سیکریٹری بلدیات سندھ سے غیرقانونی تعمیرات سے متعلق رائے طلب

آباد نے سندھ بلڈنگ کنٹرول آرڈیننس پر عمل درآمد کیلیے اقدامات کرنے کی استدعا کر دی

نشاندہی پر حکومت حرکت میں آگئی، سیکریٹری سندھ نے سیکریٹری بلدیات کو مراسلہ بھیج دیا

ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز(آباد)کی کراچی میں غیرقانونی اور ناقص تعمیرات کی ممکنہ قدرتی آفت کی شدت برداشت کی سکت نہ رکھنے کی نشاندہی پرسندھ حکومت حرکت میں آ گئی جب کہ چیف سیکریٹری سندھ نے سیکریٹری بلدیات سندھ سے غیرقانونی تعمیرات سے متعلق رائے طلب کرلی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ چیف سیکریٹری سندھ کی جانب سے سیکریٹری بلدیات سندھ کو بھیجے گئے مراسلے میں کہاگیاہے کہ آباد کی جانب سے سندھ باالخصوص کراچی میں غیرقانونی طور پر تعمیرکی جانے والی عمارتوں سے لاکھوں قیمتی جانوں کوخطرے کی نشاندہی کرتے ہوئے صوبے میں سندھ بلڈنگ کنٹرول آرڈیننس مجریہ 1979 پر عمل درآمد کیلیے مطلوبہ اقدامات بروئے کار لانے کی استدعا کی ہے لہٰذا سیکریٹری بلدیات سندھ آباد کی تجاویز کے حوالے رائے فراہم کریں۔


یہاں یہ امر قابل ذکرہے کہ ڈھائی کروڑ آبادی کاحامل شہر قائدغیرقانونی تعمیرات کے کنکریٹ کے بے ہنگم جنگل میں تبدیل ہو رہا ہے اور شہر کے دامن میں سیکڑوں کی تعداد میں واقع کچی آبادیوں میں تعمیرات کی بھرمار اور بنیادی قواعد و ضوابط سے کھلی روگردانی خطرے کی گھنٹی ہے۔

آباد کے چئیرمین محسن شیخانی نے ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے چیف سیکریٹری سندھ کی غیرقانونی اور بے ہنگم تعمیرات کے انسداد میں دلچسپی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہاکہ سندھ بلڈنگ کنٹرول آرڈیننس مجریہ 1979پر عمل درآمد نہ ہونے اور بلڈنگ بائی لاز کی مسلسل خلاف ورزیوں سے شہر میں منظم تعمیراتی انڈسٹری کے مقابلے میں غیرقانونی تعمیرات اب بڑی صنعت بن چکی ہے جن کی تعمیرکردہ عمارتیں اپنے ناقص میٹرئل کی وجہ سے 6.5 شدت کے زلزلے کو برادشت نہیں کر پائیں گی لیکن اس گھمبیر صورتحال کے باوجود شہر میں کچی آبادیوں کا قیام، غیرمعیاری اورناقص تعمیراتی سرگرمیاں بلارکاوٹ جاری ہیں۔
Load Next Story