عمران کو میڈیا گروپ کا ہتک عزت نوٹس آزادی اظہار رائے اسلب کرنے کی کوشش ہے تحریک انصاف

چیئرمین تحریک انصاف نے انٹرویومیں الزامات کوسنجیدہ،باقاعدہ تحقیقات کاکہا،نتیجہ اخذنہیں کیا،توہین کاپہلوکیسے نکلتاہے؟

کرکٹ سیریزکیلیے نشریاتی حقوق کے بارے میں استفسارعمران کاحق ہے،اظہاررائے کے حق سے دستبردارنہیںہوسکتے،شیریںمزاری فوٹو فائل

پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی سیکریٹری اطلاعات ڈاکٹرشیریں مزاری نے ایک ٹی وی پرچیئرمین تحریک انصاف کے انٹرویوکے پہلے حصے کے نشریے کے بعدجنگ اورجیو گروپ کی جانب سے تحریک انصاف کے مرکزی دفترمیں بذریعہ فیکس ہتک عزت کے قانونی نوٹس کی وصولی کی تصدیق کی ہے۔

ان کا کہناہے کہ قانونی نوٹس چیئرمین تحریک انصاف کے انٹرویوکے نشرہونے کے بعداگلے دن 29 اکتوبر2013کوبھیجاگیاہے۔ قانونی نوٹس میں اے آروائی چینل پر 28 اکتوبرکونشر ہونیوالے انٹرویو میں استعمال کی گئی زبان کومبینہ طور پرتوہین آمیزاور ناقابلِ قبول قرار دے کر اس کی نشریات روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ڈاکٹرشیریںمزاری نے واضح کیاہے کہ چیئرمین تحریک انصاف مبشرلقمان کیساتھ انٹرویو میں پیش کیے گئے اپنے خیالات پر بدستور قائم ہیں۔ انھوں نے بتایا ہے کہ چیئرمین تحریک انصاف کے مطابق کسی بھی میڈیاہاؤس پر غیر ملکی رقوم کی وصولی اوربیرونی ایجنسیوں سے روابط کے الزامات انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے چنانچہ ان کی باقاعدہ تحقیقات ہونی چاہیے۔

ان کے مطابق چیئرمین تحریک انصاف نے زور دے کرکہاہے کہ اس بات سے قطع نظر کہ ایسے الزامات کس میڈیا گروپ کیخلاف ہیں، ان کی تحقیقات ہونی چاہیے۔ ڈاکٹر شیریں مزاری نے واضح کیاکہ چیئرمین تحریک انصاف نے اس حوالے سے از خودکوئی نتیجہ اخذکرنے کے بجائے بجا طور پر تحقیقات ہی کامطالبہ کیاہے۔انھوں نے کہاہے کہ اگرچہ چیئرمین تحریک انصاف نے واضح طورپرتحقیقات کامطالبہ کیاہے تاہم انھوں نے اپنی جانب سے کوئی نتیجہ اخذکرنے سے یکسرگریزکیاہے۔ انھوں نے کہاہے کہ کسی بھی سیاسی رہنمایاشہری کوملکی سلامتی سے متعلق سنجیدہ الزامات کے حوالے سے تحقیقات کامطالبہ کرنے پر اس نوعیت کے طرزعمل کانشانہ بناناباعث تشویش ہے۔

اپنے بیان میں ڈاکٹرشیریں مزاری نے استفسارکیاکہ ایسے سنجیدہ اورواضح الزامات کی تحقیقات اورحقائق تک رسائی کیلیے اقدامات کے مطالبے میںتوہین کاپہلوکیسے نکلتاہے۔انھوں نے کہاہے کہ ایسے میںجب چیئرمین تحریک انصاف نے الزامات کی تحقیقات کامطالبہ کرتے ہوئے کسی بھی میڈیاگروپ کانام نہ لیاہویہ نوٹس ازخودبھیجنے والے میڈیاگروپ کیخلاف ہتک عزت کاقانونی نوٹس بن جاتاہے۔نوٹس میں ہندوستانی اخبار''ہندوستان ٹائمز''کے مضبوط دفاع پرتعجب کااظہارکرتے ہوئے انھوں نے کہاہے کہ جنگ جیوگروپ کی یہ کوشش بھی باعث حیرت ہے۔شیریں مزاری کے مطابق چیئرمین تحریک انصاف کیخلاف قانونی نوٹس میں عمران خان کے جیوگروپ کے پاکستان کرکٹ سیریزنشرکرنے کے حقوق کے حصول کے طریقہ کارسے متعلق سوالات کا معاملہ بھی اٹھایا گیا ہے۔




ان کا کہنا ہے کہ یوں محسوس ہوتاہے جیسے ایک سیاسی رہنما نہ تو حکومت کی جانب سے نشریات کے حقوق کی تقسیم کے طریقہ کارکے بارے میں جان سکتاہے اور نہ ہی اسے یہ پوچھنے کاحق ہے کہ پاکستان ٹیلی ویژن نیٹ ورک، جو کہ ریاستی نشریاتی ادارہ ہے، نے نشریاتی حقوق کے حصول کیلیے بولی میں حصہ کیوں نہ لیا۔ اس رویے کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے انھوں نے کہا ہے کہ شفافیت کا مطالبہ جمہوری عمل کا حصہ ہے اور پارلیمان میں بھی اسی نوعیت کے سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ملک کی دوسری بڑی سیاسی جماعت کے پارلیمانی رہنماکے طور پر عمران خان کا یہ حق ہے کہ وہ حکومت کی جانب سے ایسے معاہدوں اور بولیوں کے بارے میں کیے گئے فیصلوں کی تفصیلات طلب کرسکیں۔

انھوں نے استفسار کیا ہے کہ ایک اہم سیاسی جماعت کے رہنما اور قومی سطح کے قائد کی جانب سے اپنے حق کے استعمال میں توہین کا پہلو کیسے نکلتا ہے؟ شیریں مزاری نے قانونی نوٹس کو مجرمانہ ذہن کاعکاس قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام آزادی اظہار رائے کو سلب کرنے کی کوشش ہے اور اس سے انٹرویو کرنے والے صحافی/اینکر کی کھلم کھلا کردار کشی بھی کی جا رہی ہے ۔ان کے مطابق اپنے لیے آزادی اظہار رائے کا مطالبہ کرنے والے دوسروں کیلیے یہ حق برداشت کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں۔انھوں نے چیئرمین تحریک انصاف کے انٹرویو پرجنگ اور جیو گروپ کے احساس جرم اورغصے کوبھی بے جااوربے معنی قرار دیا ہے ۔ انھوں نے استفسار کیاجنگ اورجیوگروپ کو تحریک انصاف کی قیادت خصوصاً عمران خان کی جانب سے کسی بھی صحافی کو دیے گئے انٹرویو پر اعتراض کا کیا حق ہے اوران کے پاس اس بارے میں کوئی بھی فیصلہ کرنے کاکیا اختیار ہے ؟

ڈاکٹر شیریں مزاری نے نشاندہی کی ہے کہ چیئرمین تحریک انصاف نے جیو گروپ اور جنگ اخبار، جہاں ایک ہفتہ وارکالم کے ذریعے بلا جواز الزامات عائد کیے جاتے ہیں، کی بے جا تنقید اور ذاتی حملوں پر غیر معمولی صبرو تحمل کا مظاہرہ کیا ہے ۔ انھوں نے 15اکتوبر 2013کو جنگ اور جیو گروپ کے سربراہ میر شکیل الرحمان کے نام مراسلے میں کیے گئے احتجاج سے بھی آگاہ کیا ہے جس میں تحریر کیا گیاتھا کہ سیاسی طنزومزاح کے نام پرجیو چینل پرچیئرمین تحریک انصاف کیخلاف دشنام دارازی اور ان کی شخصیت کا مذاق اڑانے کی ایک باقاعدہ تحریک کو ہوا دی جا رہی ہے۔شیریں مزاری کے مطابق اس سب کے باوجود تحریک انصاف اب تک جنگ اور جیوگروپ کیخلاف کسی قسم کی قانونی چارہ جوئی سے گریز کا فیصلہ کئے ہوئے تھی۔

تاہم چیئرمین تحریک انصاف کیخلاف اسی لایعنی توہین آمیز اور آمرانہ قانونی نوٹس کے بعد ہم اپنے فیصلے پرنظرثانی کریںگے۔ انھوں نے واضح کیاکہ چیئرمین عمران خان انٹرویو میں پیش کیے گئے خیالات پر پوری طرح سے قائم ہیں اورہم متفقہ طور پر ان خیالات کی مکمل تائیدکرتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ ہم نہ تو آزادی اظہاررائے کے اپنے بنیادی جمہوری حق سے دستبردار ہوسکتے ہیں اور نہ ہی ملکی سلامتی سے متعلق سنجیدہ ترین سوالات سامنے آنے پرکسی بھی خوف یاخدشے کے پیش نظرخاموشی اختیارکرسکتے ہیں۔
Load Next Story