لیاقت آباد 4 سالہ بچہ گردن پر پتنگ کی ڈور پھرنے سے ہلاک

عصمر کے بھائی نے بچانے کیلیے ڈور ہاتھ میں پکڑ لی تو اس کا بھی ہاتھ کٹ گیا

متوفی اپنے بھائی کے ہمراہ موٹرسائیکل پر جا رہا تھا، لاش ورثا کے حوالے کردی گئی۔ فوٹو: فائل

لیاقت آباد نمبر 4 گجر نالے کے قریب موٹر سائیکل پر سوار4 سالہ بچہ شہہ رگ پر پتنگ کی ڈور پھرنے سے جاں بحق ہو گیا ۔

متوفی کے بھائی نے بچانے کے لیے ڈور ہاتھ میں پکڑ لی تھی جس سے اس کا ہاتھ بھی کٹ گیا، تفصیلات کے مطابق گلبہار تھانے کی حدود لیاقت آباد نمبر 4 گجر نالے کے قریب موٹر سائیکل پر سوار 4 سالہ عصمر ولد ضمیر شہہ رگ پر پتنگ کی ڈور پھرنے سے جاں بحق جبکہ اس کا بھائی 16 سالہ ارسل زخمی ہو گیا، ہلاک و زخمی ہونے والے بھائیوں کو عباسی شہید اسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے عصمر کی موت کی تصدیق کر دی ، متوفی لیاقت آباد نمبر 4 اکرم بیکری کے قریب مکان نمبر57 کا رہائشی جبکہ 2 بھائی 2 بہنوں میں سب سے چھوٹا تھا۔

متوفی کے والد ضمیر نے ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی گھر کے قریب پان کی دکان ہے جو ان کے والد حنیف پان شاپ کے نام سے مشہور ہے، انھوں نے بتایا کہ واقع کے وقت عصمت اپنی والدہ اور بڑے بھائی ارسل کے موٹر سائیکل کی ٹنکی پر بیٹھ کر جا رہا تھا کہ پتنگ کی ڈور کو اپنے قریب آتا دیکھ کر ارسل نے پکڑ لی تھی جس سے اس کا ہاتھ لہو لہان ہو گیا تھا، اسی دوران سامنے سے ایک گاڑی آگئی جس پر اس نے ڈور کو چھوڑ دیا اور موٹر سائیکل کا ہینڈل پکڑ لیا جس پر ڈور عصمت کی گردن پر پھرتی چلی گئی اور اس کی شہہ رگ کٹ گئی جس سے وہ خون میں لت پت ہو گیا اور اس کی گردن ایک طرف اپنے بڑے بھائی کے ہاتھ پر لڑھک گئی اور جب اسے اسپتال لے جایا گیا تو ڈاکٹروں نے بتایا کہ اس کی موت واقع ہو چکی، بھائی نے فوری طور پر اپنے والد کو اطلاع کی جس پر وہ اپنی پان کی دکان بند کر کے اپنے دیگر بھائیوں کے ہمراہ اسپتال پہنچ گئے،پولیس نے ضابطے کی کارروائی کے بعد عصمت کی لاش ان کے حوالے کردی۔



عصمر کو سپردخا ک کردیا گیا، گردن پر ڈور پھرنے کے واقعات بڑھ گئے، علاقہ مکین


پتنگ کی ڈور پھرنے سے جاں بحق ہونیوالے معصوم بچے عصمر کو آہوں اور سسکیوں میں مقامی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ معصوم عصمر کی لاش گھر پہنچنے پر کہرام مچ گیا، علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد موقع پر پہنچ گئی، بچے کی موت پر ہر آنکھ اشکبار تھی ، علاقہ مکینوں کا کہنا تھا کہ پتنگ کی ڈور سے گلا کٹنے کے واقعات بڑھ گئے ہیں، 2 ماہ قبل لیاقت آباد نمبر 4 ارم بیکری کے قریب میڈیکل اسٹور کے مالک کی بیٹی بھی گردن پر پتنگ کی ڈور پھرنے سے جاں بحق ہو گئی۔

اس پر اتنا سخت قانون بنانا چاہیے کہ کوئی بھی رہائشی علاقے میں پتنگ نہ اڑائے متوفی عصمت کا نماز جنازہ رات 10 بجے اس کے گھر کے قریب واقع مسجد درالصلات میں ادا کی گئی ، نماز جنازہ میں متوفی کے رشتے داروں ، علاقہ مکینوں اور متحدہ قومی موومنٹ کے علاقائی عہدیداروں اور کارکنوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی، بعدازاں عصمت کا جنازہ جلوس کی شکل میں لیاقت آباد سی ون ایریا قبرستان لے جایا گیا۔

عصمر کوایک ماہ قبل ہی اسکول میں داخل کرایا گیا تھا

پتنگ کی ڈور پھرنے سے جاں بحق ہونے والے معصوم عصمر کو ایک ماہ قبل ناظم آباد میں واقع اقرا جدید اسکول میں داخل کرایا گیا تھا۔ بدھ کی صبح بھی وہ اسکول گیا اور اسکول سے آکر نانا سے ملنے اسپتال جانے کی ضد کر رہا تھا جس پر اس کی والدہ نے کہا کہ شام کو وہ جائیں گی تو اسے اپنے ساتھ لے کر چلیں گی، متوفی کے والد ضمیر نے بتایا کہ ان کے سسر ذیابیطس کے مریض ہیں اور ان دنوں ناظم آباد7 نمبر پر واقع نجی اسپتال میں زیر علاج ہیں، ڈاکٹروں نے آپریشن کر کے ان کے پیر کی 4 انگلیاں کاٹ دی ہیں۔

ضمیر نے بتایا کہ جس موٹرسائیکل پر حادثہ ہوا وہ ان کے سسر کی ہے ، اسپتال میں داخل ہوتے وقت انھوں نے اپنی موٹر سائیکل اپنے نواسے ارسل کو دی تھی تاکہ اسے اسپتال آنے جانے میں پریشانی نہ ہو، واقعے کے وقت عصمت اپنی والدہ اور بڑے بھائی ارسل کے ساتھ نانا سے ملنے اسپتال جا رہا تھا۔
Load Next Story