بین الاقوامی دباؤ پر امریکا نے ٹیلی فونز کی جاسوسی روک دی
رواں سال جنوری کے دوران عرب ممالک میں125ارب فون کالز، ایس ایم ایس اوردوسرے مواصلاتی ذرائع کی مانیٹرنگ کی گئی
امریکی نیشنل سیکیورٹی ایجنسی نے عراق اور ایک اور عرب اتحادی ملک میں جنوری کے دوران 7.8 ارب کی تعداد میں کمیونیکیشنز کو مانیٹر یا ٹیپ کیا۔ فوٹو: فائل
PESHAWAR:
امریکا نے مشرق وسطی میں بھی قریبی اور اتحادی ممالک کی جاسوسی پرمبنی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔
الجزیرہ ٹی وی کے مطابق رواں سال جنوری کے دوران عرب ممالک میں امریکی نیشنل سیکیورٹی ایجنسی نے125ارب فون کالز یا ایس ایم ایس اور اس طرح کے دوسرے مواصلاتی ذرائع کی مانیٹرینگ کی۔ امریکا کا دہشت گردی کے خلاف اتحادی سمجھا جانے والا سعودی عرب مشرق وسطیٰ کے امریکی جاسوسی کے عذاب اور عتاب سے سب زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہے۔ امریکی نیشنل سیکیورٹی ایجنسی نے عراق اور ایک اور عرب اتحادی ملک میں جنوری کے دوران 7.8 ارب کی تعداد میں کمیونیکیشنز کو مانیٹر یا ٹیپ کیا۔
امریکا کے جاسوسی سے متعلق ادارے کے حوالے سے سامنے والے انکشافات کے مطابق اردن اور مصر میں بالترتیب ایک ارب 80 کروڑ اور ایک ارب 60کروڑ فون وغیرہ ٹیپ کیے گئے جبکہ ایران میں یہ تعداد اتحادی اردن سے بھی کم یعنی ایک ارب 70 کروڑ رہی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جن ممالک میں امریکا کی تعلقات کی خرابی کی وجہ سے رسائی مشکل ہوتی ہے وہ ممالک امریکی جاسوسی سے نسبتاً کم متاثر ہوتے ہیں۔ دریں اثنا اسپین نے پیر کو وزارت خارجہ میں امریکی سفیر کو طلب کیا اورامریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان کے شہریوں کی جاسوسی کی مکمل معلومات فراہم کرے' اسپین کے مطابق ان کے6 کروڑ شہریوں کی امریکا نے جاسوسی کی اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو یہ انتہائی ''نامناسب'' اور ناقابل قبول ہے۔
جاپان کی حکومت نے کہا ہے کہ 2011ء میں امریکا نے جاپان سے گزرنے والی فائبر آپٹک تار کی نگرانی میں مدد دینے کے لیے کہا تھا' یہ تار جاپان کے راستے ایشیا پیسیفک خطے تک جاتے ہیں۔دوسری طرف امریکی اخبار''وال اسٹریٹ جنرل'' کی خبر کے مطابق امریکا کی نیشنل سیکیورٹی ایجنسی(این ایس اے) نے دنیا کے35 رہنماؤں کے ٹیلی فون ٹیپ کیے تھے اور وائٹ ہاؤس کو اس پروگرام کا علم ہونے کے بعد این ایس اے نے اپنا بیشتر آپریشن روک دیا۔
عہدیداروں نے بتایا کہ این ایس اے کے جاسوسی کے آپریشنز کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ ان سب کے بارے میں صدر کو آگاہ کرنا عملی طور پر ممکن نہیں ہو سکتا۔ اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے پیر کو اپنی رپورٹ میں نام ظاہر کیے بغیر امریکی عہدیداروں کے حوالے سے کہا ہے کہ صدر اوباما کو چند ماہ قبل ہوئے داخلی جائزے کے بعد ہی نگرانی کے اس معاملے کا عمل ہوا۔ تاہم جرمنی کے ایک اخبار ''بلڈ ایم سونٹیگ'' کے مطابق اْسے ایک دوسرے عہدیدار نے بتایا کہ صدر باراک اوباما کو2010ء میں این ایس اے کی طرف سے بریفنگ دی گئی جس میں انھیں جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکل کے موبائل فون کی نگرانی سے آگاہ کیا گیا لیکن این ایس اے اس کی تردید کرتی آئی ہے کہ جرمن چانسلر کی نگرانی کے مبینہ معاملے پرکبھی صدر اوباما سے بات چیت کی گئی ہو۔
امریکا نے مشرق وسطی میں بھی قریبی اور اتحادی ممالک کی جاسوسی پرمبنی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔
الجزیرہ ٹی وی کے مطابق رواں سال جنوری کے دوران عرب ممالک میں امریکی نیشنل سیکیورٹی ایجنسی نے125ارب فون کالز یا ایس ایم ایس اور اس طرح کے دوسرے مواصلاتی ذرائع کی مانیٹرینگ کی۔ امریکا کا دہشت گردی کے خلاف اتحادی سمجھا جانے والا سعودی عرب مشرق وسطیٰ کے امریکی جاسوسی کے عذاب اور عتاب سے سب زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہے۔ امریکی نیشنل سیکیورٹی ایجنسی نے عراق اور ایک اور عرب اتحادی ملک میں جنوری کے دوران 7.8 ارب کی تعداد میں کمیونیکیشنز کو مانیٹر یا ٹیپ کیا۔
امریکا کے جاسوسی سے متعلق ادارے کے حوالے سے سامنے والے انکشافات کے مطابق اردن اور مصر میں بالترتیب ایک ارب 80 کروڑ اور ایک ارب 60کروڑ فون وغیرہ ٹیپ کیے گئے جبکہ ایران میں یہ تعداد اتحادی اردن سے بھی کم یعنی ایک ارب 70 کروڑ رہی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جن ممالک میں امریکا کی تعلقات کی خرابی کی وجہ سے رسائی مشکل ہوتی ہے وہ ممالک امریکی جاسوسی سے نسبتاً کم متاثر ہوتے ہیں۔ دریں اثنا اسپین نے پیر کو وزارت خارجہ میں امریکی سفیر کو طلب کیا اورامریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان کے شہریوں کی جاسوسی کی مکمل معلومات فراہم کرے' اسپین کے مطابق ان کے6 کروڑ شہریوں کی امریکا نے جاسوسی کی اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو یہ انتہائی ''نامناسب'' اور ناقابل قبول ہے۔
جاپان کی حکومت نے کہا ہے کہ 2011ء میں امریکا نے جاپان سے گزرنے والی فائبر آپٹک تار کی نگرانی میں مدد دینے کے لیے کہا تھا' یہ تار جاپان کے راستے ایشیا پیسیفک خطے تک جاتے ہیں۔دوسری طرف امریکی اخبار''وال اسٹریٹ جنرل'' کی خبر کے مطابق امریکا کی نیشنل سیکیورٹی ایجنسی(این ایس اے) نے دنیا کے35 رہنماؤں کے ٹیلی فون ٹیپ کیے تھے اور وائٹ ہاؤس کو اس پروگرام کا علم ہونے کے بعد این ایس اے نے اپنا بیشتر آپریشن روک دیا۔
عہدیداروں نے بتایا کہ این ایس اے کے جاسوسی کے آپریشنز کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ ان سب کے بارے میں صدر کو آگاہ کرنا عملی طور پر ممکن نہیں ہو سکتا۔ اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے پیر کو اپنی رپورٹ میں نام ظاہر کیے بغیر امریکی عہدیداروں کے حوالے سے کہا ہے کہ صدر اوباما کو چند ماہ قبل ہوئے داخلی جائزے کے بعد ہی نگرانی کے اس معاملے کا عمل ہوا۔ تاہم جرمنی کے ایک اخبار ''بلڈ ایم سونٹیگ'' کے مطابق اْسے ایک دوسرے عہدیدار نے بتایا کہ صدر باراک اوباما کو2010ء میں این ایس اے کی طرف سے بریفنگ دی گئی جس میں انھیں جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکل کے موبائل فون کی نگرانی سے آگاہ کیا گیا لیکن این ایس اے اس کی تردید کرتی آئی ہے کہ جرمن چانسلر کی نگرانی کے مبینہ معاملے پرکبھی صدر اوباما سے بات چیت کی گئی ہو۔