سینیٹججوں کی تقرری کے طریقہ کار پر نظر ثانی کا مطالبہ
جوڈیشل کمیشن کے پاس اختیارات کی مرکزیت ہے،اعتزاز،سقم دورکیاجائے ،فرحت بابر،عدالتی فیصلے زیربحث لائے جاسکتے ہیں؟چیئرمین
ججوں کی تقرری کے عمل میں پارلیمنٹ کو شامل کرنے کا تجربہ ناکام ہوگیا ہے، اعتزاز احسن۔ فوٹو: فائل
HYDERABAD:
سینیٹ میں پیپلزپارٹی نے اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی تقرری کے لیے طریقہ کار پرنظرثانی کا مطالبہ کردیا ۔
قائد حزب اختلاف بیرسٹراعتزاز احسن نے سینیٹر فرحت اللہ بابر کی جانب سے اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی تقرری کے طریقہ کار سے متعلق تحریک پر بحث کرتے ہوئے کہا کہ 18 ویں ترمیم کی روشنی میں اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی تقرری کے نئے طریقہ کار میں پارلیمانی کمیٹی عضومعطل اورغیرموثر بن کر رہ گئی ہے ، ججوں کی تقرری کے عمل میں پارلیمنٹ کو شامل کرنے کا تجربہ ناکام ہوگیا ہے، جوڈیشل کمیشن کے پاس اختیارات کی مرکزیت ہے، عدالتوں میں پارلیمانی کمیٹی کے فیصلوں کو کالعدم قرار دیا گیا لہٰذا وقت کی ضرورت ہے۔
ان فیصلوں کو پارلیمنٹ کے ذریعے مستردکرکے ایوان میں آئینی ترمیم لائی جائے۔ انھوں نے کہا کہ ججوں کی تقرری میں اب بھی چیف جسٹس کی مشاورت کو وہی فوقیت ہے جو پہلے تھی، پارلیمانی کمیٹی کو جوڈیشل کمیٹی کی جانب سے دیئے گئے ناموں پر غور 14 روز میں مکمل کرنے کا وقت دیا گیا ، اگر کمیٹی اپنا کام مکمل نہ کرسکی تو وہ نام جو جوڈیشل کمیٹی نے بھیجے ہوں گے۔
سینیٹر فرحت اﷲ بابر نے کہا کہ ججوں کی تقرری کے لیے جوآئینی ترمیم کی گئی ، اس کے مقاصد حاصل نہیں ہوسکے ، اس پر ایوان میں بحث کی جائے اور اس سقم کو دور کیا جائے ، ججوں کی نامزدگیوں میں وزیر قانون، بارکونسل اور اٹارنی جنرل کا کردار نہیں، اس طریقہ کار پر نظرثانی کرنی چاہیے ، طریقہ کار ایسا شفاف ہونا چاہیے کہ کسی فرد یا ادارے کی مرضی کے مطابق ججوں کی تقرری نہ ہو ۔ چیئرمین نیئر بخاری نے کہا کہ اس پر ضرور بحث کی جائے۔
سینیٹ میں پیپلزپارٹی نے اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی تقرری کے لیے طریقہ کار پرنظرثانی کا مطالبہ کردیا ۔
قائد حزب اختلاف بیرسٹراعتزاز احسن نے سینیٹر فرحت اللہ بابر کی جانب سے اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی تقرری کے طریقہ کار سے متعلق تحریک پر بحث کرتے ہوئے کہا کہ 18 ویں ترمیم کی روشنی میں اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی تقرری کے نئے طریقہ کار میں پارلیمانی کمیٹی عضومعطل اورغیرموثر بن کر رہ گئی ہے ، ججوں کی تقرری کے عمل میں پارلیمنٹ کو شامل کرنے کا تجربہ ناکام ہوگیا ہے، جوڈیشل کمیشن کے پاس اختیارات کی مرکزیت ہے، عدالتوں میں پارلیمانی کمیٹی کے فیصلوں کو کالعدم قرار دیا گیا لہٰذا وقت کی ضرورت ہے۔
ان فیصلوں کو پارلیمنٹ کے ذریعے مستردکرکے ایوان میں آئینی ترمیم لائی جائے۔ انھوں نے کہا کہ ججوں کی تقرری میں اب بھی چیف جسٹس کی مشاورت کو وہی فوقیت ہے جو پہلے تھی، پارلیمانی کمیٹی کو جوڈیشل کمیٹی کی جانب سے دیئے گئے ناموں پر غور 14 روز میں مکمل کرنے کا وقت دیا گیا ، اگر کمیٹی اپنا کام مکمل نہ کرسکی تو وہ نام جو جوڈیشل کمیٹی نے بھیجے ہوں گے۔
سینیٹر فرحت اﷲ بابر نے کہا کہ ججوں کی تقرری کے لیے جوآئینی ترمیم کی گئی ، اس کے مقاصد حاصل نہیں ہوسکے ، اس پر ایوان میں بحث کی جائے اور اس سقم کو دور کیا جائے ، ججوں کی نامزدگیوں میں وزیر قانون، بارکونسل اور اٹارنی جنرل کا کردار نہیں، اس طریقہ کار پر نظرثانی کرنی چاہیے ، طریقہ کار ایسا شفاف ہونا چاہیے کہ کسی فرد یا ادارے کی مرضی کے مطابق ججوں کی تقرری نہ ہو ۔ چیئرمین نیئر بخاری نے کہا کہ اس پر ضرور بحث کی جائے۔