الیکشن ٹریبونل نے7درخواستوں کی سماعت ملتوی کردی

فاروق ستار کی جانب سے جوابی بیان داخل نہ کرنے پرالیکشن ٹریبونل کااظہار ناراضگی

عبدالحفیظ کی کامیابی کیخلاف درخواست میں وکلا نے 2گواہان پر جرح مکمل کرلی فوٹو: فائل

الیکشن ٹریبونل کراچی میں منگل کو انتخابی دھاندلیوں کے خلاف دائر 7درخواستوں کی سماعت مختلف تاریخوں تک ملتوی کردی گئی۔

این اے 249 سے ایم کیوایم کے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر فاروق ستار کی جانب سے منگل کو بھی تحریری جوابی بیان داخل نہ کرنے پر الیکشن ٹریبونل نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے بدھ کو جوابی بیان داخل کرنے کا حکم جاری کیا، قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 252 ، این اے 253، این اے 257، پی ایس 119، پی ایس 93 میں دھاندلی سے متعلق درخواستوں کی سماعت مختلف تاریخوں تک ملتوی کردیں، تفصیلات کے مطابق الیکشن ٹریبونل کراچی میں این اے 249میں پیپلزپارٹی کے امیدوار عزیز میمن کی دائر کردہ درخواست کی سماعت ہوئی ۔


عزیز میمن نے ایم کیوایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار کی کامیابی کو چیلنج کیا ہے، ڈاکٹر فاروق ستار الیکشن ٹریبونل میں پیش نہیں ہوئے اور ان کے وکیل نے جوابی تحریری بیان داخل کرنے کی لیے مزید مہلت مانگی جس پر سماعت آج تک ملتوی کردی گئی، این اے 257سے ایم کیوایم کے رکن قومی اسمبلی ساجد احمد کی کامیابی کے خلاف جماعت اسلامی کے امیدوار کی درخواست 7نومبر تک ملتوی کردی گئی، این اے 253سے ایم کیوایم کے مزمل قریشی کی کامیابی کے خلاف جماعت اسلامی کے اسد اللہ بھٹو کی درخواست 6نومبر تک ملتوی کردی گئی۔



الیکشن ٹریبونل نے پی ایس 119سے ایم کیوایم کے رکن صوبائی اسمبلی ارتضیٰ فاروقی کی کامیابی کے خلاف جماعت اسلامی کے راشد منان کی درخواست کی سماعت 9نومبر تک ملتوی کردی، پی ایس 93میں سماعت کے دوران فریقین کے وکلا نے دوگواہان پر جرح مکمل کرلی جس پر الیکشن ٹریبونل نے سماعت 19نومبر تک ملتوی کردی، اس حلقے سے جماعت اسلامی کے امیدوار عبدالرزاق نے تحریک انصاف کے رکن صوبائی اسمبلی عبدالحفیظ کی کامیابی کو چیلنج کیا، این اے 252سے جماعت اسلامی کے محمد حسین محنتی اور تحریک انصاف کے علی حیدر زیدی نے علیحدہ درخواستوں میں ایم کیوایم کے رکن قومی اسمبلی عبدالرشید گوڈیل کی کامیابی کو چیلنج کیا ہے، درخواست گذاروں کے وکلا نے ٹریبونل میں موقف اختیار کیا ہے کہ این اے252سے متعلق جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کی درخواست کی مشترکہ سماعت کی جائے کیونکہ الزامات اور ثبوت یکساں ہیں۔
Load Next Story