مردم شماری پر سندھ کے تحفظات

شہرکے مسائل اتنے بڑھ چکے ہیں کہ عام آدمی کا جینا دوبھر ہوگیا ہے۔

شہرکے مسائل اتنے بڑھ چکے ہیں کہ عام آدمی کا جینا دوبھر ہوگیا ہے۔

سندھ اسمبلی نے پرائیویٹ ممبرڈے کے موقعے پر چھٹی قومی مردم شماری پر تھرڈ پارٹی آڈٹ کے لیے پیش کردہ ایک قرارداد جسے ایوان کے تمام پارلیمانی گروپوں کی تائید حاصل تھی متفقہ طور پر منظور کر لی۔ اگر ہم اس قرارداد کا پس منظر سمجھنا چاہتے ہیں تو حالیہ مردم شماری کے نتائج کے مطابق کراچی کی آبادی ایک کروڑ 49 لاکھ سے زائد ہے۔

ان اعدادوشمارکو ماہرین تو درست قرار دیتے ہیں لیکن سیاسی جماعتیں تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ حکومت سندھ نے تو مردم شماری کے ابتدائی نتائج کو ہی مسترد کر دیا ہے الزام یہ ہے کہ وفاقی حکومت نے قومی مالیاتی ایوارڈ میں حصہ نہ بڑھانے کے لیے سندھ کی آبادی کو کم ظاہرکیا ہے۔


دوسرا موقف کچھ یوں ہے کہ شہر پرآبادی کا دباؤ بڑھ رہا ہے ، پورے ملک سے آبادی منتقل ہو رہی ہے جب کہ شہر کی آبادی میں گزشتہ 17 برس میں صرف 60 فیصد اضافہ دکھایا جا رہا ہے جو منطقی اور علمی طور پرممکن نہیں ہے۔

کراچی میں ہزاروں کی تعداد میں کثیرالمنزلہ عمارتیں موجود ہیں ، پورے ایشیا میں سب سے زیادہ کچی آبادیاں یہاں ہیں۔ صوبائی وزیر اطلاعات سعید غنی کے بقول ہم نے اپنے خدشات کو اس وقت کی اسمبلی ، سینیٹ اور حکومت کے سامنے رکھا تھا۔ ہم نے جب جب یہ تحفظات اٹھائے تو اسے نظراندازکیا گیا۔کراچی میں دیگر صوبوں میں نقل مکانی ہو رہی ہے۔

آبادی کا دباؤ بے تحاشا بڑھنے کی وجہ سے پورے شہرکا انفرا اسٹرکچر تباہ ہوچکا ہے، شہرکے مسائل اتنے بڑھ چکے ہیں کہ عام آدمی کا جینا دوبھر ہوگیا ہے۔ یہ متفقہ قرارداد اس امرکی متمنی ہے کہ وفاقی حکومت مردم شماری پر سندھ کے تحفظات کو دورکرے تاکہ انصاف اور مساوات کا عمل پاکستان کے تمام شہریوں کے ساتھ روا رکھا جاسکے۔
Load Next Story