کراچی پرقبضے کی جنگ ختم ہونی چاہیے

شہر قائد نے اپنے دامن میں ہر ایک کو پناہ دی، عزت دی، روزگار دیا، چھت دی، چاہے وہ ملک کے کسی علاقے سے آیا ہو یا...

ٹارگٹڈکارروائیوں کے باوجود رواں سال بھتہ خوری100فیصد بڑھ گئی، بھتہ خوروں نے 1217پرچیاں تاجروں،دکانداروں،ہوٹلوں،اسکولوں اور فیکٹری مالکان کو بھیجیں. ۔فوٹو: فائل

شہر قائد نے اپنے دامن میں ہر ایک کو پناہ دی، عزت دی، روزگار دیا، چھت دی، چاہے وہ ملک کے کسی علاقے سے آیا ہو یا بنگلہ دیش، برما یا افغانستان سمیت دیگر ممالک سے، روزگار کی یقینی فراہمی کی بدولت یہ مچھیروں کی بستی دیکھتے ہی دیکھتے ایک بین الاقوامی شہر بن گیا، پاکستان کا معاشی حب۔ لیکن پھر یوں ہوا کہ جیسے اس شہر کو کسی کی نظر لگ گئی، شہر مقتل بن گیا، جرائم کا گڑھ اور مختلف مافیاز کا راج قائم ہوتا چلا گیا قانون کے رکھوالے اندھے اور بہرے بن گئے، پر امن شہریوں کا جینا دشوار ہو گیا، آج جو حال مِنی پاکستان کا ہے اس پر ہر پاکستانی فکرمند ہے، صورتحال کی سنگینی کا ادراک تو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو بھی ہے تب ہی تو انھوں نے منگل کے روز کراچی بدامنی عملدرآمد کیس کی سماعت کے دوران کہا کہ کراچی میں معاشی وسائل پر قبضے کی جنگ ہے،


اسلحے اور منشیات کی اسمگلنگ سے ملنے والی دولت نے کراچی کو بدامنی کا آتش فشاں بنا دیا، بلاشبہ انھوں نے دریا کو کوزے میں بند کرنے والی بات کہی ہے، کیونکہ ایک میگا سٹی میںکئی برسوں سے جاری ٹارگٹ کلنگ میں روزانہ دس تا پندرہ قیمتی جانوں کے ضیاع، بھتہ خوری اور سیاسی مصلحتوں نے جرائم پیشہ گروہوں کے لیے کراچی کو مجرموں کی جنت بنا دیا ہے، منشیات اور اسلحے کی اسمگلنگ کو نہ روکنے کے ذمے دار کسٹمز اورکوسٹ گارڈز کے محکمے کے اہلکاروں کی تو پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں ہے جب کہ عام شہری محصور، خوف زدہ اور سراسیمگی کے عالم میں جیتے جی دوزخ والی زندگی بسرکر رہے ہیں۔

سندھ میں اسلحے کی برآمدگی کے حوالے سے سپریم کورٹ پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ چاہے کرفیو لگانا پڑے، غیر قانونی اسلحہ برآمد کیا جائے، لیکن اس پر تاحال عمل نہیں ہوا، الٹا غیر قانونی اسلحے جمع کرانے کی ناکام مہم کی آخری تاریخ بھی گزر گئی، وجہ سادہ سی ہے کہ قانون کا خوف اور دبدبہ مجرموں کے دلوں میں نہیں رہا۔ سنجیدگی، بردباری اور خلوص نیت اولین شرائط ہیں جاری آپریشن کو کامیاب کرنے کے لیے۔ چیف جسٹس نشاندہی کر رہے ہیں خلوص نیت سے، قانون نافذکرنے والے اداروں کو بھرپور کارروائی کرنی چاہیے، کراچی میں امن پاکستان کی سلامتی اور ترقی کی ضمانت ہے۔
Load Next Story