مقبوضہ کشمیر اور عالمی برادری
بھارت نے 5 اگست سے وادی میں مسلسل کرفیو نافذ کر رکھا ہے جو انسانی حقوق کے عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
امریکی ایوان نمایندگان میں کشمیر سے متعلق بل پیش کر دیا گیا جس میں بھارت سے مقبوضہ کشمیر میں مواصلات کی بندش اور سیاسی نظربندیاں کوختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق بھارتی نژاد ڈیمو کریٹک پارٹی کی پرمیلاجے پال اور ریپبلکن پارٹی کے اسٹیو واٹکنز کی طرف سے پیش کیے گئے بل میں کہا گیا کہ مقبوضہ کشمیر میں مواصلاتی بندش ختم کی جائے اور گرفتاریوں کا سلسلہ بند کیا جائے۔
بل میں شہریوں کی مذہبی آزادی کا احترام کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے جب کہ بھارت سے کہا گیا ہے کہ وہ انسانی حقوق کے عالمی مبصرین اور صحافیوں کو مقبوضہ کشمیر میں رسائی فراہم کرے۔
بھارت نے 5 اگست سے وادی میں مسلسل کرفیو نافذ کر رکھا ہے جو انسانی حقوق کے عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے، چین، امریکا سمیت کئی ممالک بھارت سے مقبوضہ کشمیر میں جبری پابندیاں ختم کرنے کا کہہ چکے ہیں تاہم بھارت ہٹ دھرمی قائم رکھے ہوئے ہے۔ بھارت کی اس جارحانہ پالیسی کے پورے خطے پر جہاں منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
وہاں عالمی سطح پر بھی مسئلہ کشمیر نمایاں طور پر اجاگر ہوا ہے۔ بھارت نے مقبوضہ جموں کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کے جس گھناؤنے منصوبے کو آئینی ترمیم 370 اور 35 A کا جو نام نہاد سیکولر مگر حقیقتاً ظالمانہ لبادہ اڑایا ہے اس پر عالمی رائے عامہ ان دنوں مختلف فورم پر اسے اجاگر کر رہی ہے یہی وجہ ہے کہ برطانیہ میں بھی ان دنوں مسئلہ کشمیر مختلف سیاسی پارٹیوں کا موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ ادھر مودی حکومت ایک سازش کے تحت دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے کشمیر کی آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے پر کمربستہ ہے۔
گزشتہ دنوں بھارت نے روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کا اپنی مرضی کا نیا نقشہ جاری کیا جس میں آزاد کشمیر کے تین اضلاع مظفر آباد' پونچھ اور میر پور کے علاوہ گلگت بلتستان کے تین علاقوں اور قبائلی علاقوں کو بھارتی یونین کے علاقے میں ظاہر کیا گیا ' پاکستانی دفتر خارجہ نے اس نقشے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان اقوام متحدہ میں تسلیم شدہ جموں و کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔
بھارتی رہنما مختلف فورم پر اظہار کر چکے ہیں کہ بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر میں ہندو آبادی کو وہاں کی شہریت دینے کے لیے اسرائیل کی طرز پر بستیاں تعمیر کرے گی' بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی کے ایک رہنما رام مادھو کہہ چکے ہیں کہ ان کی جماعت تقریباً دو سے تین لاکھ ہندوؤں کو وادی کشمیر میں لانے کا عزم رکھتی ہے، نئے گمراہ کن نظریے کے تحت کشمیری تاریخ کو بھی مسخ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ 5 اگست سے وادی میں نافذ کرفیو کے باعث ہر طرف خوف و ہراس کا ماحول اور معمولات زندگی مسلسل مفلوج ہیں۔
سابق بھارتی وزیر خارجہ یشونت سنہا نے 22نومبر سے 26نومبر تک مقبوضہ کشمیر کا دورہ کیا لیکن بھارتی سیکیورٹی فورسز نے انھیں کسی سے ملنے نہیں دیا۔ بعدازاں یشونت سنہا نے کہا کہ بھارت کشمیر کی تقسیم سے وادی کے قلب کو گھائل کر رہا ہے' اسے کشمیر کی قانونی حیثیت کو بدلنے کا کوئی حق نہیں۔ بھارتی فوج وادی میں ظلم و ستم کا سلسلہ قائم رکھے ہوئے ہے، حقوق انسانی کی عالمی تنظیم ایچ آر ڈبلیو بھی اپنی رپورٹ میں کہہ چکی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں خواتین بھارتی سیکیورٹی فورسز کا سب سے آسان ہدف ہوتی ہیں۔
اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس کے مطابق بھارتی فورسز کشمیری عوام کی ہمت توڑنے کی خاطر خواتین کو جنسی تشدد کا نشانہ بناتی ہیں کیونکہ وہ بھارتی حکومت کے خلاف احتجاج کرتی ہیں اور مظلوم کشمیری خواتین کو ہر قسم کے تشدد اور استبداد کا شکار بنانے پر سیکیورٹی فورسز سے کوئی باز پرس نہیں ہوتی جس سے انھیں اور زیادہ شہ ملتی ہے۔ گزشتہ دنوں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے بھی اسی قسم کا اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کی طرف سے جنسی تشدد اور ریپ جنگ اور امن دونوں حالتوں میں مسلسل جاری رہتا ہے۔
بھارتی فوج کو غیرمعمولی اختیارات حاصل ہیں جس کی بنا پر وہ کشمیریوں سے جس حد تک چاہے بدسلوکی کر سکتی ہے اس سے اس حوالے سے کوئی باز پرس نہیں ہوتی۔ جب تک مسئلہ کشمیر پرامن طریقے سے حل نہیں ہوتا خطے میں جنم لینے والی کشیدگی کے باعث جنگی ماحول کے بادل چھائے رہیں گے' اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں کا بھی اس معاملے میں بے حسی اور خاموش کردار قابل افسوس ہے' اب تک عرب لیگ اور او آئی سی بھی کوئی موثر کردار ادا کرنے سے قاصر رہی ہیں۔ اس خطے کو کسی ممکنہ جنگ سے بچانے کے لیے ناگزیر ہے کہ اقوام متحدہ اور عالمی طاقتیں اس مسئلے کے حل کے لیے اپنا موثر کردار ادا کریں۔
بل میں شہریوں کی مذہبی آزادی کا احترام کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے جب کہ بھارت سے کہا گیا ہے کہ وہ انسانی حقوق کے عالمی مبصرین اور صحافیوں کو مقبوضہ کشمیر میں رسائی فراہم کرے۔
بھارت نے 5 اگست سے وادی میں مسلسل کرفیو نافذ کر رکھا ہے جو انسانی حقوق کے عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے، چین، امریکا سمیت کئی ممالک بھارت سے مقبوضہ کشمیر میں جبری پابندیاں ختم کرنے کا کہہ چکے ہیں تاہم بھارت ہٹ دھرمی قائم رکھے ہوئے ہے۔ بھارت کی اس جارحانہ پالیسی کے پورے خطے پر جہاں منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
وہاں عالمی سطح پر بھی مسئلہ کشمیر نمایاں طور پر اجاگر ہوا ہے۔ بھارت نے مقبوضہ جموں کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کے جس گھناؤنے منصوبے کو آئینی ترمیم 370 اور 35 A کا جو نام نہاد سیکولر مگر حقیقتاً ظالمانہ لبادہ اڑایا ہے اس پر عالمی رائے عامہ ان دنوں مختلف فورم پر اسے اجاگر کر رہی ہے یہی وجہ ہے کہ برطانیہ میں بھی ان دنوں مسئلہ کشمیر مختلف سیاسی پارٹیوں کا موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ ادھر مودی حکومت ایک سازش کے تحت دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے کشمیر کی آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے پر کمربستہ ہے۔
گزشتہ دنوں بھارت نے روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کا اپنی مرضی کا نیا نقشہ جاری کیا جس میں آزاد کشمیر کے تین اضلاع مظفر آباد' پونچھ اور میر پور کے علاوہ گلگت بلتستان کے تین علاقوں اور قبائلی علاقوں کو بھارتی یونین کے علاقے میں ظاہر کیا گیا ' پاکستانی دفتر خارجہ نے اس نقشے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان اقوام متحدہ میں تسلیم شدہ جموں و کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔
بھارتی رہنما مختلف فورم پر اظہار کر چکے ہیں کہ بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر میں ہندو آبادی کو وہاں کی شہریت دینے کے لیے اسرائیل کی طرز پر بستیاں تعمیر کرے گی' بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی کے ایک رہنما رام مادھو کہہ چکے ہیں کہ ان کی جماعت تقریباً دو سے تین لاکھ ہندوؤں کو وادی کشمیر میں لانے کا عزم رکھتی ہے، نئے گمراہ کن نظریے کے تحت کشمیری تاریخ کو بھی مسخ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ 5 اگست سے وادی میں نافذ کرفیو کے باعث ہر طرف خوف و ہراس کا ماحول اور معمولات زندگی مسلسل مفلوج ہیں۔
سابق بھارتی وزیر خارجہ یشونت سنہا نے 22نومبر سے 26نومبر تک مقبوضہ کشمیر کا دورہ کیا لیکن بھارتی سیکیورٹی فورسز نے انھیں کسی سے ملنے نہیں دیا۔ بعدازاں یشونت سنہا نے کہا کہ بھارت کشمیر کی تقسیم سے وادی کے قلب کو گھائل کر رہا ہے' اسے کشمیر کی قانونی حیثیت کو بدلنے کا کوئی حق نہیں۔ بھارتی فوج وادی میں ظلم و ستم کا سلسلہ قائم رکھے ہوئے ہے، حقوق انسانی کی عالمی تنظیم ایچ آر ڈبلیو بھی اپنی رپورٹ میں کہہ چکی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں خواتین بھارتی سیکیورٹی فورسز کا سب سے آسان ہدف ہوتی ہیں۔
اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس کے مطابق بھارتی فورسز کشمیری عوام کی ہمت توڑنے کی خاطر خواتین کو جنسی تشدد کا نشانہ بناتی ہیں کیونکہ وہ بھارتی حکومت کے خلاف احتجاج کرتی ہیں اور مظلوم کشمیری خواتین کو ہر قسم کے تشدد اور استبداد کا شکار بنانے پر سیکیورٹی فورسز سے کوئی باز پرس نہیں ہوتی جس سے انھیں اور زیادہ شہ ملتی ہے۔ گزشتہ دنوں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے بھی اسی قسم کا اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کی طرف سے جنسی تشدد اور ریپ جنگ اور امن دونوں حالتوں میں مسلسل جاری رہتا ہے۔
بھارتی فوج کو غیرمعمولی اختیارات حاصل ہیں جس کی بنا پر وہ کشمیریوں سے جس حد تک چاہے بدسلوکی کر سکتی ہے اس سے اس حوالے سے کوئی باز پرس نہیں ہوتی۔ جب تک مسئلہ کشمیر پرامن طریقے سے حل نہیں ہوتا خطے میں جنم لینے والی کشیدگی کے باعث جنگی ماحول کے بادل چھائے رہیں گے' اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں کا بھی اس معاملے میں بے حسی اور خاموش کردار قابل افسوس ہے' اب تک عرب لیگ اور او آئی سی بھی کوئی موثر کردار ادا کرنے سے قاصر رہی ہیں۔ اس خطے کو کسی ممکنہ جنگ سے بچانے کے لیے ناگزیر ہے کہ اقوام متحدہ اور عالمی طاقتیں اس مسئلے کے حل کے لیے اپنا موثر کردار ادا کریں۔