الیکشن کمیشن کا بیلٹ پیپر نجی اداروں سے چھپوانے کا فیصلہ مقناطیسی سیاہی استعمال نہ کرنے پر بھی غور

کمیشن میںجاری طویل اجلاس بے نتیجہ ختم،آج دوبارہ ہوگا،نجی پرنٹنگ ادارے بھی مدعو،ضابطہ اخلاق جاری کیے جانے کاامکان

کرنسی نوٹوں،ڈاک ٹکٹوں کی چھپائی میںمصروف ہیں،بیلٹ پیپرزکی چھپائی کیلیے تیارنہیں،پاکستان سیکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن۔ فوٹو: فائل

بلدیاتی انتخابات کے لیے بیلٹ پیپرزکی پرنٹنگ اورمقناطیسی سیاہی کی تیاری کے حوالے سے الیکشن کمیشن میںجاری طویل اجلاس نتیجہ خیزثابت نہ ہوسکا۔

الیکشن کمیشن ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن نے بیلٹ پیپرزکی تیاری کے لیے نجی کمپنیوںکو آج الیکشن کمیشن بلالیا جبکہ مقناطیسی سیاہی استعمال نہ کرنے پر غورکیا گیاہے۔ پی سی ایس آئی آرنے الیکشن کمیشن کومقناطیسی سیاہی کے اخراجات کاتخمینہ ڈھائی ارب سے زائدبتایا ہے اورمجوزہ شیڈول کے مطابق سیاہی کی تیاری کو ناممکن قراردیا ہے جس کے بعدالیکشن کمیشن نے مجوزہ شیڈول کے مطابق انتخابات کے انعقادکو ممکن بنانے کے لیے مقناطیسی سیاہی کے فیصلے کوموخرکرنے پرغور کیاہے۔ پرنٹنگ کارپوریشن نے بتا دیاکہ اتنی بڑی تعدادمیں بیلٹ پیپرزکی تیاری ممکن نہیں، کم ازکم 3ماہ کاوقت چاہیے ہوگا جبکہ پی سی ایس آئی آرکی جانب سے اخراجات کوکم کرنے کے لیے مقناطیسی سیاہی کے پیڈکی لائف 6گھنٹے سے 12گھنٹے کرنے کی تجویزکو بھی ناممکن قرردیاہے۔




الیکشن کمیشن نے 22لاکھ پیڈ کاتخمینہ لگایا تھاکہ پی سی ایس آئی سے کہاجائے گاکہ پیڈ کی لائف کو 6گھنٹے سے 12گھنٹے کیاجائے جسے متعلقہ ادارے نے ناممکن قراردیاہے اورواضح کردیاکہ مقناطیسی سیاہی کی لائف 6گھنٹے سے زیادہ نہیںہو سکتی۔ الیکشن کمیشن نے بیلٹ پیپرزکی تیاری کے کام کو نجی کمپنیوںسے کرانے کے لیے آج نجی کمپنیوں کو الیکشن کمیشن بلایاہے۔ کمیشن نے یہ بھی فیصلہ کیاہے کہ بلدیاتی انتخابات نئی ووٹرلسٹوںکے مطابق کرائے جائیںگے اور بیلٹ پیپر6 مختلف رنگ کے ہوںگے۔ کاغذ کی درآمدکے فیصلے کو بھی موخرکرنے پرغورکیاگیاہے۔ مارکیٹ میںدستیاب پیپر سے بیلٹ پیپرتیارکرائے جائیںگے۔ اس وقت سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میںوقت کی کمی کے باعث امپورٹڈ کاغذ لانامشکل ہو جائے گا۔ مانیٹرنگ ڈیسک کے مطابق الیکشن کمیشن نے کہاکہ بلدیاتی انتخابات کے لیے پرنٹنگ کارپوریشن مطلوبہ تعدادمیںبیلٹ پیپرزنہیںچھاپ سکتی تو کسی دوسرے ادارے سے چھپوالیںگے۔

Recommended Stories

Load Next Story