پاکستان نئے ہتھیاروں سے پروٹیز پر وار کیلیے تیار
کنڈیشنز ہمارے لیے نئی نہیں، فائدہ اٹھانے کیلیے پُراعتماد ہیں (مصباح )میچز کی اچھی طرح تیاری نہیں کرپائے،ڈی ویلیئرز
اوپننگ ناصر جمشید اور احمد شہزاد کریں گے، عمر اکمل کو وکٹ کیپنگ گلوز بھی سنبھالنے کی ذمہ داری سونپے جانے کا امکان۔ فوٹو: اے ایف پی
KARACHI:
پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان 5 ون ڈے انٹرنیشنل میچز کی سیریز کا آغاز بدھ سے شارجہ میں ہورہا ہے، گرین شرٹس پروٹیز پر نئے ہتھیاروں سے وار کرنے کیلیے تیار ہیں۔
دبئی ٹیسٹ میں شکست کا حساب چکتا کرنے کا پلان بھی بنالیا، کھلاڑی جنوبی افریقہ سے کبھی سیریز نہ جیتنے کی روایت بدلنے کیلیے بے قرار ہیں، اوپننگ ناصر جمشید اور احمد شہزاد کریں گے، عمر اکمل کو وکٹ کیپنگ گلوز بھی سنبھالنے کی ذمہ داری سونپے جانے کا امکان ہے، تین پیسرز کے ساتھ حملہ آور ہونے کی صورت میں سہیل تنویر موقع پا سکتے ہیں، شاہد آفریدی سے فیورٹ گرائونڈ پر دھوم مچانے کی توقعات وابستہ کر لی گئیں، کپتان مصباح الحق کا کہنا ہے کہ یہاں کی کنڈیشنز ہمارے لیے نئی نہیں، ان سے فائدہ اٹھانے کیلیے پُراعتماد ہیں۔ دوسری جانب جنوبی افریقہ بھی ایک روزہ مقابلے میں ناکامیوں کے طول پکڑتے سلسلے پر بند باندھنے کا خواہاں ہے، ٹاپ آرڈر پرگریم اسمتھ کا ساتھ دینے کیلیے کولن انگرام اور کونٹین ڈی کاک میں مقابلہ ہے، کپتان ابراہم ڈی ویلیئرز نے کہاکہ ہمارا اولین مقصد سیریز میں1-0 کی برتری حاصل کرنا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان نے جنوبی افریقہ کے خلاف کبھی باہمی سیریز نہیں جیتی مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ کئی بار قریب پہنچ کر ٹیم آخر میں ہمت ہارگئی، عالمی کرکٹ میں پروٹیز کو چوکرز کہا جاتا ہے مگر اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ باہمی ایک روزہ سیریز میں ہمیشہ چوک پاکستان سے ہی ہوئی،اب تک دونوں ٹیموں میں 6 سیریز ہوئیں، ان میں سے 4 کا فیصلہ آخری میچ پر گیا، ہر بار بازی جنوبی افریقہ نے ہی ماری لیکن اب پروٹیز کی حالت اس طرز میں زیادہ بہتر نہیں، وہ رواں برس 18 میں 10 ٹیسٹ ہار چکا، حال ہی میں سری لنکا نے بھی اپنے ملک میں پروٹیز کو 4-1 کی شکست سے دوچار کیا، اسی وجہ سے ٹیم نے بہتری کیلیے سابق کوچ گیری کرسٹن سے مدد طلب کی جو اسی سیریز میں کچھ دنوں کیلیے پلیئرزکو جوائن کرنے والے ہیں، پاکستان رواں برس اب تک بھارت، ویسٹ انڈیز اور زمبابوے کو باہمی سیریز میں شکست دے چکا تاہم سال کے آغاز پر پروٹیز کیخلاف2-3 سے ناکامی بھی ملی تھی۔
رواں سال اب تک گرین شرٹس نے 20 سے زائد میچز کھیلے مگر صرف تین بیٹسمین ہی 300 سے زائد رنز اسکور کرپائے،ان میں مصباح الحق ٹاپ پر ہیں۔ پاکستانی ٹیم دبئی ٹیسٹ میں شرمناک شکست کی وجہ سے کافی غصے میں ہے اور جنوبی افریقہ کو سبق سکھانے کی تیاری کر لی گئی، اس سلسلے میں نئے ہتھیاروں سے پروٹیز پر حملہ کیا جائے گا، ٹاپ آرڈر پر ناصر جمشید اور احمد شہزاد جبکہ ون ڈائون پر حفیظ کھیلیں گے، مصباح الحق ایک بار پھر دیوار کا کردار ادا کرنے کیلیے موجود ہیں، اسپیشلسٹ وکٹ کیپر سرفراز کی موجودگی کے باوجود عمر اکمل کو ہی گلوز تھما کر اسد شفیق کی جگہ بنائی جاسکتی ہے، شاہد آفریدی اپنے پسندیدہ اسٹیڈیم پر پھر شائقین کو محظوظ کرنے کیلیے موجود ہوں گے، پاکستان نے اگر تین پیسرز کے ساتھ میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا تب عرفان اور جنید کے ساتھ سہیل تنویر کو موقع مل سکتا ہے۔
میچ سے قبل کپتان مصباح الحق نے کہاکہ ہم یہاں پر بہت زیادہ کرکٹ کھیل چکے اور پلیئرز کنڈیشنز سے اچھی طرح واقف ہیں، ہم نے یہاں کئی مقابلے جیتے اوراس بار بھی ویسا ہی بہترین کھیل پیش کریں گے، انھوں نے کہا کہ جنوبی افریقہ اچھی ٹیم اور اس کے پاس میچ کا پانسہ پلٹنے والے پلیئرز موجود ہیں، ٹیسٹ کے بعد ون ڈے میں بھی ان سے سخت مقابلہ ہوگا۔ دوسری جانب جنوبی افریقہ کو ہاشم آملا اور ڈیل اسٹین کا ساتھ حاصل نہیں ہے،آملا کی جگہ ٹاپ آرڈر پر کولن انگرام اور ڈی کاک کے درمیان مقابلہ ہو گا،کپتان اے بی ڈی ویلیئرز کا کہنا ہے کہ ہم ون ڈے میچز کی اچھی طرح تیاری نہیں کرپائے اس لیے کھلاڑیوں کو ذہنی مضبوطی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان 5 ون ڈے انٹرنیشنل میچز کی سیریز کا آغاز بدھ سے شارجہ میں ہورہا ہے، گرین شرٹس پروٹیز پر نئے ہتھیاروں سے وار کرنے کیلیے تیار ہیں۔
دبئی ٹیسٹ میں شکست کا حساب چکتا کرنے کا پلان بھی بنالیا، کھلاڑی جنوبی افریقہ سے کبھی سیریز نہ جیتنے کی روایت بدلنے کیلیے بے قرار ہیں، اوپننگ ناصر جمشید اور احمد شہزاد کریں گے، عمر اکمل کو وکٹ کیپنگ گلوز بھی سنبھالنے کی ذمہ داری سونپے جانے کا امکان ہے، تین پیسرز کے ساتھ حملہ آور ہونے کی صورت میں سہیل تنویر موقع پا سکتے ہیں، شاہد آفریدی سے فیورٹ گرائونڈ پر دھوم مچانے کی توقعات وابستہ کر لی گئیں، کپتان مصباح الحق کا کہنا ہے کہ یہاں کی کنڈیشنز ہمارے لیے نئی نہیں، ان سے فائدہ اٹھانے کیلیے پُراعتماد ہیں۔ دوسری جانب جنوبی افریقہ بھی ایک روزہ مقابلے میں ناکامیوں کے طول پکڑتے سلسلے پر بند باندھنے کا خواہاں ہے، ٹاپ آرڈر پرگریم اسمتھ کا ساتھ دینے کیلیے کولن انگرام اور کونٹین ڈی کاک میں مقابلہ ہے، کپتان ابراہم ڈی ویلیئرز نے کہاکہ ہمارا اولین مقصد سیریز میں1-0 کی برتری حاصل کرنا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان نے جنوبی افریقہ کے خلاف کبھی باہمی سیریز نہیں جیتی مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ کئی بار قریب پہنچ کر ٹیم آخر میں ہمت ہارگئی، عالمی کرکٹ میں پروٹیز کو چوکرز کہا جاتا ہے مگر اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ باہمی ایک روزہ سیریز میں ہمیشہ چوک پاکستان سے ہی ہوئی،اب تک دونوں ٹیموں میں 6 سیریز ہوئیں، ان میں سے 4 کا فیصلہ آخری میچ پر گیا، ہر بار بازی جنوبی افریقہ نے ہی ماری لیکن اب پروٹیز کی حالت اس طرز میں زیادہ بہتر نہیں، وہ رواں برس 18 میں 10 ٹیسٹ ہار چکا، حال ہی میں سری لنکا نے بھی اپنے ملک میں پروٹیز کو 4-1 کی شکست سے دوچار کیا، اسی وجہ سے ٹیم نے بہتری کیلیے سابق کوچ گیری کرسٹن سے مدد طلب کی جو اسی سیریز میں کچھ دنوں کیلیے پلیئرزکو جوائن کرنے والے ہیں، پاکستان رواں برس اب تک بھارت، ویسٹ انڈیز اور زمبابوے کو باہمی سیریز میں شکست دے چکا تاہم سال کے آغاز پر پروٹیز کیخلاف2-3 سے ناکامی بھی ملی تھی۔
رواں سال اب تک گرین شرٹس نے 20 سے زائد میچز کھیلے مگر صرف تین بیٹسمین ہی 300 سے زائد رنز اسکور کرپائے،ان میں مصباح الحق ٹاپ پر ہیں۔ پاکستانی ٹیم دبئی ٹیسٹ میں شرمناک شکست کی وجہ سے کافی غصے میں ہے اور جنوبی افریقہ کو سبق سکھانے کی تیاری کر لی گئی، اس سلسلے میں نئے ہتھیاروں سے پروٹیز پر حملہ کیا جائے گا، ٹاپ آرڈر پر ناصر جمشید اور احمد شہزاد جبکہ ون ڈائون پر حفیظ کھیلیں گے، مصباح الحق ایک بار پھر دیوار کا کردار ادا کرنے کیلیے موجود ہیں، اسپیشلسٹ وکٹ کیپر سرفراز کی موجودگی کے باوجود عمر اکمل کو ہی گلوز تھما کر اسد شفیق کی جگہ بنائی جاسکتی ہے، شاہد آفریدی اپنے پسندیدہ اسٹیڈیم پر پھر شائقین کو محظوظ کرنے کیلیے موجود ہوں گے، پاکستان نے اگر تین پیسرز کے ساتھ میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا تب عرفان اور جنید کے ساتھ سہیل تنویر کو موقع مل سکتا ہے۔
میچ سے قبل کپتان مصباح الحق نے کہاکہ ہم یہاں پر بہت زیادہ کرکٹ کھیل چکے اور پلیئرز کنڈیشنز سے اچھی طرح واقف ہیں، ہم نے یہاں کئی مقابلے جیتے اوراس بار بھی ویسا ہی بہترین کھیل پیش کریں گے، انھوں نے کہا کہ جنوبی افریقہ اچھی ٹیم اور اس کے پاس میچ کا پانسہ پلٹنے والے پلیئرز موجود ہیں، ٹیسٹ کے بعد ون ڈے میں بھی ان سے سخت مقابلہ ہوگا۔ دوسری جانب جنوبی افریقہ کو ہاشم آملا اور ڈیل اسٹین کا ساتھ حاصل نہیں ہے،آملا کی جگہ ٹاپ آرڈر پر کولن انگرام اور ڈی کاک کے درمیان مقابلہ ہو گا،کپتان اے بی ڈی ویلیئرز کا کہنا ہے کہ ہم ون ڈے میچز کی اچھی طرح تیاری نہیں کرپائے اس لیے کھلاڑیوں کو ذہنی مضبوطی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔