ورلڈ ایڈز ڈے
وطن عزیز کے محکمہ صحت کے حکام کے لیے یہ ایک مصائب بھرا دن ہے
اس سال دوسری مرتبہ ایچ آئی وی/ ایڈز کے پھیل جانے کی تشویش ناک خبر دی جا رہی ہے۔ دوسری طرف دنیا بھر میں اتوار یکم دسمبرکو ایڈز کا عالمی دن منایا گیا جس کا مقصد ایڈز پیدا کرنے والے ہلاکت خیز وائرس کو روکنا اور اس مہلک مرض پر قابو پانا بتایا گیا ہے۔ وطن عزیز کے محکمہ صحت کے حکام کے لیے یہ ایک مصائب بھرا دن ہے جن پر امراض پر قابو پانے کی ذمے داری ہے مگر یہاں ایچ آئی وی ایڈز کے مریضوں کی تعداد میں اضافے کے اعداد و شمار دیے گئے ہیں جب کہ دنیا بھر میں اس مہلک بیماری پر قابو پانے کی اطلاعات ہیں اور اس مرض میں مبتلا ہونے والوں کی تعداد میں کمی کی نوید بھی دی گئی ہے۔
اس سال مئی کے مہینے میں سندھ کے علاقے رتوڈیرو میں اس مرض کے پھوٹ پڑنے کی اطلاع ملی تھی جہاں بہت سے ننھے منے بچوں میں اس خطرناک بیماری کے وائرس کے پائے جانے کی افسوسناک خبر دی گئی ہے جب کہ پنجاب کے 20 اضلاع میں بھی اس کے وائرس کی موجودگی کی اطلاع دی گئی۔ اس اطلاع سے پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام کے اندرونی حلقوں میں تنازعات کی خبر بھی آئی ۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر ایک دو افسران اس پروگرام سے الگ ہو جائیں تو نتیجے میں یہ پروگرام بالکل ہی بند ہو سکتا ہے اور بندش کے دھانے پر تو یہ پروگرام اب بھی پہنچ گیا ہے لیکن اگر ساری صورتحال کا وسیع تناظر میں جائزہ لیا جائے تو پھر ایڈز وائرس میں اضافے کا الزام صرف ایڈز کنٹرول پروگرام کے ذمے داروں عاید نہیں کیا جا سکتا بلکہ اصل ذمے داری پاکستان کے ہیلتھ کیئر نظام پر عائد ہوتی ہے جس میں مختلف ''لیکومے'' موجود ہیں۔
سماجی بندشوں کے ساتھ غیرتربیت یافتہ ڈاکٹر اور جنسی مراسم میں بے اعتدالی بھی اس قسم کے امراض کو دعوت دیتی ہے۔ علاوہ ازیں مریضوں کے لیے جو سرنج یا دیگر میڈیکل آلات استعمال کیے جاتے ہیں، ان پر وائرس سے مکمل طور پر پاک نہ ہونے کے امکانات بھی اپنا منفی کردار ادا کرتے ہیں۔ کئی مرتبہ ایسی سرنج کو دوبارہ استعمال کر لیا جاتا ہے جو کسی ایڈز زدہ مریض کے زیراستعمال رہی ہو لیکن طبی اہلکاروں نے اس پرتوجہ نہ دی ہو چنانچہ وہ کسی مکمل طور پر صحت مند شخص کے لیے بھی پیغام موت بن سکتی ہے کیونکہ یہ مرض اس قدر ہلاکت خیز ہے کہ اس سے جانبر ہونا ممکن نہیں رہتا۔ تازہ عالمی اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کا شمار ان گیارہ ممالک میں ہوتا ہے۔
جہاں ایڈز کے وائرس میں مبتلا ہونے کا خطرہ سب سے زیادہ ہے۔ 2018 میں ایچ آئی وی وائرس میں مبتلا افراد کی تعداد ایک لاکھ60 ہزار تھی جب کہ 2010ء میں ایڈز کی وجہ سے 369 افراد کی موت ہو چکی تھی عام طور پر منشیات استعمال کرنے والوں کو اس مرض کا زیادہ نشانہ بتایا جاتا ہے۔ چونکہ سماجی حلقوں میں اس مرض کے بارے میں بہت منفی رائے رکھی جاتی ہے اس لیے لوگ اس کی اطلاع کسی کو نہیں دیتے۔لہذا وقت کی اہم ترین ضرورت یہ ہے کہ عوام کو اس موذی مرض کے بارے میں آگاہ کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر آگاہی مہم چلانے کی ضرورت ہے۔
اس سال مئی کے مہینے میں سندھ کے علاقے رتوڈیرو میں اس مرض کے پھوٹ پڑنے کی اطلاع ملی تھی جہاں بہت سے ننھے منے بچوں میں اس خطرناک بیماری کے وائرس کے پائے جانے کی افسوسناک خبر دی گئی ہے جب کہ پنجاب کے 20 اضلاع میں بھی اس کے وائرس کی موجودگی کی اطلاع دی گئی۔ اس اطلاع سے پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام کے اندرونی حلقوں میں تنازعات کی خبر بھی آئی ۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر ایک دو افسران اس پروگرام سے الگ ہو جائیں تو نتیجے میں یہ پروگرام بالکل ہی بند ہو سکتا ہے اور بندش کے دھانے پر تو یہ پروگرام اب بھی پہنچ گیا ہے لیکن اگر ساری صورتحال کا وسیع تناظر میں جائزہ لیا جائے تو پھر ایڈز وائرس میں اضافے کا الزام صرف ایڈز کنٹرول پروگرام کے ذمے داروں عاید نہیں کیا جا سکتا بلکہ اصل ذمے داری پاکستان کے ہیلتھ کیئر نظام پر عائد ہوتی ہے جس میں مختلف ''لیکومے'' موجود ہیں۔
سماجی بندشوں کے ساتھ غیرتربیت یافتہ ڈاکٹر اور جنسی مراسم میں بے اعتدالی بھی اس قسم کے امراض کو دعوت دیتی ہے۔ علاوہ ازیں مریضوں کے لیے جو سرنج یا دیگر میڈیکل آلات استعمال کیے جاتے ہیں، ان پر وائرس سے مکمل طور پر پاک نہ ہونے کے امکانات بھی اپنا منفی کردار ادا کرتے ہیں۔ کئی مرتبہ ایسی سرنج کو دوبارہ استعمال کر لیا جاتا ہے جو کسی ایڈز زدہ مریض کے زیراستعمال رہی ہو لیکن طبی اہلکاروں نے اس پرتوجہ نہ دی ہو چنانچہ وہ کسی مکمل طور پر صحت مند شخص کے لیے بھی پیغام موت بن سکتی ہے کیونکہ یہ مرض اس قدر ہلاکت خیز ہے کہ اس سے جانبر ہونا ممکن نہیں رہتا۔ تازہ عالمی اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کا شمار ان گیارہ ممالک میں ہوتا ہے۔
جہاں ایڈز کے وائرس میں مبتلا ہونے کا خطرہ سب سے زیادہ ہے۔ 2018 میں ایچ آئی وی وائرس میں مبتلا افراد کی تعداد ایک لاکھ60 ہزار تھی جب کہ 2010ء میں ایڈز کی وجہ سے 369 افراد کی موت ہو چکی تھی عام طور پر منشیات استعمال کرنے والوں کو اس مرض کا زیادہ نشانہ بتایا جاتا ہے۔ چونکہ سماجی حلقوں میں اس مرض کے بارے میں بہت منفی رائے رکھی جاتی ہے اس لیے لوگ اس کی اطلاع کسی کو نہیں دیتے۔لہذا وقت کی اہم ترین ضرورت یہ ہے کہ عوام کو اس موذی مرض کے بارے میں آگاہ کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر آگاہی مہم چلانے کی ضرورت ہے۔