پاکستان کی عالمی کریڈٹ ریٹنگ مستحکم
موڈیز نے گزشتہ روزجاری کردہ اپنی رپورٹ میں پاکستان کی ساورن کریڈٹ ریٹنگ کی ’’بی تھری‘‘ کے طورپرنئے سرے سے تصدیق کی ہے۔
موڈیز نے گزشتہ روز جاری کردہ اپنی رپورٹ میں پاکستان کی ساورن کریڈٹ ریٹنگ کی ’’بی تھری‘‘ کے طور پر نئے سرے سے تصدیق کی ہے۔ فوٹو: فائل
بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے پاکستان کا معاشی آؤٹ لک ''منفی'' سے بدل کر ''مستحکم'' کر دیا ہے۔ موڈیز نے گزشتہ روز جاری کردہ اپنی رپورٹ میں پاکستان کی ساورن کریڈٹ ریٹنگ کی ''بی تھری'' کے طور پر نئے سرے سے تصدیق کی ہے۔ موڈیزکی طرف سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت پاکستان نے بین الاقوامی ادائیگیوں کی صورتحال بہتر کی ہے۔
مثبت اقدامات کی بدولت معاشی صورتحال میں بہتری کے آثار نمایاں ہیں۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ حکومتی پالیسیوں سے محسوس ہو رہا ہے کہ پاکستان کی ادائیگیوں کی صورتحال میں مزید بہتری آئیگی۔
رپورٹ کے مطابق کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی، پالیسی فریم ورک اور دیگر اقدامات کی وجہ سے پاکستان میں معاشی صورتحال کے لیے بیرونی خطرات میں کمی رہے گی، تاہم غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو بڑھنے میں کچھ وقت لگے گا۔ ادائیگیوں کے توازن میں بہتری کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔
بلاشبہ مستحکم معیشت اور اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کی مجموعی اطلاعات خوش آیند ہیں۔ اس کا نفسیاتی اثر عوام پر یقیناً مثبت ہو گا، تاہم اس کے دیرپا مضمرات اور حقیقی معاشی نتائج کا اندازہ عوام کو پہنچنے والے اقتصادی ثمرات سے ہی ہو گا۔ ملکی سیاسی صورت حال کے جمود اور غیر متعین جمہوری ماحول کے فقدان کے باعث ابھی عوام کو فیصلہ کرنا ہے کہ موجودہ معاشی ''متھ'' کی حقیقت کیا ہے اور جمہوری ثمرات کی اس سست رفتار کے ساتھ ان تک فراہمی کے امکانات کتنے ہیں۔
لہذا معاشی ماہرین کو معیشت کے استحکام اور اقتصادی بہتری کے خوشخبری کے ساتھ ایک بڑے اقتصادی روڈ میپ کو عوام سے جڑنے کی ضرورت ہے، تا کہ جو کچھ بھی ملکی معیشت کی بہتری اور استقامت کے لیے کوششیں ہو رہی ہیں ان کا عوام کو فائدہ پہنچے، مہنگائی کم ہو، روزگارکے مواقعے ملنے کے آثار وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے منصوبوں کی تکمیل کی شکل میں ان کو نظر آ جائیں، لوگ اب ٹھوس نتائج دیکھنا چاہتے ہیں، پیراڈائم شفٹ کے منتظر ہیں۔
وعدوں اور نعروں یا اخباری بیانات پر ان کی تشویش اور اضطراب میں کمی نہیں آئے گی، وہ میکرو اکنامک ثمرات سے مستفید ہونے کے لیے بے چین ہیں، تنگ دستی اور غربت نے عام آدمی کو حکومت کی طفل تسلیوں سے بے نیاز کر دیا ہے، یہ کھردری معاشی حقیقت ہے اسے حکمراں معاشی استحکام کی پیشرفت کے خواب کے ساتھ ہی شرمندہ تعبیر کر دیں، ہو سکتا ہے ان کی زندگی میں عملی طور پر کچھ آسودگی آ جائے کیونکہ 71سال کا فرسودہ اور استحصالی معاشی منظر نامہ اگر بدلنا ہے تو عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کچھ تو کرنا پڑے گا۔
دریں اثناء بین الاقوامی ریٹنگ کمپنی موڈیز کی جانب سے پاکستان کی آؤٹ لک ریٹنگ منفی سے مستحکم کیے جانے اور اقتصادی افق پر مثبت اطلاعات کے باعث پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں پیر کو تیزی کی بڑی لہر رونما ہونے سے انڈیکس 9 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا جب کہ ایک روزہ کاروباری حجم کے اعداد و شمار بھی ڈھائی سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے۔
تیزی کے سبب 74.32 فیصد کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں بڑھ گئیں جب کہ حصص کی مالیت میں108 ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس سے مارکیٹ کی سرمایہ کاری مالیت میں ایک کھرب 16 ارب 82 کروڑ31 لاکھ روپے بڑھ گئے اور کاروباری حجم بھی گزشتہ ٹریڈنگ سیشن کی نسبت 29 فیصد زائد رہا۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومتی اقدامات سے معیشت مستحکم ہو رہی ہے، انھوں نے ہدایت کی کہ ملک میں نوجوان کے لیے روزگار کے مواقعے پیدا کرنے پر توجہ دی جائے۔ مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے ٹویٹر پر ایک پیغام میں کہا کہ موڈیز کی جانب سے پاکستانی معیشت کا آؤٹ لک مثبت اور مستحکم قرار دینا موجودہ حکومت کی معاشی اصلاحات کے ایجنڈا پر اعتماد کا اظہار ہے، اور حکومت معاشی اصلاحات کے ایجنڈے پرگامزن رہے گی جب کہ تیز تر پائیدار اور یکساں معاشی ترقی کو مضبوط بنیاد پر استوار کریں گے۔ وزیرمنصوبہ بندی اسد عمر نے کہا پاکستان کا آؤٹ لک منفی سے مستحکم ہونا حکومت کی کامیاب پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔
انھوں نے کہا کہ کس نے معیشت تباہ کی اورکس نے اسے بحال کیا ، اس کا فیصلہ فیصلہ عوام کریں۔ لیکن اس سے بھی بڑے فیصلے ابھی حکومت کو کرنا ہیں، بقول وزیراعظم ملک ایک اہم دوراہے پر کھڑا ہے، گڈ گورننس میں وفاقی بیوروکریسی مثال قائم کرے۔ سیاسی قیادت اور بیوروکریسی نے ملکی مستقبل کا تعین کرنا ہے۔
مذکورہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ درآمدات میں کمی کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو کم رکھنے میں اہم کردار ادا کرے گی جب کہ بجلی کے جاری منصوبوں کی تکمیل سے بھی درآمدات میں کمی آئے گی اور بجلی کی پیداوار میں ڈیزل کے بجائے کوئلہ ، قدرتی گیس کے استعمال اور پن بجلی کی پیداوار کی وجہ سے بتدریج تیل کی درآمدات بھی کم ہوں گی۔ موڈیز نے کہا کہ پچھلے18ماہ کے دوران ایکسچینج ریٹ میں ردوبدل کی وجہ سے برآمدات میں بتدریج اضافے کی وجہ سے بھی کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی کی وجہ ہے۔
اسٹیٹ بینک کو مضبوط بنانے اور کرنسی میں لچک پیدا کرنے سمیت پالیسی اقدامات سے بیرونی معاشی خطرات میں کمی لانے میں مدد ملے گی۔ حکومت نیا اسٹیٹ بینک ایکٹ متعارف کرانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے تا کہ حکومتی قرضوں کے لیے مرکزی بینک کی فنانسنگ روکی جا سکے۔ پاکستان کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پچھلے کچھ ماہ کے دوران سات سے آٹھ ارب ڈالر کے لگ بھگ رہے ہیں جو کہ دو سے اڑھائی ماہ تک اشیاء کی درآمد کے لیے کافی ہیں۔ موڈیز نے توقع ظاہرکی ہے کہ مالی سال 2019-20 میں مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے8.6 فیصد کے لگ بھگ رہے گا جوکہ 2018-19میں 8.9 فیصد تھا اور اسے 2021-23 تک تقریباً7 فیصد تک لایا جائے گا۔
جی ڈی پی کے تناسب سے حکومت کا ریونیو بڑھنے کا امکان ہے اور ٹیکس کا دائرہ بڑھانے کے لیے مالیاتی حکام نے کئی ٹیکس استثنیٰ اور رعایتیں ختم کی ہیں اور انکم ٹیکس کے لیے کم ازکم تھریش ہولڈ میں کمی لائی ہے۔ حکام ٹیکس چوری روکنے اور سیلز ٹیکس کا دائرہ بڑھانے کے لیے آٹو میٹک انکم ٹیکس فائلنگ کا نظام بھی متعارف کرا رہے ہیں۔ آئی ایم ایف اور عالمی بینک کی حمایت سے ریونیو اقدامات موثر بنائے جا سکتے ہیں تاہم موڈیز نے یہ تخمینہ لگایا کہ اقتصادی نمو کے ماحول میں آئی ایم ایف پروگرام کے تحت مقررکیا جانے والا ریونیو کا ہدف مکمل طور پر حاصل کرنا ایک چیلنج ہو گا۔
چیلنجز بہت سے ہیں، سوالات اور توقعات کا ایک چڑھتا دریا ہے، قوم سیاست اور معیشت کی تنگ گلی میں ہے، بڑی تبدیلی نہیں آئی، کوئی کسی چینی ماڈل اور مہاتیر محمد کی معاشی تدابیر و حکمت کی جھلک ملکی اقتصادی تصویر کشی میں نظر نہیںآتی ، خبر ہے کہ بھارت پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کی راہ میں روڑے اٹکا رہا ہے، دنیا بھر میں بھارتی سفارت خانوں میں قائم سیل سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری سے ڈرا رہے ہیں، ادھر ترسیلا ت زر سے متعلق اسٹیٹ بینک کے اقدامات پر کرنسی ڈیلرز نے تشویش ظاہر کی ہے، ان کا کہنا ہے کہ ترسیلا ت زر بہتر نہیں ہو سکتیں۔
ہمارے اقتصادی رپورٹرز کے اقتصادی جائزے میں کہا گیا ہے کہ مالی سال 2019-20میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے مجموعی طور پر 164 ارب روپے ترقیاتی سرگرمیوں میں خرچ کیے، یہ رقم اس سے نصف ہے جو وفاق اور تمام صوبے خرچ کر سکتے تھے، یہی وجہ ہے کہ معاشی سرگرمیاں سست رفتاری کا شکار ہو گئیں۔ رپورٹ کے مطابق حکومت بچت کی تھیوری پر کام کر رہی ہے، جب کہ ضرورت ملک میں انڈسٹریلائزیشن اور روزگار کے مواقعے مہیا کرنے اور مہنگائی ختم کرنے کی ہے۔ معاشی مسیحا حکومت کی رہنمائی کریں۔ اسی میں بھلائی ہے۔
مثبت اقدامات کی بدولت معاشی صورتحال میں بہتری کے آثار نمایاں ہیں۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ حکومتی پالیسیوں سے محسوس ہو رہا ہے کہ پاکستان کی ادائیگیوں کی صورتحال میں مزید بہتری آئیگی۔
رپورٹ کے مطابق کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی، پالیسی فریم ورک اور دیگر اقدامات کی وجہ سے پاکستان میں معاشی صورتحال کے لیے بیرونی خطرات میں کمی رہے گی، تاہم غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو بڑھنے میں کچھ وقت لگے گا۔ ادائیگیوں کے توازن میں بہتری کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔
بلاشبہ مستحکم معیشت اور اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کی مجموعی اطلاعات خوش آیند ہیں۔ اس کا نفسیاتی اثر عوام پر یقیناً مثبت ہو گا، تاہم اس کے دیرپا مضمرات اور حقیقی معاشی نتائج کا اندازہ عوام کو پہنچنے والے اقتصادی ثمرات سے ہی ہو گا۔ ملکی سیاسی صورت حال کے جمود اور غیر متعین جمہوری ماحول کے فقدان کے باعث ابھی عوام کو فیصلہ کرنا ہے کہ موجودہ معاشی ''متھ'' کی حقیقت کیا ہے اور جمہوری ثمرات کی اس سست رفتار کے ساتھ ان تک فراہمی کے امکانات کتنے ہیں۔
لہذا معاشی ماہرین کو معیشت کے استحکام اور اقتصادی بہتری کے خوشخبری کے ساتھ ایک بڑے اقتصادی روڈ میپ کو عوام سے جڑنے کی ضرورت ہے، تا کہ جو کچھ بھی ملکی معیشت کی بہتری اور استقامت کے لیے کوششیں ہو رہی ہیں ان کا عوام کو فائدہ پہنچے، مہنگائی کم ہو، روزگارکے مواقعے ملنے کے آثار وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے منصوبوں کی تکمیل کی شکل میں ان کو نظر آ جائیں، لوگ اب ٹھوس نتائج دیکھنا چاہتے ہیں، پیراڈائم شفٹ کے منتظر ہیں۔
وعدوں اور نعروں یا اخباری بیانات پر ان کی تشویش اور اضطراب میں کمی نہیں آئے گی، وہ میکرو اکنامک ثمرات سے مستفید ہونے کے لیے بے چین ہیں، تنگ دستی اور غربت نے عام آدمی کو حکومت کی طفل تسلیوں سے بے نیاز کر دیا ہے، یہ کھردری معاشی حقیقت ہے اسے حکمراں معاشی استحکام کی پیشرفت کے خواب کے ساتھ ہی شرمندہ تعبیر کر دیں، ہو سکتا ہے ان کی زندگی میں عملی طور پر کچھ آسودگی آ جائے کیونکہ 71سال کا فرسودہ اور استحصالی معاشی منظر نامہ اگر بدلنا ہے تو عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کچھ تو کرنا پڑے گا۔
دریں اثناء بین الاقوامی ریٹنگ کمپنی موڈیز کی جانب سے پاکستان کی آؤٹ لک ریٹنگ منفی سے مستحکم کیے جانے اور اقتصادی افق پر مثبت اطلاعات کے باعث پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں پیر کو تیزی کی بڑی لہر رونما ہونے سے انڈیکس 9 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا جب کہ ایک روزہ کاروباری حجم کے اعداد و شمار بھی ڈھائی سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے۔
تیزی کے سبب 74.32 فیصد کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں بڑھ گئیں جب کہ حصص کی مالیت میں108 ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس سے مارکیٹ کی سرمایہ کاری مالیت میں ایک کھرب 16 ارب 82 کروڑ31 لاکھ روپے بڑھ گئے اور کاروباری حجم بھی گزشتہ ٹریڈنگ سیشن کی نسبت 29 فیصد زائد رہا۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومتی اقدامات سے معیشت مستحکم ہو رہی ہے، انھوں نے ہدایت کی کہ ملک میں نوجوان کے لیے روزگار کے مواقعے پیدا کرنے پر توجہ دی جائے۔ مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے ٹویٹر پر ایک پیغام میں کہا کہ موڈیز کی جانب سے پاکستانی معیشت کا آؤٹ لک مثبت اور مستحکم قرار دینا موجودہ حکومت کی معاشی اصلاحات کے ایجنڈا پر اعتماد کا اظہار ہے، اور حکومت معاشی اصلاحات کے ایجنڈے پرگامزن رہے گی جب کہ تیز تر پائیدار اور یکساں معاشی ترقی کو مضبوط بنیاد پر استوار کریں گے۔ وزیرمنصوبہ بندی اسد عمر نے کہا پاکستان کا آؤٹ لک منفی سے مستحکم ہونا حکومت کی کامیاب پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔
انھوں نے کہا کہ کس نے معیشت تباہ کی اورکس نے اسے بحال کیا ، اس کا فیصلہ فیصلہ عوام کریں۔ لیکن اس سے بھی بڑے فیصلے ابھی حکومت کو کرنا ہیں، بقول وزیراعظم ملک ایک اہم دوراہے پر کھڑا ہے، گڈ گورننس میں وفاقی بیوروکریسی مثال قائم کرے۔ سیاسی قیادت اور بیوروکریسی نے ملکی مستقبل کا تعین کرنا ہے۔
مذکورہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ درآمدات میں کمی کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو کم رکھنے میں اہم کردار ادا کرے گی جب کہ بجلی کے جاری منصوبوں کی تکمیل سے بھی درآمدات میں کمی آئے گی اور بجلی کی پیداوار میں ڈیزل کے بجائے کوئلہ ، قدرتی گیس کے استعمال اور پن بجلی کی پیداوار کی وجہ سے بتدریج تیل کی درآمدات بھی کم ہوں گی۔ موڈیز نے کہا کہ پچھلے18ماہ کے دوران ایکسچینج ریٹ میں ردوبدل کی وجہ سے برآمدات میں بتدریج اضافے کی وجہ سے بھی کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی کی وجہ ہے۔
اسٹیٹ بینک کو مضبوط بنانے اور کرنسی میں لچک پیدا کرنے سمیت پالیسی اقدامات سے بیرونی معاشی خطرات میں کمی لانے میں مدد ملے گی۔ حکومت نیا اسٹیٹ بینک ایکٹ متعارف کرانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے تا کہ حکومتی قرضوں کے لیے مرکزی بینک کی فنانسنگ روکی جا سکے۔ پاکستان کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پچھلے کچھ ماہ کے دوران سات سے آٹھ ارب ڈالر کے لگ بھگ رہے ہیں جو کہ دو سے اڑھائی ماہ تک اشیاء کی درآمد کے لیے کافی ہیں۔ موڈیز نے توقع ظاہرکی ہے کہ مالی سال 2019-20 میں مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے8.6 فیصد کے لگ بھگ رہے گا جوکہ 2018-19میں 8.9 فیصد تھا اور اسے 2021-23 تک تقریباً7 فیصد تک لایا جائے گا۔
جی ڈی پی کے تناسب سے حکومت کا ریونیو بڑھنے کا امکان ہے اور ٹیکس کا دائرہ بڑھانے کے لیے مالیاتی حکام نے کئی ٹیکس استثنیٰ اور رعایتیں ختم کی ہیں اور انکم ٹیکس کے لیے کم ازکم تھریش ہولڈ میں کمی لائی ہے۔ حکام ٹیکس چوری روکنے اور سیلز ٹیکس کا دائرہ بڑھانے کے لیے آٹو میٹک انکم ٹیکس فائلنگ کا نظام بھی متعارف کرا رہے ہیں۔ آئی ایم ایف اور عالمی بینک کی حمایت سے ریونیو اقدامات موثر بنائے جا سکتے ہیں تاہم موڈیز نے یہ تخمینہ لگایا کہ اقتصادی نمو کے ماحول میں آئی ایم ایف پروگرام کے تحت مقررکیا جانے والا ریونیو کا ہدف مکمل طور پر حاصل کرنا ایک چیلنج ہو گا۔
چیلنجز بہت سے ہیں، سوالات اور توقعات کا ایک چڑھتا دریا ہے، قوم سیاست اور معیشت کی تنگ گلی میں ہے، بڑی تبدیلی نہیں آئی، کوئی کسی چینی ماڈل اور مہاتیر محمد کی معاشی تدابیر و حکمت کی جھلک ملکی اقتصادی تصویر کشی میں نظر نہیںآتی ، خبر ہے کہ بھارت پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کی راہ میں روڑے اٹکا رہا ہے، دنیا بھر میں بھارتی سفارت خانوں میں قائم سیل سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری سے ڈرا رہے ہیں، ادھر ترسیلا ت زر سے متعلق اسٹیٹ بینک کے اقدامات پر کرنسی ڈیلرز نے تشویش ظاہر کی ہے، ان کا کہنا ہے کہ ترسیلا ت زر بہتر نہیں ہو سکتیں۔
ہمارے اقتصادی رپورٹرز کے اقتصادی جائزے میں کہا گیا ہے کہ مالی سال 2019-20میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے مجموعی طور پر 164 ارب روپے ترقیاتی سرگرمیوں میں خرچ کیے، یہ رقم اس سے نصف ہے جو وفاق اور تمام صوبے خرچ کر سکتے تھے، یہی وجہ ہے کہ معاشی سرگرمیاں سست رفتاری کا شکار ہو گئیں۔ رپورٹ کے مطابق حکومت بچت کی تھیوری پر کام کر رہی ہے، جب کہ ضرورت ملک میں انڈسٹریلائزیشن اور روزگار کے مواقعے مہیا کرنے اور مہنگائی ختم کرنے کی ہے۔ معاشی مسیحا حکومت کی رہنمائی کریں۔ اسی میں بھلائی ہے۔