چھوٹے تاجروں کا رواں سال ریٹرن فارم داخل نہ کرانیکا اعلان

انکم ٹیکس نظام ناقابل عمل قرار،10 دن میں اعتراضات دور نہ ہوئے توتحریک چلائیں گے،عتیق میر

کانفرنس میں حکومت سے پُرزور مطالبہ کیا گیا کہ انکم سپورٹ لیوی ٹیکس اور ویلتھ ٹیکس ہرگز قبول نہیں کرینگے۔ فوٹو: فائل

چھوٹے تاجروں نے انکم ٹیکس کے موجودہ نظام کو متنازعہ، غیرمنصفانہ اور ناقابلِ عمل قرار دیتے ہوئے 10 روز میں قابلِ اعتراض شقیں تبدیل نہ کرنے کی صورت میں احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کردیا ہے۔

آل کراچی تاجر اتحاد کے چیئرمین عتیق میر کی صدارت میں منعقدہ انکم ٹیکس اصلاحات کانفرنس میں کراچی کی تمام مرکزی مارکیٹس اور شاپنگ سینٹر کے نمائندوں نے حکومت پر واضح کیا ہے کہ وہ مطلوبہ ترامیم نہ کرنے کی صورت میں مارکیٹوں کو انکم ٹیکس کے عملے کیلیے نو گو ایریا بناتے ہوئے بھرپورمزاحمت کریں گے جس کے لیے مارکیٹوں کی سطح پر مزاحمتی کمیٹیاں بھی قائم کردی گئی ہیں جبکہ رواں سال ریٹرن فارم داخل نہیں کیا جائے گا، کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عتیق میر نے کہا کہ ویلتھ ٹیکس فارم اور انکم ٹیکس ریٹرن فارم میں دریافت کیے گئے سوالات ناقابلِ قبول ہیں۔

ٹیکس گزار کو گوشوارہ فارم میں زیورات، فرنیچر، موٹر وہیکلز، اثاثہ جات، بینک بیلنس، سرمایہ کاری، یوٹیلیٹی بلز، تعلیمی، سفری اور گھریلو اخراجات کی تفصیل بھی بتانا ہونگی، انھوں نے کہا کہ غیر منصفانہ اور ظالمانہ شرح سے وصول کردہ ٹیکس ریونیو ملکی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کرنے کے بجائے سود خود مالیاتی اداروں کو نوازنے پر استعمال ہورہا ہے، سرکاری خزانے سے مستفید ہونے والے اور عیش پرستی میں بدمست حکمران مالیاتی بحران کا پورا بوجھ عوام پر منتقل کررہے ہیں۔


کانفرنس میں شریک تاجر اتحاد کے وائس چیئرمین اکرم رانا، انصار بیگ قادری، زبیر علی خان، عبدالغنی اخوند، سید شاہد علیم، شیخ محمد عالم، احمد شمسی، محمد آصف، دلشاد بخاری، شاکر فینسی، عبدالسمیع خان،سید شرافت علی، طارق ممتاز، عبدالقادر، ناصر ملکانی،شاہد شمسی، محمد فاروق، زاہد پپرانی، جنت گُل، رفیع احمد اور دیگر نے انکم ٹیکس کے موجودہ سسٹم کو تاجروں کیلئے معاشی موت کی وادی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نظام کے تحت محصولات کے بجائے رشوت کو فروغ حاصل ہوگا، تفتیش کے وسیع تر دائرہ کار کے تحت ٹیکس انسپکٹر کو تھانیدار کا درجہ حاصل ہوجائیگا۔



کانفرنس میں حکومت سے پُرزور مطالبہ کیا گیا کہ انکم سپورٹ لیوی ٹیکس اور ویلتھ ٹیکس ہرگز قبول نہیں کرینگے، ویلتھ ٹیکس گوشوارہ فارم مکمل طور پر ختم کیا جائے، ٹیکس سے استثنیٰ کی حد 4لاکھ روپے سے بڑھا کر 10لاکھ روپے کی جائے،سیلزٹیکس میں رجسٹریشن کی حد 50لاکھ روپے سے بڑھاکر 2کروڑ روپے کی جائے، ای فائلنگ کے طریقہ کار کو لمیٹڈ کمپنیوں تک محدود رکھا جائے، رینڈم آڈٹ کے طریقہ کار سے محصولات کے بجائے رشوت کو فروغ حاصل ہورہا ہے اسے ختم یا طریقہ کار تبدیل کیا جائے۔

کانفرنس میں یہ تجویز بھی پیش کی گئی کہ انکم ٹیکس کے براہِ راست سسٹم کے متبادل کے طور پر ماضی کی طرز پر فکس ٹیکس یا ٹیکس ٹوکن سسٹم متعارف کروایا جائے یا 1988کا خود تشخیصی نظام دوبارہ بحال کیا جائے جس کے تحت ایک صفحاتی گوشوارہ فارم کو ٹیکس چالان اور آرڈر کا درجہ حاصل تھا، انکم ٹیکس اصلاحات کانفرنس میں شریک تاجر نمائندگان نے اس بات سے مکمل اتفاق کیا کہ تاجروں کی مشاورت کے تحت ٹیکس پالیسیوں کی اصلاح کی صورت میں حکومتی خزانے میں بھرپور محصولات جمع کروایا جائیگا، نیٹ سے فرار اختیار کرنے والے 25لاکھ سے زائد ٹیکس گزاروں کو واپس لانے اور ایک لاکھ سے زائد نئے ٹیکس گزاروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے سلسلے میں حکومت اور ٹیکس عملے سے مکمل تعاون کیا جائیگا۔
Load Next Story