پاکستان نے آلو کی کنسائمنٹ میں کیڑے کا روسی الزام مسترد کر دیا

روس کی جانب سے جس کنسائمنٹ کا حوالہ دیا جارہا ہے وہ پرانے اور متروک آئی پی سی فارمیٹ کی حامل دستاویز پرروس بھیجی گئی

خط میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ کنسائمنٹ کے لیے جعلی فائیٹو سینٹری سرٹیفکیٹ استعمال کیا گیا جو پاکستانی اتھارٹیز کی جانب سے جاری نہیں کیا گیا۔ فوٹو: اے ایف پی/ فائل

پاکستان نے آلو کی کنسائمنٹ میں Golden Cyst نامی کیڑے کی برآمدگی کا روسی الزام قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے مذکورہ کنسائمنٹ کے لیے استعمال کیا جانے والا فائیٹو سینٹری سرٹیفکیٹ (آئی پی سی) کو جعلی قرار دے دیا ہے۔

وفاقی وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ کی جانب سے روس کی فیڈرل سروسز فار وٹرنری اینڈ فائیٹو سینٹری سرویلینس کے سربراہ کے نام لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ روس نے جس کنسائمنٹ میں کیڑے کی موجودگی کو جواز بناکر پاکستان کی زرعی مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کی ہے اس کنسائمنٹ کو ایکسپورٹ کرنیو الی کمپنی پاکستان میں رجسٹرڈ نہیں ہے خط میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ کنسائمنٹ کے لیے جعلی فائیٹو سینٹری سرٹیفکیٹ استعمال کیا گیا جو پاکستانی اتھارٹیز کی جانب سے جاری نہیں کیا گیا پاکستان کی جانب سے فائیٹو سینٹری سرٹیفکیٹ کا نیا فارمیٹ متعارف کرایا جاچکا ہے اور خود روسی حکام کی جانب سے اس نئے آئی پی سی فارمیٹ پر کی حامل کنسائمنٹ کی بڑی تعداد کو کلیرنس دی گئی ہے۔

پاکستان نے کہا ہے کہ روس کی جانب سے جس کنسائمنٹ کا حوالہ دیا جارہا ہے وہ پرانے اور متروک آئی پی سی فارمیٹ کی حامل دستاویز پر روس بھیجی گئی جس کی قبولیت خود روسی حکام کے لیے ایک سوال ہے۔




روسی حکام کی جانب سے آلو کی کنسائمنٹ میں Golden Cyst Nematodeنامی پیسٹ کی موجودگی کے بارے میں وزارت نے واضح کیا ہے کہ پاکستان نے کبھی بھی اس پیسٹ کی موجودگی سے انکار نہیں کیا، یہ پیسٹ نسبتاً ٹھنڈے علاقوں میں پایا جاتا ہے اس کے برعکس روس کو پاکستان سے دیپالپور اور چنیوٹ میں کاشت کیا جانے والا آلو ایکسپورٹ کیا جاتا ہے اور مذکورہ پیسٹ کی ان علاقوں میں موجودگی کا کوئی امکان نہیں اس کے باوجود روسی حکام کی شکایت پر ان علاقوں کا تفصیلی سروے کرنے کے احکامات جاری کیے جاچکے ہیں۔

خط کے ذریعے روسی حکام پر واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان اس حوالے سے طویل خط وکتابت کے بجائے مسئلے کے جلد از جلد حل کا خواہاں ہے خط کے ذریعے روسی قرنطینہ حکام کو آئندہ ہفتے پاکستان کے دورے کی دعوت دی گئی ہے تاکہ روسی قرنطینہ حکام آلو کی پیداوار والے علاقوں کا دورہ کرکے مذکورہ علاقوں میں پیسٹ کی عدم موجودگی کا اطمینان کرسکیں۔ وفاقی وزارت نیشنل فوڈ سیکیوریٹی اینڈ ریسرچ نے روسی حکام کی جانب سے آلو کے ساتھ تمام زرعی مصنوعات کی درآمد کو ایک انتہائی سخت قدم قرار دیتے ہوئے ناگزیر ہونے پر پابندی آلو تک محدود رکھنے پر زور دیا ہے ساتھ ہی روسی حکام کی تسلی کے لیے پاکستان کے قرنطینہ نظام (پلانٹ پروٹیکشن سسٹم) کے جائزے کی بھی دعوت دی ہے۔
Load Next Story