ہمارے اپنے دولت مند

پاکستان میں جتنی پنسلیں مارکیٹ میں دستیاب ہیں وہ سب میں نے آزما دیکھی ہیں، کوشش یہ ہےکہ کوئی قلم میری بدخطی کومیرے...

Abdulqhasan@hotmail.com

پاکستان میں جتنی پنسلیں مارکیٹ میں دستیاب ہیں وہ سب میں نے آزما دیکھی ہیں، کوشش یہ ہے کہ کوئی قلم میری بدخطی کو میرے پروف ریڈر دوست کے لیے قابل برداشت بنا دے مگر معلوم ہوا کہ قلم نہیں لکھا کرتی وہ تو محض ایک آلہ کار ہے کسی اور کا۔ لکھنے والی ہاتھوں کی انگلیاں ہوتی ہیں وہ بھی خود مختار نہیں بلکہ ان کے پیچھے بھی ایک دماغ یعنی مرکز دماغ ہے چنانچہ دماغ میں جتنی کجی ہوگی قلم بھی اتنا ہی ٹیڑھا میڑھا لکھے گا لہذا میری بدخطی کو دور کرنا اور اس کی اصلاح کسی قلم کے بس میں نہیں دماغ کے بس میں ہے لیکن دماغ کو راہ راست پر رکھنا اور اس کی سمت درست رکھنا تاکہ اس کی تابعدار انگلیاں بھی درست رہیں راہ راست پر چلیں اور پڑھنے والوں کے لیے کوئی مشکل پیدا نہ کریں یہ سب میرے بس میں نہیں۔ لیکن جو پورا ملک کسی حکومت اور چھوٹے بڑے غیر حاضر حکمران کے بغیر چل رہا ہو اور جس کے سیاستدانوں کو کچھ پتہ نہ ہو کہ وہ بے تابی اور بے خودی کے کس عالم میں ہیں اور کیا کچھ کس طرح چاہتے ہیں تو اس ملک میں دماغ درست کیسے رہے۔

بے دماغی بھی بہت بڑی نعمت ہے جہاں ہائی کورٹ کسی مشہور عہدہ دار کو معطل کر دے اور پھر دو گھنٹے بعد اسے بحال بھی کردے وہاں کوئی کیا کرے۔ یہ عہدہ دار ایک بار میاں نواز شریف کی ایک سابقہ حکومت میں گرفتار کر لیا گیا۔ امریکی سفارت کاروں میں تھر تھلی مچ گئی اور اس وقت ایک ہوٹل میں برپا ایک تقریب میں امریکی سفارتی نمایندہ جھلا کر چلانے لگا کہ ہمارے آدمی کو کس نے پکڑ لیا ہے یعنی کس کم بخت نے اس کی جرات کی ہے چنانچہ ظاہر ہے کہ یہ شخص فوراً رہا کر دیا گیا۔ وہ تو ایک سیاسی فیصلہ تھا اب یہ عدالتی فیصلہ ہے۔ ہمارے جیسے فدوی لوگوں کو دونوں منظور ہیں اور بلا ٹکٹ مزے میں خوش ہیں۔ امریکا کا پسندیدہ ہونا بڑی بات ہے۔ ایک بار جماعت اسلامی کے اخبار جسارت نے اندرا گاندھی کے اخبار سُوریہ کے حوالے سے ایک خبر نقل کی کہ فلاں فلاں صحافی جن میں عبدالقادر حسن بھی شامل ہے وہ امریکی سی آئی اے کے ایجنٹ ہیں۔ انھی دنوں لاہور کی ایک تقریب میں امریکی ناظم الامور سے ملاقات ہو گئی۔ اس نے جھک کر مجھے سلام کیا اور کہا کہ آپ تو ہمارے باس ہیں۔

کاش کہ یہ خبر سچی ہوتی اور ہم اپنے پاکستانیوں میں ایک غیر ملکی مراعات یافتہ شہری ہوتے بلکہ ایک سپر پاور سے تعلق رکھنے والے۔ کالم کے لیے خبر کی تلاش میں اخبارات میں منہ مار رہا تھا کہ ایک نوخیز لیڈر کا بیان پڑھاکہ وہ جب چاہیں گے ملک کو سیاسی تحریک سے ہلا کر رکھ دیں گے اور چاہیں گے تو ایک غیر سیاسی نیم مذہبی لیڈر کو بھی ساتھ ملا لیں گے۔ مجھے ایک آیت کریمہ یاد آئی کہ تمہارا مال اور اولاد تمہارے لیے فتنہ ہیں اور ان دونوں کی اولادکچھ ملک سے باہر ہیں اور کچھ اندر اپنے اپنے کام میں لگی ہوئی ہیں اور اپنے والدین کے لیے فتنہ بھی بن سکتی ہیں۔ یہ تو بڑے لوگ ہیں اور بڑے باپ ہیں۔ میں ایک معمولی سا پاکستانی ہوں لیکن میرے گائوں میں میرے نام پر جو کچھ ہے میں اس پر کچھ بھی قربان کر سکتا ہوں جب کہ یہ سب نہ ہونے کے برابر ہے مگر یہ بڑے لوگ تو اپنا سب کچھ باہر رکھتے ہیں۔ نہ صرف یہ جن کی طرف میں اشارہ کر رہا ہوں بلکہ لاتعداد دوسرے دولت مند سیاستدان بھی۔


ایک پرانی بات یاد آ گئی ہے۔ ایوب خان کے زمانے میں کراچی کے ایک ایرانی ہوٹل میں دو سیٹھ چائے پی رہے تھے کہ باتوں باتوں میں ملک کے بیرونی قرضوں کا ذکر چل نکلا اور یہ کہ ان کی وجہ سے ملک کس قدر مشکل میں ہے اس پر ایک سیٹھ نے کہا کہ یار تم ہمت کرو اور یہ قرض اتار دو۔ دوسرے نے جواب دیا کیا تم یہ کام نہیں کر سکتے اور یوں پاکستان کے کل قرضوں کی مالیت کے یہ الگ الگ دو مالک سلام دعا کرکے اپنے اپنے کام پر چل پڑے۔ آج تو دنیا بالکل ہی بدل چکی ہے دو نہیں درجنوں ایسے سیاستدان ہیں جو ملک کے قرضے اتار سکتے ہیں یا ان کی بڑی قسط تو آسانی کے ساتھ ادا کر سکتے ہیں جس کے لیے ہم آئی ایم ایف کے سامنے بھکاری ہیں لیکن لطیفہ یہ ہے کہ جو آئی ایم ایف سے قسط مانگنے جاتے ہیں وہ خود انھیں فوری قسط کا چیک کاٹ کر دے سکتے ہیں۔

پاگلوں کی بات ہے کہ عدالت عالیہ کوئی ایسا حکم جاری کرے اور کوئی ایسا ادارہ تشکیل دے دے جو مشہور و معروف کرپٹ سیاستدانوں سے وصولی کر سکے۔ اللہ کے سامنے عہد کر کے کام شروع کرے اور اس عہد کی تکمیل پر اس سے اجر طلب کرے۔ میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ ہمارے آج اور کل کے حکمرانوں میں کئی ایک ایسے ہیں جو قوم کے قرض اتار سکتے ہیں اور خاص نکتہ یہ ہے کہ انھوں نے یہ سب خود کمایا نہیں ہے اسی ملک سے لوٹا ہے۔ ہم میں سے کئی ایک ان سابق وزرائے اعظم اور کئی دوسرے لیڈروں اور حکمرانوں کو جانتے ہیں جو اقتدار سے پہلے مشکل سے اپنا رکھ رکھائو قائم رکھتے تھے بلکہ بعض نے ایسی آسامیاں تلاش کر رکھی تھیں جن کو اقتدار میں آنے کے بعد سرخرو کرنا تھا اور ان میں سے بعض کو ایسا موقع ملا بھی تو انھوں نے ان آسامیوں سے کہا کہ جائو میرا نام لے کر کمائی کرو اس کی اجازت ہے مجھ سے کچھ نہ مانگو۔ میرے نام کو بیچنا تمہاری ہمت۔

ہمارے ہاں ایک ایسی شخصیت گزری ہے کہ زمیندار وغیرہ ان کی شاباش کے طلب گار ہوتے تھے مال کمانے کے لیے نہیں صرف ٹُہر بنانے کے لیے ورنہ وہ شخصیت دیانت و امانت میں بہت ہی سخت گیر تھی۔ ایک بار وہ ایک ایسے ہی پھوکے اثرورسوخ کے طلب گار کو راولپنڈی کے سفر میں اپنی گاڑی میں بٹھا کر ساتھ لے گئے۔ راستے میں اس علاقے کی تمام انتظامیہ حاضر ہوا کرتی تھی جو ان صاحب کو نواب صاحب کے ہمراہ سفر کرتے دیکھتی رہی۔ پنڈی جا کر انھوں نے اپنے مہمان کو خدا حافظ کہا اور خود کسی اجلاس میں چلے گئے۔ نواب صاحب نے ایک دفعہ ملتان میں ایک زمیندار پر ایسی ہی شفقت کی۔ انھوں نے اس ملتانی دوست کو اپنے پاس بلا لیا اور جو افسر بھی حاضری دینے آتا وہ اس ملتانی کو ان کے پاس بیٹھے اور چائے پیتا دکھائی دیتا۔ اس ملتانی زمیندار کے لیے اتناہی کافی تھا۔ اس کا وقت بڑے آرام کے ساتھ گزر گیا لیکن یہ گورنر کالا باغ تھا جس کا دبدبہ بے مثال تھا اور جس کی سخت گیری اور دیانت بھی ضرب المثل تھی مگر آج کون ہے جس کی کوئی مدد لے سکتا ہے۔

بات ہو رہی تھی پاکستانی رئوساء کی جس کو اس ملک نے پہلے کروڑ پتی اور آج کی زبان میں ارب پتی بنا دیا لیکن ان میں سے پاکستان پر کوئی رحم نہیں کھائے گا۔ ہم قرضے ہی مانگتے رہیں گے۔
Load Next Story