگرام میں شرکت کیلئے خاص طورپرکراچی سے لاہور آئی تھیں۔ سچے سروں سے سجی اس محفل میں جوں جوں استادرئیس خاں کی انگلیاں ستارکی تاروں کوچھو رہی تھیں اس کے ساتھ ساتھ محفل بھی گرما رہی تھی۔ دوسری جانب ان کے سامنے بیٹھے حاضرین ان کی فنی مہارت کودیکھتے ہوئے تالیاں بجا کرداد دے رہے تھے۔ تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہنے والی اس خوبصورت محفل کے اختتام پر تمام شرکاء نے استاد رئیس خاں نے عمدہ پرفارمنس پرجہاں داد دی وہیں ان کی فنی خدمات کوشاندارالفاظ میں خراج تحسین بھی پیش کیا۔

'' نمائندہ ایکسپریس'' سے گفتگوکرتے ہوئے گلوکارہ شاہدہ منی نے کہا کہ استاد رئیس خاں پاکستان اوربھارت سمیت دنیا کے بیشترممالک میں اپنے فن کی بدولت پاک وطن کا نام روشن کیا ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ پاکستان میں ستارنوازی کوزندہ رکھنے اور نوجوانوں کو اس طرف لانے میں استاد رئیس خاں کی گراں قدر خدمات ہیں۔ جس طرح کے ہمارے ملکی حالات ہیں ایسے میں میوزک کا شعبہ شدید متاثرہوچکا ہے لیکن اس محفل میں لوگوںکی کثیرتعداد دیکھ کر بہت اچھا لگا ہے۔ میں ''ایکسپریس میڈیا گروپ'' کومبارکباد دینا چاہتی ہوں کہ انہوں نے ایک طرف اردو ادب کے فروغ کے لئے عالمی کانفرنس کاانعقاد کیا اوراس کے ساتھ سُچے سروں سے سجی محفل موسیقی کااہتمام بھی کیا۔ جس کوجتنا بھی سراہا جائے وہ کم ہے۔

گلوکارہ ترنم نازنے کہا کہ استاد رئیس خاں پاکستان کا قیمتی اثاثہ ہیں۔ انہوں نے ' ستار'جیسے مشکل ساز کوبڑی محنت اورریاضت کے بعد اس مقام تک پہنچایا ہے کہ اب ہمارے ہاں نوجوان نسل کوبھی ' ستار ' سے لگاؤہونے لگا ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ اگراس طرح کی محفلیں سجتی رہیں تو ہمارااصل ورثہ کبھی ماضی کا حصہ نہیں بن سکتا۔ لوگ آج بھی سچے سروں میں رچی بسی موسیقی سننا چاہتے ہیں مگرافسوس ہمارے ہاں موسیقی کے نام کوبدنام کرنے کیلئے ایسے لوگ میدان میں اتر چکے ہیں جن کو موسیقی کی الف ب تک نہیں پتا۔ اس لئے میری حکومت اورخاص طور پر ''ایکسپریس''سے اپیل ہے کہ وہ اس طرح کی محفلیں سجائیں اورشدھ موسیقی کے فروغ کیلئے اپنا کردار ادا کرتے رہیں۔

رکن پنجاب اسمبلی اورماضی کی معروف اداکارہ کنول نعمان نے ''ایکسپریس'' کی پوری ٹیم کو اردو عالمی کانفرنس کے انعقاد پرمبارکبادکے ساتھ نیک تمناؤں کااظہارکرتے ہوئے کہا کہ اردو ہماری قومی زبان ہے اوراردوکانفرنس میں جس طرح سے دنیا کے مختلف ممالک کے دانشوراورادیبوں نے شرکت کی ہے اس سے پاکستان کا سافٹ امیج دنیا بھرتک پہنچے گا۔ اس کے علاوہ استاد رئیس خان جیسے لیجنڈ فنکار کی پرفارمنس نے تومیری شام کو اوربھی حسین بنا دیا ہے۔ ''ایکسپریس''ایک طرف توہمیں باخبر رکھتا ہے اوردوسری جانب اب ہمیں تفریح فراہم کرنے میںبھی وہ بازی لے گیا ہے۔

گلوکارہ فریحہ پرویز نے کہاکہ پاکستان میں ایسے فنکاربہت کم ہیں جنہوں نے ہمیشہ کلاسیکی موسیقی کے فروغ کیلئے اپنی کاوش جاری رکھی ہے۔ ان میںسے ایک نام استاد رئیس خاں کا بھی ہے۔ ان کے فن کے بارے میں توزیادہ کچھ نہیں کہہ سکتی کیونکہ وہ بہت مہان فنکارہیں۔ مگرمیں ''ایکسپریس'' کاتہہ دل سے شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں کہ انہوں نے مجھے ایک لیجنڈ فنکارکو سامنے بیٹھ کرسننے کا موقع فراہم کیا اوران کی مختصر سی پرفارمنس کے دوران مجھے بہت کچھ سیکھنے کوملا۔


اداکارنیئراعجاز نے کہا کہ موسیقی کی روح کی غذا ہے۔ یہ بات بالکل درست ہے کیونکہ جب ہم استاد رئیس خاں جیسے فنکاروں کو سنتے اورپرفارم کرتے دیکھتے ہیںتواس جو سکون ملتا ہے وہ بے ہنگم موسیقی میں کہاں ؟ میری فنی مصروفیات بہت زیادہ رہتی ہیں لیکن جب بھی مجھے کسی اچھی محفل میں مدعو کیا جاتاہے تومیں وہاں فوری پہنچتا ہوں۔ ''ایکسپریس'' نے ایک لیجنڈ فنکار کے فن سے محظوظ ہونے کا جونادرموقع فراہم کیا ۔ اس لئے میری خواہش ہے کہ اس طرح کے پروگراموںکا مزید انعقاد ہونا چاہئے تاکہ لوگوں کو انٹرٹین کرنے والے فنکاربھی انٹرٹین ہوسکیں۔

ہدایتکارشہزادرفیق کاکہنا تھا کہ ''اردوادب اوراردوزبان'' کے فروغ کیلئے 'ایکسپریس ' کی کاوش کوجتنا بھی سراہا جائے وہ کم ہے۔اس کے ساتھ ساتھ استاد رئیس خاں جیسے انمول فنکار کی پرفارمنس نے جوسچے سروںکا سماں باندھا ہے اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ وہ واقعی ایک باکمال فنکارہیں جنہوں نے اپنے انوکھے فن کے ذریعے دنیابھرمیں پاکستان کانام روشن کیا۔

مصنف و ہدایتکار پرویز کلیم نے کہا کہ پاکستان میں اس طرح کی محفلیں ماضی میں سجا کرتی تھیں لیکن جب سے جدید ٹیکنالوجی آئی ہے اورپاپ میوزک متعارف ہوا ہے اس کے بعد سے لوگوں میں موسیقی کی سمجھ بوجھ ہی ختم ہوکر رہ گئی ہے۔ ایسے میں '' روزنامہ ایکسپریس'' کی جانب سے استاد رئیس خاں جیسے بین الاقوامی شہرت یافتہ ستارنواز کی پرفارمنس کا انعقاد قابل ستائش ہے۔ اگرہم چاہتے ہیں کہ کلاسیکی موسیقی کوزندہ رکھیں توپھر اس طرح کی محفلیں سجتی رہنی چاہئیں۔ ''ایکسپریس '' کویہ بیڑہ اٹھانا ہوگا۔

استادشفقت سلامت علی خاں (شام چوراسی گھرانہ) نے کہا کہ 'سُر، لے اورتال 'کا خوبصورت سنگم استاد رئیس خاں کی پرفارمنس کے دوران دیکھنے کوملا۔ انہوں نے جس مہارت کے ساتھ ستاربجایا اورمختلف راگوں کو پیش کیا وہ آج کل کے نوجوانوں کیلئے بہت چیلنجنگ ہے۔ وہ نوجوانوں کیلئے یونیورسٹی کا درجہ رکھتے ہیں جن سے بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔

استاد فتح علی خاں (گوالیارگھرانہ ) نے کہا کہ استاد رئیس خاں کو متعدد باربراہ راست سن چکا ہوں اور ہر باروہ اپنی عمدہ پرفارمنس سے مجھے محظوظ کرتے ہیں۔ ان کا اندازبہت منفرد ہے اورپھر ان کی ستارپرریاضت ان کی پرفامنس کے دوران صاف دکھائی دیتی ہے۔

پی ٹی وی کے سابق ڈی ایم ڈی فرخ بشیرنے کہا کہ مجھے خود بھی ' ستار ' سے بہت لگاؤ ہے۔ اسی لئے اپنی تمام مصروفیات ترک کرکے جونہی مجھے ''ایکسپریس'' کی طرف سے دعوت ملی تواستاد رئیس خاں کی پرفارمنس دیکھنے کیلئے چلا آیا۔ یہ واقعی ہی باکمال فنکار ہیں جن کوکوئی نعم البدل نہیں۔



گلوکاروارث بیگ، طبلہ نوازاورموسیقاراستاد طافوخاں، علی عباس، شجاعت علی خاں، قوال سکندر میانداد خاں، موسیقاروجاہت عطرے، نعمان جاوید، فلمسازقیصرثناء اللہ خان، محسن رضا، طارق طافو، ایگزیکٹوپروڈیوسر پی ٹی وی محسن جعفر، سورج بابا، خالدی، ماڈل عبدالصمد خان، زاہد خان، ڈاکٹر سہیل، سلیم نور، جاوید اقبال اورجرمنی سے آئے ہوئے معروف شوآرگنائزریارمحمد شمسی نے کہا کہ ''روزنامہ ایکسپریس'' کے زیراہتمام شاندارمحفل میں شریک ہوکر بہت اچھا لگا۔ استاد رئیس خاں نے جس طرح سے اپنے فن کامظاہرہ کیا اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے وہ کم ہے۔

ایسے بہت کم دیکھنے میں آتا ہے کہ ادب کی معروف شخصیات اورفنکارایک چھت تلے اکھٹے ہوں۔ لیکن ''ایکسپریس'' کی ٹیم نے اس سلسلہ میں اہم کردار ادا کیا جس کیلئے وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ استاد رئیس خاں کا فن عام نہیں بہت خاص ہے اوریہ ہرکسی کی جلد سمجھ آنیوالا بھی نہیں۔ اس لئے آج وہ بھی بے حدخوش ہونگے کیونکہ موسیقی کی مختلف اصناف سے تعلق رکھنے والے معروف فنکاران کی پرفارمنس سے محظوظ ہورہے تھے اوراسی لئے انہوں نے اپنی پرفارمنس کویادگاربنانے کیلئے بہترین ستاربجایاجس پرانہیں تمام حاضرین نے دل کھول کرداد سے نوازا۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ جس طرح سے ایکسپریس میڈیا گروپ کے اخبارات، نیوز اورانٹرٹینمنٹ چینل اچھے اورمعیاری پروگرام، خبریں اورتبصروں سے عوام کو باخبررکھ رہے ہیں اسی طرح لوگوں کو انٹرٹین کرنے کیلئے ایسی عظیم فنکاروںکی لائیوپر فارمنسز کا سلسلہ بھی جاری رکھا جائے۔ آج کے اس دور میں جہاں ملک میں دہشت گردی، مہنگائی ، لوڈ شیڈنگ اوربے روزگاری کی وجہ سے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والوں کی طرح فنکاربرادری بھی شدید پریشان اورڈپریشن کا شکارہے۔ ایسے میں ''ایکسپریس''کویہ ذمہ داری اٹھانا ہوگی اوراس طرح کی موسیقی کی محفلوں کاانعقاد جاری رکھنا ہوگا۔
Load Next Story