آئی جی کا حکم نظر انداز69پولیس افسران و اہلکاروں نے رینج پولیس میں رپورٹ نہیں کی

متعلقہ حکام نے یہ جاننے کی کوشش ہی نہیں کی کہ اہلکاراب تک اسپیشل برانچ میں کس وجہ سے ڈیوٹیاں انجام دے رہے ہیں

افسران و اہلکار مبینہ طور پر رشوت ، کلریکل اسٹاف اور دیگر عملے کی مبینہ ملی بھگت سے اپنا تبادلہ رکوانے کیلیے سرگرم ہیں۔ فوٹو: فائل

آئی جی سندھ شاہد ندیم بلوچ کی جانب سے اسپیشل برانچ کے 69 پولیس افسران و اہلکاروں کو فوری طور پرکراچی رینج پولیس میں رپورٹ کرنے کی ہدایت جاری کی گئی تھیں ۔

اسپیشل برانچ کے افسران و اہلکار آئی جی سندھ کے واضح احکام کے باوجود کراچی رینج پولیس میں رپورٹ نہیں کی ، ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی جی سندھ شاہد ندیم بلوچ کی جانب سے دیے جانے والے احکام کے بعد اسٹیبلیشمنٹ ڈویژن نے لیٹر نمبر 14447-55/E-VI جاری کیا جس میں ہدایت جاری کی گئیں کہ اسپیشل برانچ کے مختلف شعبوں میں تعینات 69 پولیس افسران و اہلکار کراچی رینج پولیس میں رپورٹ کریں ، آئی جی سندھ کی واضح ہدایات اور خط کے اجرا کے باوجود اسپیشل برانچ کے افسران و اہلکار مبینہ طور پر رشوت ، کلریکل اسٹاف اور دیگر عملے کی مبینہ ملی بھگت سے اپنا تبادلہ رکوانے کیلیے سرگرم ہیں۔




اسپیشل برانچ میں ہی اپنی ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں ، پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی جی کے حکم کے بعد اسٹیبلیشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری ہونے والے لیٹرکے بعد اس حوالے سے یہ جاننے کی کوشش ہی نہیں کی گئی کہ جن69 پولیس افسران واہلکاروں کوکراچی رینج پولیس میں رپورٹ کرنے کی ہدایت دی گئی تھی ، وہ اب تک اسپیشل برانچ میں کیوں اور کس وجہ سے ڈیوٹیاں انجام دے رہے ہیں ، آخر ایسی کیا وجہ ہے کہ وہ کراچی رینج پولیس میں جانے سے گھبرا رہے ہیں،ذرائع کا کہنا ہے آئی جی سندھ کی جانب سے تاکید کی گئی ہے کہ کراچی پولیس میں نفری کی کمی کو دور کرنے کے لیے ایسے گھوسٹ ملازمین کا بھی فوری سراغ لگایا جا ئے جو بغیرکسی کام کے پابندی سے تنخواہ اور دیگر مراعات حاصل کررہے ہیں ، ایسے پولیس افسران و اہلکاروں کی فہرست مرتب کی جائے تاکہ ان کی تعیناتی کو کار آمد بنایا جاسکے ۔
Load Next Story