’’مائے نی میریئے خدائے‘‘
عباس اطہر کے کلام اور پاک بھارت گلوکاروں کی آواز کے سنگم سے تخلیق پانے والا البم ریلیز
ملک کے نامورصحافی ، کالم نگار اور’’روزنامہ ایکسپریس‘‘ کے گروپ ایڈیٹرعباس اطہرکے لکھے گئے گیت کے البم مائے نی‘ کوبھارت اورپاکستان سمیت دنیا کے بیشترممالک میں بیک وقت ریلیز کردیا گیا۔ فوٹو: فائل
پاکستان اوربھارت کے درمیان بہترتعلقات کے حوالے سے ہمیشہ مختلف مکاتب فکر کی اہم شخصیات نے کوششیں جاری رکھی ہیں۔
66برس کے دوران کبھی سیاسی اورکبھی ثقافتی وفودکی ملاقاتیں ہوتی رہی ہیں توکبھی کرکٹ اورہاکی کے ذریعے بہترتعلقات کی راہیں تلاش کی جاتی رہی ہیں۔ اس سلسلہ میں سب سے زیادہ اہم کردارفنون لطیفہ اورادب سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے ادا کیا ہے۔ بھارت اورپاکستان کے فنکاراورادبی شخصیات کے ایک دوسرے سے بہترین تعلقات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔
پاکستانی فنکاربالی وڈ میں کام کرتے ہیں جبکہ معروف شعراء کے کلام کو بھارت کے معروف گائیک بڑے شوق سے ریکارڈ کراتے ہیں۔ اسی طرح بھارتی فنکار پاکستانی پراجیکٹس میں کام کرتے ہیں اوروہ دونوں ممالک کے درمیان کھڑی نفرت کی دیوار کوگرانے میں ہر پلیٹ فارم پربات بھی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
ایسی ہی ایک عمدہ کوشش ہمارے ملک کے نامورصحافی ، کالم نگار اور''روزنامہ ایکسپریس'' کے گروپ ایڈیٹرعباس اطہرنے بھی کی ہے۔ یہ بات توپاکستان اوربیرون ممالک میںبسنے والے لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ عباس اطہرایک بہترین کالم نگاراورصحافی ہیں لیکن وہ اتنے اچھے شاعربھی ہونگے اس سے بہت کم لوگ واقف ہیں۔ بلاشبہ عباس اطہر پاکستان کے نصابی، کتابی اورعملی صحافت کی بہت محترم شخصیت ہیں۔
بعض لوگ توانہیں صحافت کا رومانوی کرداربھی سمجھتے ہیں۔ ''احمد ندیم قاسمی نے کہا تھا کہ '' وہ جتنا بڑا صحافی ہے اس سے کہیں بڑا شاعرہے''۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ عباس اطہر نے اپنی تمام توجہ صحافتی امورکو انجام دینے پرمرکوزرکھی اگروہ کل وقتی شاعری کرتے توآج نتائج کچھ اور ہوتے، نہ انھوں نے شاعری کو وقت دیااورنہ ہی اس کی مارکیٹنگ کی۔ جیسے عام طورپرکیا جاتا ہے۔
عباس اطہرجب 'روزنامہ ایکسپریس' سے وابستہ ہوئے توسینئرصحافی طاہرسرورمیر نے ان کی شاعری پڑھنے کے بعد انہیں آئیڈیا دیا کہ اس کو پاکستان اوربھارت کے معروف گلوکاروںکی آواز میں ریکارڈ کروانا چاہئے۔ 6برس قبل اس پراجیکٹ پرکام شروع ہوا۔اس کی کمپوزیشن اورارینجمنٹ ساجدحسین المعروف چھکوخاں نے کی جبکہ اس کی ریکارڈنگ لاہور اورممبئی کے مقامی اسٹوڈیو میں وقفے وقفے سے ہوتی رہی۔
'مائے نی' کوبھارت اورپاکستان سمیت دنیا کے بیشترممالک میں بیک وقت ریلیز کردیا گیا ہے اوراس البم کے ٹائٹل سانگ 'مائے نی میریئے خدائے' کا ویڈیو مختلف ممالک کے میوزک چینلز سے آن ائیر ہونے کے ساتھ ساتھ سوشل ویب سائٹ 'یوٹیوب' پر بھی لوگوں کی توجہ کامرکز بنا ہواہے۔
اس گیت کوبھارتی بھنگڑا کنگ دلیر مہدی، ہنس راج ہنس ، سردول سکندر، جواد احمد، شاہدہ منی، فریحہ پرویز، حمیرا ارشد، صنم ماروی، رفاقت علی خاں، جاوید بشیر اورساجد حسین چھکوخاں نے گایا اورعکسبندکروایا ہے۔
اس کے علاوہ البم میں گلوکار جواد احمد نے ''کڑیے توں جگ''، جاوید بشیر نے 'بہتیاں ونگاں'، فواداحمد نے ' چھلہ' ، سردول سکندر اور نصیبولعل نے 'وسیوں کیڑے دیس'، رفاقت علی خاں نے 'رانجھا عاشق' شاہدہ منی نے 'اک لعل گواچاسندھڑی دا'، گلوکارہ صنم ماروی اورحمیراارشد نے 'پیپلاں دیاں ٹھنڈیاں' گیت ریکارڈ کرائے ہیں۔ ' مائے نی ' میں اپنی آواز کا جادوجگانے والے پاکستان اوربھارت کے معروف گلوکاروں نے اپنے خیالات کااظہاربھی کیا ہے جوقارئین کی نذرہے۔
''نمائندہ ایکسپریس'' سے گفتگوکرتے ہوئے بھارتی پنجاب سے تعلق رکھنے والے بھنگڑا کنگ دلیر مہدی نے بتایاکہ پاکستان سے میرا رشتہ بڑاانوکھا ہے۔ جب پہلی مرتبہ پاکستان آنے کا موقع ملاتو یہاں پہنچنے کے بعد میری زندگی میں کچھ ایسے حسین دوستوں کااضافہ ہواجن سے اب مرتے دم تک تعلق ختم نہیں ہوسکتا۔ انہی میں ایک نام معروف صحافی طاہرسرورمیر کا ہے ۔ انھوں نے مجھے پاکستان اور بھارت کے بہتر تعلقات کیلئے ایک گرینڈ پراجیکٹ آفرکیا۔
اس پراجیکٹ کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے میرے دیرینہ دوست نے جب البم میں شامل کلام سنایا تومیں دنگ رہ گیا، میری آنکھیں نم ہوگئیں اورمیں نے فوراً اس کلام کولکھنے والے شاعر کے بارے میں پوچھا تو طاہرمیر نے بتایا کہ اس کلام کو پاکستان کے ممتاز صحافی عباس اطہر نے تحریرکیا۔ انھوں نے مختصر دورانیے میں عباس اطہرالمعروف شاہ جی کا اتنا بھرپور تعارف کروایا کہ میں پھر کوئی دوسرا سوال نہ کرسکا۔
یہ میرے لئے اعزاز کی بات تھی کہ میںصحافت اورادب کی دنیا کی اتنی بڑی شخصیت کے کلام کو ریکارڈ کروانے جارہا تھا۔ ان کے کلام میں ماں اوراولاد کے رشتے کے ساتھ ساتھ اس دھرتی سے ہمارے رشتے کو بھی بیان کیا گیاہے، جہاں ہم بستے اورخوشحال ہوتے ہیں ۔ ایسی دھرتی کو انسان کیا دے سکتا ہے۔ میں نے اپنے دوست کو درخواست کی کہ وہ مجھے فوری طور پرعباس اطہر کا تحریرکردہ دیوان بھجوائیں ۔
ایسا ہی ہوا اورمجھے کچھ روز بعد ایک پارسل موصول ہوا جس میں دیوان موجود تھا۔ اس کو پڑھنے کے بعد مجھے یوں محسوس ہونے لگا کہ میں بابابلھے شاہ یا وارث شاہ کا کلام پڑھ رہا ہوں۔ مجھے شاہ جی کا کلام پڑھ کرلگا کہ جیسے انھوں نے اپنی شاعری میں نئے رجحانات، سیاست، ثقافت اوراس دھرتی کی معاشرت کوبیان کیا ہے۔ اس پر میں نے طاہرسرورمیر کاشکریہ ادا کیا کہ انھوں نے مجھے اس پراجیکٹ میں شامل ہونے کا موقع دیا ، وگرنہ میں اس اہم پراجیکٹ سے محروم رہ جاتا۔
انھوں نے کہاکہ اس البم میں میرے علاوہ بھارت کے معروف گلوکار ہنس راج ہنس اور سردول سکندر نے بھی اپنی آواز کا جادو جگایاہے۔ ریکارڈ کئے جانیوالے یونیورسل گیت ''مائے نی میریئے خدائے'' میں جہاں پاکستان میں بسنے والوں کو مجھ سمیت ہنس راج ہنس اورسردول سکندر اچھے لگ رہے ہیں وہیںہندوستان میں بھی یہ بڑا خوش کن احساس ہے کہ دونوں ملکوں کے فنکار پہلی مرتبہ ایک ساتھ ہیں اور گیت کے ذریعے امن ، محبت، بھائی چارے اوردوستی کا پیغام عام کررہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ایک بات جو اس پراجیکٹ کو سب سے منفرد کرتی ہے کہ پاکستان اوربھارت کے وہ عظیم گائیک جواب اس دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں وہ بھی ایسے کسی پراجیکٹ کاحصہ نہیں بن سکے۔ اس اعتبار سے اس تاریخی پراجیکٹ سے وابستہ گلوکار، موسیقار، شاعر، میوزک ارینجراور ویڈیو ڈائریکٹر سمیت تمام لوگ بہت خوش قسمت ہیںجنہوں نے پاک، بھارت تعلقات میں بہتری کیلئے ہونیوالی اس عظیم کاوش میں حصہ لیا۔
گلوکار ہنس راج ہنس نے بھی دلیر مہدی سے ملتے جلتے خیالات کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ میری ہمیشہ سے یہ خواہش رہی ہے کہ میں اچھوتے پراجیکٹس پرکام کروں۔ جب مجھے یہ معلوم ہواہے کہ اس البم کی شاعری پاکستان کے ایک ایسے عظیم شاعرنے کی ہے اوروہ ایک طویل عرصہ سے شعبہ صحافت کی خدمت کررہے ہیں اوران کی دنیا کے بیشتر اہم ایشوز پرگہری نظر ہے تومیں نے یہ ٹھان لیا تھا کہ میں اس پراجیکٹ میں ضرور کام کرونگا۔
یہ میرے لئے عزت کی بات تھی ۔ اس گیت کی کمپوزیشن بھی منفرد تھی اوراس کا میوزک بڑی مہارت سے بین الاقوامی معیار کے عین مطابق تیارکیا گیاتھا۔ میں نے ایک استائی میں ریکارڈکروائی ہے جومیرے لئے پرشاد (تبرک) ہے۔ انھوں نے کہاکہ اس گیت میں شامل تمام گلوکاروں نے بہترین انداز سے گیت ریکارڈ کروائے ہیں۔ میرے نزدیک یہ البم پاکستان اوربھارت کے معروف گلوکاروں کا گلدستہ ہے جو بہترین میوزک اور کلام پسند کرنیو الوں کیلئے رواں سال کا بہترین تحفہ ثابت ہواہے۔
انھوں نے مزید بتایاکہ اس البم میںدھرتی ماں کے غموں اور دکھوں کوبیان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ جو تخریب ہورہی ہے اس کو ختم کیاجائے۔ دیکھا جائے تویہ البم ایک شاہکار ہے جولوگوں کے دلوںمیں ہمیشہ زندہ رہے گا۔ اس کا بہترین کلام اورسچے سروں میںبنی عمدہ کمپوزیشن اس البم کو ہمیشہ امر رکھیں گی۔
گلوکارسردول سکندر نے کہا کہ میں جب سے فن گائیکی سے وابستہ ہوا ہوں اس دوران بہت سے معروف شعراء کرام کے کلام گاچکاہوں اورریکارڈ بھی کرواچکا ہوں لیکن جو انداز عباس اطہر کی شاعری میں ملتا ہے وہ سب سے منفرد ہے۔ میں حیران ہوں کہ انھوں نے کس طرح سے اپنے کلام کے ذریعے پوری دنیا میں امن، محبت اوربھائی چارے کی بات کی ہے۔ وہ کسی ایک مقام کی بات نہیں کرتے بلکہ دھرتی ماں کی عزت اورشان کو شاندارالفاظ میںبیان کرتے ہیں۔
اسی بات کو سامنے رکھتے ہوئے میں نے اس البم میںایک گیت ریکارڈ کروایا جس کو زبردست رسپانس ملا ہے اورالبم کے دوسرے گیتوںکی طرح میرا گیت بھی بہت سراہا جا رہا ہے۔ پاکستان اوربھارت کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب پاکستان اوربھارت کے اتنے سارے گلوکاروں نے مل کرکسی البم کو ریکارڈ کیا ہے اوراس کوبیک وقت بھارت سمیت دنیاکے بیشترممالک میں ریلیز کیا گیاہے۔
گلوکارجواداحمد نے کہا کہ میں اوائل عمری سے عباس اطہر(شاہ جی) سے واقف ہوں ۔ ان کی اخبارات میں شائع ہونیوالی سرخیاں، کالم نگاری نے مجھے ہمیشہ ہی متاثر کیا ہے ۔ جب میں شاہ صاحب سے ملا تو ان سے مل کر ان کے خیالات جان کرحیرت میں ڈوب گیا۔ میری ملاقاتوں کا سلسلہ بڑھنے لگا توایک روز میں نے عباس اطہرکاتحریر کردہ کلام پڑھا جس نے مجھے حیران کردیا۔
انھوں نے کتنی آسانی سے اپنی شاعری میں وہ سب کچھ پیش کیا ہے جو دنیا کے بڑے بڑے دانشوروں نے ہزاروں صفحات پر مشتمل سیاسیات، معاشیات اوردنیا میں غریب اورامیر طبقات کی راحتیں بیان کرنے کیلئے لکھی جانیوالی کتب میں تحریر کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے طاہرسرور میر کے ساتھ مل کر'شاہ جی'کے کلام کوریکارڈ کرنے کا منصوبہ بنایا۔ آج یہ البم ریلیزہوچکا ہے اورپوری دنیا میںاس کو سنا جارہاہے اوراس کا مثبت رسپانس ہم تک ای میلزاورخطوط کے ذریعے ہم تک پہنچ رہاہے ۔ انھوں نے کہا کہ میرے نئے البم میںبھی عباس اطہر کا تحریرکردہ کلام شامل ہوگا۔
گلوکارہ شاہدہ منی نے کہا کہ ''مائے نی '' میں شاعری اورگلوکاروں کی گائیکی کا ورلڈ کپ ہی ہوا ہے۔ میں اللہ تعالیٰ کی شکرگزارہوں کہ میں اس تاریخی پراجیکٹ میں سرخرو ہوئی۔ میں سمجھتی ہوں کہ اس طرح کے پراجیکٹس صدیوں میں بنا کرتے ہیں اورایسے پراجیکٹس کا حصہ بننا ہرکسی کیلئے اعزاز کی بات ہے۔
اس البم کے ریلیزہونے کے بعد جب ویڈیو آن ائیر ہوئے تو موسیقی کے استادوں اورمعرو ف شاعروں نے میرے گائے ہوئے گیت کوبہت سراہا اوران مہان لوگوں کی جانب سے ملنے والی داد میرے لئے 'صدارتی ایوارڈ' کے اعزاز سے کم نہ تھی۔ میں نے البم میںجہاں تمام معروف گلوکاروں کے ساتھ مل کر 'مائے نی' ریکارڈ کروایا تھا وہیں ایک مکمل گیت بھی ریکارڈ کیا جس کو بہت پسند کیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ عباس اطہر(شاہ جی) کا کلام گانا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔ کیونکہ ان کی شاعری کا اندازاتنا نرالہ اورمنفرد ہے کہ اس کو سمجھے بغیر کوئی بھی اسے نہیں گا سکتا۔ میں البم کی کامیابی پرعباس اطہر کومبارکباد پیش کرتی ہوں اوردعا کرتی ہوں کہ وہ اسی طرح بہترین کلام تحریرکرتے رہیں اوراپنی شاعری کے ذریعے محبت، بھائی چارے کاپیغام دنیا تک پہنچاتے رہیں۔
گلوکارہ فریحہ پرویز نے کہا کہ مجھے اس پراجیکٹ سے وابستہ ہونے کے بعد پریشانی کا سامنا تھا کیونکہ ایک طرف پاکستان کے معروف گلوکار تھے تودوسری جانب سرحد پارہمارے پڑوسی ملک بھارت کے مہان سنگرتھے ۔ اس کودیکھتے ہوئے مجھے یوں محسوس ہورہا تھا کہ جیسے گائیکی کا مقابلہ ہے اوراس میں اپنی بہترین پرفارمنس نہ دی توپھر بازی ہار جائونگی لیکن موسیقار ساجد حسین المعروف چھکوخاں نے اتنی مہارت کے ساتھ اس کی کمپوزیشن ترتیب دی تھی کہ جن گلوکاروں نے گیت ' مائے نی' گایا وہ ان کا اپنا سا لگنے لگا۔ اس لئے میں بھی بہت خوش ہوں کہ موسیقی کے اتنے بڑے ایونٹ کا حصہ بنی اوریہ پراجیکٹ صرف پاکستان تک ہی محدود نہیں رہا اس کوپوری دنیا میں سنا جا رہا ہے اورسراہا جا رہا ہے جس سے پاکستان کانام روشن ہورہا ہے۔
گلوکارہ صنم ماروی، حمیراارشد، رفاقت علیخاں، جاوید بشیر، نصیبولعل اورفواد احمد نے کہا کہ 'مائے نی' ہماری زندگی کا ایسایادگارپراجیکٹ ہے جس کی وجہ سے ہمیں بین الاقوامی سطح پر منفرد پہچان ملی ہے۔ ایک طرف توعباس اطہر(شاہ جی) کی شاعری ہے تودوسری طرف البم میں شامل گیتوںکی دھنوں اورمیوزک ارینجمنٹ بھی بہت کمال کی ہے۔
ہم اس سلسلہ میں طاہر سرورمیر کے بھی شکرگزارہیں کہ جنہوںنے ہمیں اس پراجیکٹ کیلئے منتخب کیااورہمیں ایک ایسے پراجیکٹ کا حصہ بنایا جس کی بدولت ہم نے پوری دنیا میںامن، محبت اوربھائی چارے کے پیغام کو پہنچایا ہے۔ ہم سمجھتے ہیںکہ اگراس طرح کے پراجیکٹس بنتے رہیں تو ہم پوری دنیا تک ایک مثبت پیغام پہنچاسکتے ہیں۔
66برس کے دوران کبھی سیاسی اورکبھی ثقافتی وفودکی ملاقاتیں ہوتی رہی ہیں توکبھی کرکٹ اورہاکی کے ذریعے بہترتعلقات کی راہیں تلاش کی جاتی رہی ہیں۔ اس سلسلہ میں سب سے زیادہ اہم کردارفنون لطیفہ اورادب سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے ادا کیا ہے۔ بھارت اورپاکستان کے فنکاراورادبی شخصیات کے ایک دوسرے سے بہترین تعلقات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔
پاکستانی فنکاربالی وڈ میں کام کرتے ہیں جبکہ معروف شعراء کے کلام کو بھارت کے معروف گائیک بڑے شوق سے ریکارڈ کراتے ہیں۔ اسی طرح بھارتی فنکار پاکستانی پراجیکٹس میں کام کرتے ہیں اوروہ دونوں ممالک کے درمیان کھڑی نفرت کی دیوار کوگرانے میں ہر پلیٹ فارم پربات بھی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
ایسی ہی ایک عمدہ کوشش ہمارے ملک کے نامورصحافی ، کالم نگار اور''روزنامہ ایکسپریس'' کے گروپ ایڈیٹرعباس اطہرنے بھی کی ہے۔ یہ بات توپاکستان اوربیرون ممالک میںبسنے والے لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ عباس اطہرایک بہترین کالم نگاراورصحافی ہیں لیکن وہ اتنے اچھے شاعربھی ہونگے اس سے بہت کم لوگ واقف ہیں۔ بلاشبہ عباس اطہر پاکستان کے نصابی، کتابی اورعملی صحافت کی بہت محترم شخصیت ہیں۔
بعض لوگ توانہیں صحافت کا رومانوی کرداربھی سمجھتے ہیں۔ ''احمد ندیم قاسمی نے کہا تھا کہ '' وہ جتنا بڑا صحافی ہے اس سے کہیں بڑا شاعرہے''۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ عباس اطہر نے اپنی تمام توجہ صحافتی امورکو انجام دینے پرمرکوزرکھی اگروہ کل وقتی شاعری کرتے توآج نتائج کچھ اور ہوتے، نہ انھوں نے شاعری کو وقت دیااورنہ ہی اس کی مارکیٹنگ کی۔ جیسے عام طورپرکیا جاتا ہے۔
عباس اطہرجب 'روزنامہ ایکسپریس' سے وابستہ ہوئے توسینئرصحافی طاہرسرورمیر نے ان کی شاعری پڑھنے کے بعد انہیں آئیڈیا دیا کہ اس کو پاکستان اوربھارت کے معروف گلوکاروںکی آواز میں ریکارڈ کروانا چاہئے۔ 6برس قبل اس پراجیکٹ پرکام شروع ہوا۔اس کی کمپوزیشن اورارینجمنٹ ساجدحسین المعروف چھکوخاں نے کی جبکہ اس کی ریکارڈنگ لاہور اورممبئی کے مقامی اسٹوڈیو میں وقفے وقفے سے ہوتی رہی۔
'مائے نی' کوبھارت اورپاکستان سمیت دنیا کے بیشترممالک میں بیک وقت ریلیز کردیا گیا ہے اوراس البم کے ٹائٹل سانگ 'مائے نی میریئے خدائے' کا ویڈیو مختلف ممالک کے میوزک چینلز سے آن ائیر ہونے کے ساتھ ساتھ سوشل ویب سائٹ 'یوٹیوب' پر بھی لوگوں کی توجہ کامرکز بنا ہواہے۔
اس گیت کوبھارتی بھنگڑا کنگ دلیر مہدی، ہنس راج ہنس ، سردول سکندر، جواد احمد، شاہدہ منی، فریحہ پرویز، حمیرا ارشد، صنم ماروی، رفاقت علی خاں، جاوید بشیر اورساجد حسین چھکوخاں نے گایا اورعکسبندکروایا ہے۔
اس کے علاوہ البم میں گلوکار جواد احمد نے ''کڑیے توں جگ''، جاوید بشیر نے 'بہتیاں ونگاں'، فواداحمد نے ' چھلہ' ، سردول سکندر اور نصیبولعل نے 'وسیوں کیڑے دیس'، رفاقت علی خاں نے 'رانجھا عاشق' شاہدہ منی نے 'اک لعل گواچاسندھڑی دا'، گلوکارہ صنم ماروی اورحمیراارشد نے 'پیپلاں دیاں ٹھنڈیاں' گیت ریکارڈ کرائے ہیں۔ ' مائے نی ' میں اپنی آواز کا جادوجگانے والے پاکستان اوربھارت کے معروف گلوکاروں نے اپنے خیالات کااظہاربھی کیا ہے جوقارئین کی نذرہے۔
''نمائندہ ایکسپریس'' سے گفتگوکرتے ہوئے بھارتی پنجاب سے تعلق رکھنے والے بھنگڑا کنگ دلیر مہدی نے بتایاکہ پاکستان سے میرا رشتہ بڑاانوکھا ہے۔ جب پہلی مرتبہ پاکستان آنے کا موقع ملاتو یہاں پہنچنے کے بعد میری زندگی میں کچھ ایسے حسین دوستوں کااضافہ ہواجن سے اب مرتے دم تک تعلق ختم نہیں ہوسکتا۔ انہی میں ایک نام معروف صحافی طاہرسرورمیر کا ہے ۔ انھوں نے مجھے پاکستان اور بھارت کے بہتر تعلقات کیلئے ایک گرینڈ پراجیکٹ آفرکیا۔
اس پراجیکٹ کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے میرے دیرینہ دوست نے جب البم میں شامل کلام سنایا تومیں دنگ رہ گیا، میری آنکھیں نم ہوگئیں اورمیں نے فوراً اس کلام کولکھنے والے شاعر کے بارے میں پوچھا تو طاہرمیر نے بتایا کہ اس کلام کو پاکستان کے ممتاز صحافی عباس اطہر نے تحریرکیا۔ انھوں نے مختصر دورانیے میں عباس اطہرالمعروف شاہ جی کا اتنا بھرپور تعارف کروایا کہ میں پھر کوئی دوسرا سوال نہ کرسکا۔
یہ میرے لئے اعزاز کی بات تھی کہ میںصحافت اورادب کی دنیا کی اتنی بڑی شخصیت کے کلام کو ریکارڈ کروانے جارہا تھا۔ ان کے کلام میں ماں اوراولاد کے رشتے کے ساتھ ساتھ اس دھرتی سے ہمارے رشتے کو بھی بیان کیا گیاہے، جہاں ہم بستے اورخوشحال ہوتے ہیں ۔ ایسی دھرتی کو انسان کیا دے سکتا ہے۔ میں نے اپنے دوست کو درخواست کی کہ وہ مجھے فوری طور پرعباس اطہر کا تحریرکردہ دیوان بھجوائیں ۔
ایسا ہی ہوا اورمجھے کچھ روز بعد ایک پارسل موصول ہوا جس میں دیوان موجود تھا۔ اس کو پڑھنے کے بعد مجھے یوں محسوس ہونے لگا کہ میں بابابلھے شاہ یا وارث شاہ کا کلام پڑھ رہا ہوں۔ مجھے شاہ جی کا کلام پڑھ کرلگا کہ جیسے انھوں نے اپنی شاعری میں نئے رجحانات، سیاست، ثقافت اوراس دھرتی کی معاشرت کوبیان کیا ہے۔ اس پر میں نے طاہرسرورمیر کاشکریہ ادا کیا کہ انھوں نے مجھے اس پراجیکٹ میں شامل ہونے کا موقع دیا ، وگرنہ میں اس اہم پراجیکٹ سے محروم رہ جاتا۔
انھوں نے کہاکہ اس البم میں میرے علاوہ بھارت کے معروف گلوکار ہنس راج ہنس اور سردول سکندر نے بھی اپنی آواز کا جادو جگایاہے۔ ریکارڈ کئے جانیوالے یونیورسل گیت ''مائے نی میریئے خدائے'' میں جہاں پاکستان میں بسنے والوں کو مجھ سمیت ہنس راج ہنس اورسردول سکندر اچھے لگ رہے ہیں وہیںہندوستان میں بھی یہ بڑا خوش کن احساس ہے کہ دونوں ملکوں کے فنکار پہلی مرتبہ ایک ساتھ ہیں اور گیت کے ذریعے امن ، محبت، بھائی چارے اوردوستی کا پیغام عام کررہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ایک بات جو اس پراجیکٹ کو سب سے منفرد کرتی ہے کہ پاکستان اوربھارت کے وہ عظیم گائیک جواب اس دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں وہ بھی ایسے کسی پراجیکٹ کاحصہ نہیں بن سکے۔ اس اعتبار سے اس تاریخی پراجیکٹ سے وابستہ گلوکار، موسیقار، شاعر، میوزک ارینجراور ویڈیو ڈائریکٹر سمیت تمام لوگ بہت خوش قسمت ہیںجنہوں نے پاک، بھارت تعلقات میں بہتری کیلئے ہونیوالی اس عظیم کاوش میں حصہ لیا۔
گلوکار ہنس راج ہنس نے بھی دلیر مہدی سے ملتے جلتے خیالات کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ میری ہمیشہ سے یہ خواہش رہی ہے کہ میں اچھوتے پراجیکٹس پرکام کروں۔ جب مجھے یہ معلوم ہواہے کہ اس البم کی شاعری پاکستان کے ایک ایسے عظیم شاعرنے کی ہے اوروہ ایک طویل عرصہ سے شعبہ صحافت کی خدمت کررہے ہیں اوران کی دنیا کے بیشتر اہم ایشوز پرگہری نظر ہے تومیں نے یہ ٹھان لیا تھا کہ میں اس پراجیکٹ میں ضرور کام کرونگا۔
یہ میرے لئے عزت کی بات تھی ۔ اس گیت کی کمپوزیشن بھی منفرد تھی اوراس کا میوزک بڑی مہارت سے بین الاقوامی معیار کے عین مطابق تیارکیا گیاتھا۔ میں نے ایک استائی میں ریکارڈکروائی ہے جومیرے لئے پرشاد (تبرک) ہے۔ انھوں نے کہاکہ اس گیت میں شامل تمام گلوکاروں نے بہترین انداز سے گیت ریکارڈ کروائے ہیں۔ میرے نزدیک یہ البم پاکستان اوربھارت کے معروف گلوکاروں کا گلدستہ ہے جو بہترین میوزک اور کلام پسند کرنیو الوں کیلئے رواں سال کا بہترین تحفہ ثابت ہواہے۔
انھوں نے مزید بتایاکہ اس البم میںدھرتی ماں کے غموں اور دکھوں کوبیان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ جو تخریب ہورہی ہے اس کو ختم کیاجائے۔ دیکھا جائے تویہ البم ایک شاہکار ہے جولوگوں کے دلوںمیں ہمیشہ زندہ رہے گا۔ اس کا بہترین کلام اورسچے سروں میںبنی عمدہ کمپوزیشن اس البم کو ہمیشہ امر رکھیں گی۔
گلوکارسردول سکندر نے کہا کہ میں جب سے فن گائیکی سے وابستہ ہوا ہوں اس دوران بہت سے معروف شعراء کرام کے کلام گاچکاہوں اورریکارڈ بھی کرواچکا ہوں لیکن جو انداز عباس اطہر کی شاعری میں ملتا ہے وہ سب سے منفرد ہے۔ میں حیران ہوں کہ انھوں نے کس طرح سے اپنے کلام کے ذریعے پوری دنیا میں امن، محبت اوربھائی چارے کی بات کی ہے۔ وہ کسی ایک مقام کی بات نہیں کرتے بلکہ دھرتی ماں کی عزت اورشان کو شاندارالفاظ میںبیان کرتے ہیں۔
اسی بات کو سامنے رکھتے ہوئے میں نے اس البم میںایک گیت ریکارڈ کروایا جس کو زبردست رسپانس ملا ہے اورالبم کے دوسرے گیتوںکی طرح میرا گیت بھی بہت سراہا جا رہا ہے۔ پاکستان اوربھارت کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب پاکستان اوربھارت کے اتنے سارے گلوکاروں نے مل کرکسی البم کو ریکارڈ کیا ہے اوراس کوبیک وقت بھارت سمیت دنیاکے بیشترممالک میں ریلیز کیا گیاہے۔
گلوکارجواداحمد نے کہا کہ میں اوائل عمری سے عباس اطہر(شاہ جی) سے واقف ہوں ۔ ان کی اخبارات میں شائع ہونیوالی سرخیاں، کالم نگاری نے مجھے ہمیشہ ہی متاثر کیا ہے ۔ جب میں شاہ صاحب سے ملا تو ان سے مل کر ان کے خیالات جان کرحیرت میں ڈوب گیا۔ میری ملاقاتوں کا سلسلہ بڑھنے لگا توایک روز میں نے عباس اطہرکاتحریر کردہ کلام پڑھا جس نے مجھے حیران کردیا۔
انھوں نے کتنی آسانی سے اپنی شاعری میں وہ سب کچھ پیش کیا ہے جو دنیا کے بڑے بڑے دانشوروں نے ہزاروں صفحات پر مشتمل سیاسیات، معاشیات اوردنیا میں غریب اورامیر طبقات کی راحتیں بیان کرنے کیلئے لکھی جانیوالی کتب میں تحریر کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے طاہرسرور میر کے ساتھ مل کر'شاہ جی'کے کلام کوریکارڈ کرنے کا منصوبہ بنایا۔ آج یہ البم ریلیزہوچکا ہے اورپوری دنیا میںاس کو سنا جارہاہے اوراس کا مثبت رسپانس ہم تک ای میلزاورخطوط کے ذریعے ہم تک پہنچ رہاہے ۔ انھوں نے کہا کہ میرے نئے البم میںبھی عباس اطہر کا تحریرکردہ کلام شامل ہوگا۔
گلوکارہ شاہدہ منی نے کہا کہ ''مائے نی '' میں شاعری اورگلوکاروں کی گائیکی کا ورلڈ کپ ہی ہوا ہے۔ میں اللہ تعالیٰ کی شکرگزارہوں کہ میں اس تاریخی پراجیکٹ میں سرخرو ہوئی۔ میں سمجھتی ہوں کہ اس طرح کے پراجیکٹس صدیوں میں بنا کرتے ہیں اورایسے پراجیکٹس کا حصہ بننا ہرکسی کیلئے اعزاز کی بات ہے۔
اس البم کے ریلیزہونے کے بعد جب ویڈیو آن ائیر ہوئے تو موسیقی کے استادوں اورمعرو ف شاعروں نے میرے گائے ہوئے گیت کوبہت سراہا اوران مہان لوگوں کی جانب سے ملنے والی داد میرے لئے 'صدارتی ایوارڈ' کے اعزاز سے کم نہ تھی۔ میں نے البم میںجہاں تمام معروف گلوکاروں کے ساتھ مل کر 'مائے نی' ریکارڈ کروایا تھا وہیں ایک مکمل گیت بھی ریکارڈ کیا جس کو بہت پسند کیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ عباس اطہر(شاہ جی) کا کلام گانا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔ کیونکہ ان کی شاعری کا اندازاتنا نرالہ اورمنفرد ہے کہ اس کو سمجھے بغیر کوئی بھی اسے نہیں گا سکتا۔ میں البم کی کامیابی پرعباس اطہر کومبارکباد پیش کرتی ہوں اوردعا کرتی ہوں کہ وہ اسی طرح بہترین کلام تحریرکرتے رہیں اوراپنی شاعری کے ذریعے محبت، بھائی چارے کاپیغام دنیا تک پہنچاتے رہیں۔
گلوکارہ فریحہ پرویز نے کہا کہ مجھے اس پراجیکٹ سے وابستہ ہونے کے بعد پریشانی کا سامنا تھا کیونکہ ایک طرف پاکستان کے معروف گلوکار تھے تودوسری جانب سرحد پارہمارے پڑوسی ملک بھارت کے مہان سنگرتھے ۔ اس کودیکھتے ہوئے مجھے یوں محسوس ہورہا تھا کہ جیسے گائیکی کا مقابلہ ہے اوراس میں اپنی بہترین پرفارمنس نہ دی توپھر بازی ہار جائونگی لیکن موسیقار ساجد حسین المعروف چھکوخاں نے اتنی مہارت کے ساتھ اس کی کمپوزیشن ترتیب دی تھی کہ جن گلوکاروں نے گیت ' مائے نی' گایا وہ ان کا اپنا سا لگنے لگا۔ اس لئے میں بھی بہت خوش ہوں کہ موسیقی کے اتنے بڑے ایونٹ کا حصہ بنی اوریہ پراجیکٹ صرف پاکستان تک ہی محدود نہیں رہا اس کوپوری دنیا میں سنا جا رہا ہے اورسراہا جا رہا ہے جس سے پاکستان کانام روشن ہورہا ہے۔
گلوکارہ صنم ماروی، حمیراارشد، رفاقت علیخاں، جاوید بشیر، نصیبولعل اورفواد احمد نے کہا کہ 'مائے نی' ہماری زندگی کا ایسایادگارپراجیکٹ ہے جس کی وجہ سے ہمیں بین الاقوامی سطح پر منفرد پہچان ملی ہے۔ ایک طرف توعباس اطہر(شاہ جی) کی شاعری ہے تودوسری طرف البم میں شامل گیتوںکی دھنوں اورمیوزک ارینجمنٹ بھی بہت کمال کی ہے۔
ہم اس سلسلہ میں طاہر سرورمیر کے بھی شکرگزارہیں کہ جنہوںنے ہمیں اس پراجیکٹ کیلئے منتخب کیااورہمیں ایک ایسے پراجیکٹ کا حصہ بنایا جس کی بدولت ہم نے پوری دنیا میںامن، محبت اوربھائی چارے کے پیغام کو پہنچایا ہے۔ ہم سمجھتے ہیںکہ اگراس طرح کے پراجیکٹس بنتے رہیں تو ہم پوری دنیا تک ایک مثبت پیغام پہنچاسکتے ہیں۔