لیاری میں فائرنگ جاریخوف و ہراس کرفیو کا سماںگینگسٹرماراگیا
دولہا کی گاڑی پر فائرنگ کے نتیجے میں شدید زخمی ہونے والا 4سالہ زخمی بچہ دم توڑگیا
مختلف علاقوں کا محاصرہ کر کے تمام داخلی اور خارجی راستوں کو سیل کر کے گھر گھر تلاشی کا عمل شروع کردیاگیا۔فوٹو: پی پی آئی/فائل
جنگ زدہ علاقے کا منظر پیش کرنے والے لیاری میں پیر کو صورتحال قدرے بہتر رہی اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تاہم مختلف علاقوں میں وقفے وقفے سے فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا۔
رینجرز اور پولیس کی گشت اور متعدد علاقوں کے محاصروں جاری رہا جبکہ علاقے میں بدستور خوف و ہراس کی فضا بھی قائم رہی اور لوگوں کی بڑی تعداد گھروں میں محصور رہی۔ دوسری جانباتوار کی شب نیپئر کے علاقے لیمارکیٹ کے قریب دولہا کی کار پر فائرنگ سے شدید زخمی ہونے والے 4 سالہ مزمل ولد اختر نے دوران علاج دم توڑ دیا جس کے بعد واقعے میں ہلاکتوں کی تعداد 2 ہوگئی۔ پولیس کی جانب سے لیاری کے مکینوں میں غذائی اجناس اور خریداری کا موقع بھی فراہم کیا گیا ۔رینجرز کی جانب سے لیاری کو3 زون میں تقسیم کیا گیا ہے۔
جہاں غیر اعلانیہ کرفیو کا سماں پیدا کر کے ٹارگٹڈ آپریشن کیا جائے گا۔ چاکیواڑہ ، آگرہ تاج کالونی ، بہار کالونی پہلا حصہ ، بغدادی اور کلری کے مختلف علاقوں کو دوسرا حصہ جبکہ کلاکوٹ ، افشانی گلی ، ریکسر لائن ، سنگو لین کو تیسرا حصہ قرار دیا گیا ہے۔اس حوالے سے رینجرز کی جانب سے اعلانات بھی کیے گئے ہیں کہ علاقہ مکین ٹارگٹڈ آپریشن کے دوران اپنے اپنے گھروں میں رہیں تاکہ کسی بھی غیر معمولی صورتحال میں کسی بھی بے گناہ شخص کو جانی نقصان سے بچایا جا سکے۔ رات گئے رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری نے بغدادی اور کلری کے مختلف علاقوں کا محاصرہ کر کے تمام داخلی اور خارجی راستوں کو سیل کر کے گھر گھر تلاشی کا عمل شروع کر دیا جبکہ اس دوران نصف درجن سے زائد مشتبہ افراد کو بھی حراست میں لے کر تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ لیاری گینگ وار کے تمام ملزمان اپنے اپنے ٹھکانوں میں موجود اور ان کی جانب سے بھر پور مزاحمت کا بھی خدشہ ہے جبکہ گینگ وار کے ملزمان نے جدید ہتھیاروں سے لیس ہو کر مورچے بھی سنبھال لیے ہیں۔علاقے سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق لیاری گینگ وار کے 2متحارب گروپوں میں علاقے میں بالادستی قائم کرنے کے لیے جاری خونی تصادم اور بے موت مارے جانے کے خوف سے کئی خاندان نقل مکانی کر کے دوسرے علاقوں میں مقیم اپنے رشتے داروں کے گھر منتقل ہوگئے ہیں۔
نقل مکانی کرنے والوں نے پولیس و رینجرز کی کارروائی پر شدید تحفطات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب لیاری گینگ وار کے مسلح گروپوں کے درمیان خونی تصادم جاری تھا اور کئی مطلوب ملزمان آزادانہ جدید ہتھیاروں سے لیس سڑکوں پر دنداناتے ہوئے گھوم رہے تھے اس وقت تو رینجرز حرکت میں آئی نہ ہی پولیس کو اتنی ہمت ہوئی کہ وہ ان علاقوں کا محاصرہ کر کے ان درندہ صفت لیاری گینگ وار کے ملزمان کو پکڑ لیتے۔ جب کئی افراد اپنی زندگی کی بازی ہار گئے تو بھاری نفری بھی طلب کرلی گئی اور محاصرے بھی شروع ہوگئے۔ اگر یہی کارروائی اس وقت کرلی جاتی تو شاید آج لیاری کی صورتحال مختلف ہوتی اور ہمیں نقل مکانی نہیں کرنا پڑتی۔ دریں اثنا اتوار کی شب فائرنگ کا نشانہ بننے والی بارات بغدادی کے علاقے نیا آباد مدینہ مسجد سے لیاری ریکسر لائن آئی تھی۔
واقعے کے بعد باراتیوں نے متضاد بیانات دیتے ہوئے بتایا تھا کہ بارات حیدر آباد سے آئی تھی۔ ذرائع کا کہنا ہے فائرنگ سے کار میں موجود شخص زاہد پٹھان کا تعلق عذیر جان بلوچ گروپ سے بتایا جاتا ہے جبکہ پولیس ذرائع کو عینی شاہدین نے بتایا کہ بابا لاڈلہ موٹر سائیکلوں پر سوار اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ آیا تھا اور رخصتی کے بعد جب کار جا رہی تھی تو انھوں نے اندھا دھند فائرنگ کر دی اور موقع سے فرار ہوگئے۔ دوران علاج جاں بحق ہونے والے مزمل کے پیٹ اور ٹانگ پر گولیاں لگی تھیں جبکہ دلہن رباب کے پاؤں پر گولی لگی تھی۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ فائرنگ کا واقعہ لیاری گینگ وار کا نتیجہ ہے جسے ذاتی دشمنی قرار دیا جا رہا ہے۔بغدادی کے علاقے بلوچستان ہوٹل کے قریب پولیس اور رینجرز سے مقابلے کے دوران لیاری گینگ وار کے انتہائی مطلوب وصی اﷲ لاکھو گروپ سے تعلق رکھنے والا ذیشان عرف بلا مارا گیا جبکہ پولیس اوررینجرز لیاری گینگ وار کے دیگر ملزمان کے تعاقب میں علاقے میں داخل ہوگئی اور مختلف علاقوں کا محاصرہ کرلیا جو رات گئے تک جاری رہا ، پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ رینجرز نے لیاری گینگ وار کے 6 ملزمان کو بھی گرفتار کر کے اسلحہ برآمد کرلیا ، ذیشان عرف بلا کی ہلاکت کی اطلاع پھیل جانے پر لیاری کے مختلف علاقوں میں نامعلوم ملزمان کی جانب سے بھی شدید فائرنگ کی گئی ۔
رینجرز اور پولیس کی گشت اور متعدد علاقوں کے محاصروں جاری رہا جبکہ علاقے میں بدستور خوف و ہراس کی فضا بھی قائم رہی اور لوگوں کی بڑی تعداد گھروں میں محصور رہی۔ دوسری جانباتوار کی شب نیپئر کے علاقے لیمارکیٹ کے قریب دولہا کی کار پر فائرنگ سے شدید زخمی ہونے والے 4 سالہ مزمل ولد اختر نے دوران علاج دم توڑ دیا جس کے بعد واقعے میں ہلاکتوں کی تعداد 2 ہوگئی۔ پولیس کی جانب سے لیاری کے مکینوں میں غذائی اجناس اور خریداری کا موقع بھی فراہم کیا گیا ۔رینجرز کی جانب سے لیاری کو3 زون میں تقسیم کیا گیا ہے۔
جہاں غیر اعلانیہ کرفیو کا سماں پیدا کر کے ٹارگٹڈ آپریشن کیا جائے گا۔ چاکیواڑہ ، آگرہ تاج کالونی ، بہار کالونی پہلا حصہ ، بغدادی اور کلری کے مختلف علاقوں کو دوسرا حصہ جبکہ کلاکوٹ ، افشانی گلی ، ریکسر لائن ، سنگو لین کو تیسرا حصہ قرار دیا گیا ہے۔اس حوالے سے رینجرز کی جانب سے اعلانات بھی کیے گئے ہیں کہ علاقہ مکین ٹارگٹڈ آپریشن کے دوران اپنے اپنے گھروں میں رہیں تاکہ کسی بھی غیر معمولی صورتحال میں کسی بھی بے گناہ شخص کو جانی نقصان سے بچایا جا سکے۔ رات گئے رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری نے بغدادی اور کلری کے مختلف علاقوں کا محاصرہ کر کے تمام داخلی اور خارجی راستوں کو سیل کر کے گھر گھر تلاشی کا عمل شروع کر دیا جبکہ اس دوران نصف درجن سے زائد مشتبہ افراد کو بھی حراست میں لے کر تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ لیاری گینگ وار کے تمام ملزمان اپنے اپنے ٹھکانوں میں موجود اور ان کی جانب سے بھر پور مزاحمت کا بھی خدشہ ہے جبکہ گینگ وار کے ملزمان نے جدید ہتھیاروں سے لیس ہو کر مورچے بھی سنبھال لیے ہیں۔علاقے سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق لیاری گینگ وار کے 2متحارب گروپوں میں علاقے میں بالادستی قائم کرنے کے لیے جاری خونی تصادم اور بے موت مارے جانے کے خوف سے کئی خاندان نقل مکانی کر کے دوسرے علاقوں میں مقیم اپنے رشتے داروں کے گھر منتقل ہوگئے ہیں۔
نقل مکانی کرنے والوں نے پولیس و رینجرز کی کارروائی پر شدید تحفطات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب لیاری گینگ وار کے مسلح گروپوں کے درمیان خونی تصادم جاری تھا اور کئی مطلوب ملزمان آزادانہ جدید ہتھیاروں سے لیس سڑکوں پر دنداناتے ہوئے گھوم رہے تھے اس وقت تو رینجرز حرکت میں آئی نہ ہی پولیس کو اتنی ہمت ہوئی کہ وہ ان علاقوں کا محاصرہ کر کے ان درندہ صفت لیاری گینگ وار کے ملزمان کو پکڑ لیتے۔ جب کئی افراد اپنی زندگی کی بازی ہار گئے تو بھاری نفری بھی طلب کرلی گئی اور محاصرے بھی شروع ہوگئے۔ اگر یہی کارروائی اس وقت کرلی جاتی تو شاید آج لیاری کی صورتحال مختلف ہوتی اور ہمیں نقل مکانی نہیں کرنا پڑتی۔ دریں اثنا اتوار کی شب فائرنگ کا نشانہ بننے والی بارات بغدادی کے علاقے نیا آباد مدینہ مسجد سے لیاری ریکسر لائن آئی تھی۔
واقعے کے بعد باراتیوں نے متضاد بیانات دیتے ہوئے بتایا تھا کہ بارات حیدر آباد سے آئی تھی۔ ذرائع کا کہنا ہے فائرنگ سے کار میں موجود شخص زاہد پٹھان کا تعلق عذیر جان بلوچ گروپ سے بتایا جاتا ہے جبکہ پولیس ذرائع کو عینی شاہدین نے بتایا کہ بابا لاڈلہ موٹر سائیکلوں پر سوار اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ آیا تھا اور رخصتی کے بعد جب کار جا رہی تھی تو انھوں نے اندھا دھند فائرنگ کر دی اور موقع سے فرار ہوگئے۔ دوران علاج جاں بحق ہونے والے مزمل کے پیٹ اور ٹانگ پر گولیاں لگی تھیں جبکہ دلہن رباب کے پاؤں پر گولی لگی تھی۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ فائرنگ کا واقعہ لیاری گینگ وار کا نتیجہ ہے جسے ذاتی دشمنی قرار دیا جا رہا ہے۔بغدادی کے علاقے بلوچستان ہوٹل کے قریب پولیس اور رینجرز سے مقابلے کے دوران لیاری گینگ وار کے انتہائی مطلوب وصی اﷲ لاکھو گروپ سے تعلق رکھنے والا ذیشان عرف بلا مارا گیا جبکہ پولیس اوررینجرز لیاری گینگ وار کے دیگر ملزمان کے تعاقب میں علاقے میں داخل ہوگئی اور مختلف علاقوں کا محاصرہ کرلیا جو رات گئے تک جاری رہا ، پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ رینجرز نے لیاری گینگ وار کے 6 ملزمان کو بھی گرفتار کر کے اسلحہ برآمد کرلیا ، ذیشان عرف بلا کی ہلاکت کی اطلاع پھیل جانے پر لیاری کے مختلف علاقوں میں نامعلوم ملزمان کی جانب سے بھی شدید فائرنگ کی گئی ۔