افغان منظر نامہ مکالمہ سے بدلنے کا منتظر
وزیر اعظم نواز شریف، برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون اور افغان صدر حامد کرزئی نے افغان امن عمل کو...
وزیراعظم نواز شریف کو وطن واپسی پر لندن میں ہونے والی سہ فریقی ملاقات میں اپنی مذاکرات کارکردگی کا جواب دینا ہوگا۔ فوٹو : اے ایف پی
وزیر اعظم نواز شریف، برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون اور افغان صدر حامد کرزئی نے افغان امن عمل کو جاری رکھنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
تینوں رہنماؤں نے 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ میں منعقدہ سہ فریقی اجلاس میں اقتصادی تعاون اور افغانستان کی قیادت میں امن عمل کے بارے میں تبادلہ خیال کیا اور اس ضمن میں اپنے عزم کو جاری رکھنے کا اعادہ کیا۔ انھوں نے افغانستان اور پاکستان کے مشترکہ مفاد میں علاقائی امن و استحکام اور خوشحالی کے عمل کو آگے لے جانے کے بارے میں بات چیت جاری رکھی۔ یہ اجلاس عالمی اسلامی اقتصادی فورم کے بعد ہوا۔ اس امر کو اب مکالماتی تقویت ملنا چاہیے کہ افغان منظر نامہ مذاکرات اور کثیر جہتی کوششوں سے ہی حل ہو گا تا کہ خطے میں جنگ، بربادی، بدحالی اور اس سے جڑی دہشت گردی کا خاتمہ ہو۔
افغانستان میں امن کا قیام اور امریکا و نیٹو افواج کے انخلا کے بعد کی صورتحال پر مبصرین اور عالمی میڈیا میں بحث کے کئی زاویے ہیں تاہم بنیادی حقیقت افغانستان میں آیندہ ہونے والے انتخابات کا شفاف ہونا اور امن کی تلاش ہے، امریکا سمیت کسی ملک کو اپنی پسند و ناپسند نہیں تھوپنی چاہیے، ناصح مشفق کا کردار ادا کرنا مناسب ہے۔ کانفرنس میں پاکستان نے افغانستان میں انخلا کے بعد کسی مخصوص دھڑے کی حمایت نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی اور اپنا موقف پیش کیا کہ پاکستان افغانستان میں ایسا حل چاہتا ہے جس میں افغان حکومت اور عوام مطمئن ہوں۔
اس ضمن میں وزیر اعظم نواز شریف نے افغان سیناریو کے پیش نظر اصولی موقف کا اظہار کیا کہ پاکستان افغانستان میں کسی ایک دھڑے کا حامی نہیں بلکہ ہمسایہ ملک کی حیثیت سے تمام افغان عوام کی خوشحالی میں دلچسپی رکھتا ہے۔ لہٰذا طالبان امن کونسل میں شامل ہوں اور سیاسی عمل کا حصہ بنیں۔ پاکستان طالبان سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کو مذاکرات میں شامل ہوتے دیکھنا چاہتا ہے اس سے زیادہ عالمی برادری کو پاکستان سے اور کیا چاہیے۔ پاکستان بات چیت کی افادیت کا حساس ترین آپشن تحریک طالبان پاکستان سے ڈائیلاگ شروع کرتے ہوئے استعمال کرنے جا رہا ہے۔
افغانستان میں امن کے لیے مذاکرات واقعی نہایت اہم ہیں، امریکی میڈیا میں بعض ماہرین کے نزدیک افغان صورتحال جنگی حقائق کے باوجود منجمد اور ڈیڈلاک جیسی ہے، دفاعی پالیسی کے ایک سینئر فیلو اسٹیفن بائیڈل کا ایک انٹرویو افغان بات چیت اور امن کے قیام اور روڈ میپ کے حوالے سے اہم ہے، ان کا کہنا ہے کہ طالبان کا اندازِنظر یہ ہے کہ ''امریکیوں کے پاس گھڑیاں ہیں تو ہمارے پاس وقت ہے'' وہ پاکستان کو آیندہ بات چیت میں ویٹو پلیئر کا درجہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ خطے میں پاکستان افغان امن عمل میں اپنے اسٹرٹیجک مفادات کو ضرور مد نظر رکھے گا، افغان کچن میں کئی باورچی سوپ کی تیاری میں مصروف ہیں۔ اس کا کوئی نتیجہ بہر طور نکلنا چاہیے۔
ملاقات میں نواز شریف نے افغان صدر حامد کرزئی کو انتخابات میں تکنیکی تعاون کی پیشکش کرتے ہوئے پاک افغان مذاکرات تسلسل کے ساتھ جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی جب کہ برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے پاکستانی حکومت کے موقف کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں مستقل امن و امان کے قیام کو یقینی بنانے کے لیے طالبان سے مذاکرات ضروری ہیں۔ وزیر اعظم نواز شریف نے منگل کو یہاں عالمی اسلامی اقتصادی فورم کے تین روزہ 9 ویں اجلاس سے خطاب میں دنیا میں مسلم ممالک کے اقتصادی، سیاسی اور سماجی کردار کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ انسانیت کا مستقبل ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے، کوئی خطہ تنہا ترقی نہیں کر سکتا، ہم مل کر دنیا کو ایک پر امن اور خوشحال زندگی کی مشترکہ منزل کی طرف لے جا سکتے ہیں۔
ادھر برطانوی پارلیمنٹ کی دفاعی کمیٹی کے ارکان کا کہنا ہے کہ برطانیہ، پاکستان اور طالبان مذاکرات کی حمایت کر رہا ہے۔ دریں اثنا پاکستان اور چین نے آیندہ برس پارلیمانی سیکیورٹی ڈائیلاگ کاشغر میں منعقد کرنے پر اتفاق رائے کیا ہے۔ پارلیمانی سیکیورٹی ڈائیلاگ کا مقصد خطے کی مجموعی صورتحال خصوصاً 2014ء میں افغانستان سے امریکا اور نیٹو افواج کی واپسی کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر تبادلہ خیال کرنا ہے۔ تاہم نیو یارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ افغان حکومت پاکستانی طالبان کو اپنا حواری بنا کر پاکستانی فوج سے انتقام لینا چاہتی ہے۔
امریکی اخبار نے پاکستانی طالبان رہنما لطیف محسود کی گرفتاری کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں تحریر کیا ہے کہ افغانستان کی حکومت لطیف محسود کے ذریعے پاکستانی طالبان کو پاکستان کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کرنا چاہتی تھی، وزیر اعظم نے بھی اس طرف توجہ دلائی کہ جب بھی افغان امن کی بات ہوتی ہے کوئی نہ کوئی واقعہ رونما ہو جاتا ہے۔ ان در پردہ عالمی اور داخلی ہاتھوں کو مفلوج بنا کر ہی امن شاہراہ کو کلیئر کیا جا سکتا ہے۔ حقیقت میں ایک طرف افغان سیکیورٹی فورسز کو مستقبل کی گراں بار انتظامی اور سیکیورٹی ذمے داریوں سے عہدہ برآ ہونا ہے دوسری جانب طالبان کو بھی جنگجویانہ اور شورش پسندانہ حکمت عملی ترک کر کے خود اپنا سیاسی کردار اجاگر کرنا چاہیے، افغان عوام کو روٹی روزگار، امن اور عزت و وقار سے جینے کا موقع ملنا چاہیے۔ آیندہ الیکشن میں اپنے لیڈر کا فیصلہ افغان عوام کو کرنے دیں۔
مذاکرات ہی افغان ڈیڈلاک کا حل ہے۔ خطے میں امن، ترقی، خیرسگالی اور غربت و پسماندگی کے خاتمہ کی اجتماعی کوششوں کے لیے تمام افغان جتھوں اور عالمی اسٹیک ہولڈرز کو مکالمہ کا فوری آغاز کرنا چاہیے۔ برطانیہ کے وزیر داخلہ اور وزیر خارجہ سمیت ورلڈ اسلامک اکنامک فورم 2013ء کے موقع پر لندن میں موجود متعدد اہم عالمی شخصیات نے وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کی۔ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے فریقین کی مشاورت سے ہوم ورک مکمل کر لیا گیا، مذاکرات جلد شروع ہونے کا امکان ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ اس بار بات چیت نتیجہ خیز اور پائیدار امن کی نوید لائے۔
تینوں رہنماؤں نے 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ میں منعقدہ سہ فریقی اجلاس میں اقتصادی تعاون اور افغانستان کی قیادت میں امن عمل کے بارے میں تبادلہ خیال کیا اور اس ضمن میں اپنے عزم کو جاری رکھنے کا اعادہ کیا۔ انھوں نے افغانستان اور پاکستان کے مشترکہ مفاد میں علاقائی امن و استحکام اور خوشحالی کے عمل کو آگے لے جانے کے بارے میں بات چیت جاری رکھی۔ یہ اجلاس عالمی اسلامی اقتصادی فورم کے بعد ہوا۔ اس امر کو اب مکالماتی تقویت ملنا چاہیے کہ افغان منظر نامہ مذاکرات اور کثیر جہتی کوششوں سے ہی حل ہو گا تا کہ خطے میں جنگ، بربادی، بدحالی اور اس سے جڑی دہشت گردی کا خاتمہ ہو۔
افغانستان میں امن کا قیام اور امریکا و نیٹو افواج کے انخلا کے بعد کی صورتحال پر مبصرین اور عالمی میڈیا میں بحث کے کئی زاویے ہیں تاہم بنیادی حقیقت افغانستان میں آیندہ ہونے والے انتخابات کا شفاف ہونا اور امن کی تلاش ہے، امریکا سمیت کسی ملک کو اپنی پسند و ناپسند نہیں تھوپنی چاہیے، ناصح مشفق کا کردار ادا کرنا مناسب ہے۔ کانفرنس میں پاکستان نے افغانستان میں انخلا کے بعد کسی مخصوص دھڑے کی حمایت نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی اور اپنا موقف پیش کیا کہ پاکستان افغانستان میں ایسا حل چاہتا ہے جس میں افغان حکومت اور عوام مطمئن ہوں۔
اس ضمن میں وزیر اعظم نواز شریف نے افغان سیناریو کے پیش نظر اصولی موقف کا اظہار کیا کہ پاکستان افغانستان میں کسی ایک دھڑے کا حامی نہیں بلکہ ہمسایہ ملک کی حیثیت سے تمام افغان عوام کی خوشحالی میں دلچسپی رکھتا ہے۔ لہٰذا طالبان امن کونسل میں شامل ہوں اور سیاسی عمل کا حصہ بنیں۔ پاکستان طالبان سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کو مذاکرات میں شامل ہوتے دیکھنا چاہتا ہے اس سے زیادہ عالمی برادری کو پاکستان سے اور کیا چاہیے۔ پاکستان بات چیت کی افادیت کا حساس ترین آپشن تحریک طالبان پاکستان سے ڈائیلاگ شروع کرتے ہوئے استعمال کرنے جا رہا ہے۔
افغانستان میں امن کے لیے مذاکرات واقعی نہایت اہم ہیں، امریکی میڈیا میں بعض ماہرین کے نزدیک افغان صورتحال جنگی حقائق کے باوجود منجمد اور ڈیڈلاک جیسی ہے، دفاعی پالیسی کے ایک سینئر فیلو اسٹیفن بائیڈل کا ایک انٹرویو افغان بات چیت اور امن کے قیام اور روڈ میپ کے حوالے سے اہم ہے، ان کا کہنا ہے کہ طالبان کا اندازِنظر یہ ہے کہ ''امریکیوں کے پاس گھڑیاں ہیں تو ہمارے پاس وقت ہے'' وہ پاکستان کو آیندہ بات چیت میں ویٹو پلیئر کا درجہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ خطے میں پاکستان افغان امن عمل میں اپنے اسٹرٹیجک مفادات کو ضرور مد نظر رکھے گا، افغان کچن میں کئی باورچی سوپ کی تیاری میں مصروف ہیں۔ اس کا کوئی نتیجہ بہر طور نکلنا چاہیے۔
ملاقات میں نواز شریف نے افغان صدر حامد کرزئی کو انتخابات میں تکنیکی تعاون کی پیشکش کرتے ہوئے پاک افغان مذاکرات تسلسل کے ساتھ جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی جب کہ برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے پاکستانی حکومت کے موقف کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں مستقل امن و امان کے قیام کو یقینی بنانے کے لیے طالبان سے مذاکرات ضروری ہیں۔ وزیر اعظم نواز شریف نے منگل کو یہاں عالمی اسلامی اقتصادی فورم کے تین روزہ 9 ویں اجلاس سے خطاب میں دنیا میں مسلم ممالک کے اقتصادی، سیاسی اور سماجی کردار کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ انسانیت کا مستقبل ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے، کوئی خطہ تنہا ترقی نہیں کر سکتا، ہم مل کر دنیا کو ایک پر امن اور خوشحال زندگی کی مشترکہ منزل کی طرف لے جا سکتے ہیں۔
ادھر برطانوی پارلیمنٹ کی دفاعی کمیٹی کے ارکان کا کہنا ہے کہ برطانیہ، پاکستان اور طالبان مذاکرات کی حمایت کر رہا ہے۔ دریں اثنا پاکستان اور چین نے آیندہ برس پارلیمانی سیکیورٹی ڈائیلاگ کاشغر میں منعقد کرنے پر اتفاق رائے کیا ہے۔ پارلیمانی سیکیورٹی ڈائیلاگ کا مقصد خطے کی مجموعی صورتحال خصوصاً 2014ء میں افغانستان سے امریکا اور نیٹو افواج کی واپسی کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر تبادلہ خیال کرنا ہے۔ تاہم نیو یارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ افغان حکومت پاکستانی طالبان کو اپنا حواری بنا کر پاکستانی فوج سے انتقام لینا چاہتی ہے۔
امریکی اخبار نے پاکستانی طالبان رہنما لطیف محسود کی گرفتاری کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں تحریر کیا ہے کہ افغانستان کی حکومت لطیف محسود کے ذریعے پاکستانی طالبان کو پاکستان کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کرنا چاہتی تھی، وزیر اعظم نے بھی اس طرف توجہ دلائی کہ جب بھی افغان امن کی بات ہوتی ہے کوئی نہ کوئی واقعہ رونما ہو جاتا ہے۔ ان در پردہ عالمی اور داخلی ہاتھوں کو مفلوج بنا کر ہی امن شاہراہ کو کلیئر کیا جا سکتا ہے۔ حقیقت میں ایک طرف افغان سیکیورٹی فورسز کو مستقبل کی گراں بار انتظامی اور سیکیورٹی ذمے داریوں سے عہدہ برآ ہونا ہے دوسری جانب طالبان کو بھی جنگجویانہ اور شورش پسندانہ حکمت عملی ترک کر کے خود اپنا سیاسی کردار اجاگر کرنا چاہیے، افغان عوام کو روٹی روزگار، امن اور عزت و وقار سے جینے کا موقع ملنا چاہیے۔ آیندہ الیکشن میں اپنے لیڈر کا فیصلہ افغان عوام کو کرنے دیں۔
مذاکرات ہی افغان ڈیڈلاک کا حل ہے۔ خطے میں امن، ترقی، خیرسگالی اور غربت و پسماندگی کے خاتمہ کی اجتماعی کوششوں کے لیے تمام افغان جتھوں اور عالمی اسٹیک ہولڈرز کو مکالمہ کا فوری آغاز کرنا چاہیے۔ برطانیہ کے وزیر داخلہ اور وزیر خارجہ سمیت ورلڈ اسلامک اکنامک فورم 2013ء کے موقع پر لندن میں موجود متعدد اہم عالمی شخصیات نے وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کی۔ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے فریقین کی مشاورت سے ہوم ورک مکمل کر لیا گیا، مذاکرات جلد شروع ہونے کا امکان ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ اس بار بات چیت نتیجہ خیز اور پائیدار امن کی نوید لائے۔