بھتہ نہ دینے پر ٹرانسپورٹ کمپنی کے دفتر پر کریکر سے حملہ

کمپنی کے دفتر کے باہر کھڑے 2 منی ٹرکوں کو نقصان پہنچا ،گھروں کے شیشے ٹوٹ گئے

ٹرانسپورٹرزاور شہری کریکرحملے اوربھتہ خوری کے خلاف شارع فیصل پراحتجاج کررہے ہیں ۔ فوٹو : ایکسپریس

پی ای سی ایچ ایس میں ٹرانسپورٹ کمپنی کے دفتر پر بھتہ نہ دینے پر نامعلوم ملزمان کریکر پھینک کر فرار ہو گئے جو زور دار دھماکے سے پھٹ گیا ۔

جس کے باعث علاقے میں خوف وہراس پھیل گیا ، ٹرانسپورٹ کمپنی کے دفتر پرکریکر حملے کے خلاف شاہراہ فیصل پر احتجاج کیاگیا جس کے باعث ٹریفک جام ہو گیا ، تفصیلات کے مطابق ٹیپو سلطان تھانے کی حدود میں پی ای سی ایچ ایس بلاک6 باب خیبر روڈ ای مارکیٹ کے قریب پلاٹ نمبرE-110 پر قائم ایم جی ڈی نامی ٹرانسپورٹ کمپنی کے دفتر پر نامعلوم ملزمان کریکر پھینک کر فرار ہو گئے جو زوردار دھماکے سے پھٹ گیا جس کی آواز دور تک سنائی دی، دھماکے کے نتیجے میں ٹرانسپورٹ کمپنی کے دفتر کے باہر کھڑے 2 منی ٹرکوں کو نقصان پہنچا ۔

جبکہ قریب رہائشی گھروں اور عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، اطلاع ملنے پر پولیس، رینجرز اور رضا کار تنظیموں کے کارکن موقع پر پہنچ گئے جبکہ پولیس اور رینجرز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا جس کے بعد پولیس نے فوری طور پر بم ڈسپوزل اسکواڈ کو طلب کر لیا ، پولیس حکام کے مطابق کریکر حملے میں کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ، موقع پر پہنچنے والے بم ڈسپوزل اسکواڈ کے اہلکاروں نے بتایا کہ ٹرانسپورٹ کمپنی کے دفتر پر کریکر سے حملہ کیا گیا تھا اور کریکر دیسی ساختہ تھا جس میں200 گرام دھماکا خیز مواد موجود تھا۔


بعد ازاں بم ڈسپوزل اسکواڈ نے علاقے کی تلاشی کے بعد علاقے کو کلیئر قرار دے دیا ، واقعے کی اطلاع ملنے پر ٹرانسپورٹ کمپنی کے مالک انور علی ولد مدار شاہ بھی موقع پر پہنچ گئے ، انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ دفتر پر ایک سال کے دوران چوتھی بار حملہ کیا گیا ، آخری مرتبہ عید سے قبل بھتے کی پرچی بھیجی گئی تھی جس کی اطلاع انھوں نے علاقہ پولیس ، سی پی ایل سی اور دیگر اداروں کوکردی تھی ، انھوں نے بتایا کہ کالعدم تنظیم کی جانب سے20 لاکھ روپے بھتہ طلب کیا گیا تھا اور نہ دینے پر ان کے دفتر پر حملہ کیا گیا جن موبائل فون نمبر سے ملزمان کی کالز آئی تھیں وہ متعلقہ حکام کو دیے گئے تھے۔



لیکن ملزمان دوسرے نمبروں سے انہیں فون کالز کر رہے ہیں انھوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس ، رینجرز اور دیگر ادارے فوری طو پر ان کے دفتر پر حملے کرنے اور بھتہ طلب کر نے والے ملزمان کو گرفتار کر کے انہیں منطقعی انجام تک پہنچائیں، دوسری جانب پولیس حکام نے ایکسپریس کو بتایا کہ ٹرانسپورٹ کمپنی کے دفتر پر حملہ بھتہ نہ دینے پرکیا گیا اور پولیس نے ٹرانسپورٹ کمپنی کے دفتر پر حملے کا مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کردی، اسی ٹرانسپورٹ کمپنی کے دفتر پر 28 اگست کو بھی بھتہ نہ دینے پر حملہ کیا گیا تھا اور پولیس نے اس سلسلے میں مختلف چھاپہ مار کارروائیوں میں متعدد افراد کو حراست میں بھی لیا تھا۔

تحقیقات میں وہ افراد بے قصور پائے تھے جنہیں بعد میں چھوڑ دیا گیا ، ٹرانسپورٹ کمپنی کے حملے کے خلاف ٹرانسپورٹر اور علاقہ مکینوں کی جانب سے شاہراہ فیصل پر نرسری بس اسٹاپ کے قریب احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، مظاہرے میں بھتہ خوروں اور دستی بم حملوں میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا شاہراہ فیصل پر احتجاج کے باعث ایئر پورٹ سے میٹرو پول آنے والی شاہراہ فیصل پر بدترین ٹریفک جام ہوگیا اور شاہراہ فیصل پر گاڑیوں کی لمبی گاڑی لگ لگی جس کے باعث ٹریفک جام میں پھنسے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، بعدازاں پولیس نے موقع پر پہنچ کر احتجاجی مظاہرین سے مذاکرات کے بعد شاہراہ فیصل ٹریفک کے لیے کھوا دی اور احتجاجی مظاہرین پر امن طریقے سے منتشر ہو گئے۔
Load Next Story