ڈرون ہلاکتوں پر محکمہ دفاع کا موقف
ایمنسٹی کے نزدیک ان حملوں میں مارے جانے والوں کی اکثریت کا تعلق عسکریت پسندی سے نہیں ہے۔
وزیراعظم میاں نواز شریف جب امریکا میں تھے تو اس وقت ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ڈرون حملوں میں ہونے والی ہلاکتوں کو جنگی جرائم کے زمرے میں شمار کیا۔ فوٹو: اے ایف پی/ فائل
پاکستان کے محکمہ دفاع کے سینیٹ میں پیش کیے گئے تحریری بیان میں کہا گیا ہے کہ2008سے اب تک 317 امریکی ڈرون حملوں میں 2,160 دہشت گرد مارے گئے جب کہ 67 عام شہری جاں بحق ہوئے ہیںجو ان ہلاکتوں کا 3 فیصد بنتے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ 2012ء سے اب تک دو سال کے دوران ڈرون حملوں میں کوئی عام شہری جاں بحق نہیں ہوا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ حکومت نے امریکی ڈرون حملوں سے ہونے والی ہلاکتوں کی تاریخ وار وضاحت کی ہے۔ وزارت دفاع نے یہ بیان مسلم لیگ ن کے سینیٹر نثار محمد کے سوال کے جواب میں دیا ہے۔ وزارت دفاع کے اس جواب سے تو ظاہر ہوتا ہے کہ ڈرون حملوں میں سویلین ہلاکتیں انتہائی کم ہیں لیکن دوسری طرف پاکستان کے سیاستدان' علماء کرام اور دانشور ڈرون حملوں میں سویلین ہلاکتوں کی تعداد بہت زیادہ بتاتے ہیں۔
وزیراعظم میاں نواز شریف جب امریکا میں تھے تو اس وقت ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ڈرون حملوں میں ہونے والی ہلاکتوں کو جنگی جرائم کے زمرے میں شمار کیا کیونکہ ایمنسٹی کے نزدیک ان حملوں میں مارے جانے والوں کی اکثریت کا تعلق عسکریت پسندی سے نہیں ہے۔ قبل ازیں اقوام متحدہ کے خصوصی نمایندے بین ایمرسن نے ستمبر میں جنرل اسمبلی میں جو رپورٹ جمع کروائی تھی، اس میں بھی امریکی امریکی ڈرون حملوں میں مارے جانے والے عام شہریوں کا سوال اٹھایا گیا تھا اور واشنگٹن سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ ڈرونز سے ہونے والی ہلاکتوں کے اعداد و شمار شایع کر ے۔ ڈرون حملوں پر تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں ہزاروں کی تعداد میں بیگناہ افراد لقمہ اجل بنے ہیں جس کے نتیجے میں ملک میں شدت پسندی میں الٹا اضافہ ہوا ہے۔
وزیر اعظم نواز شریف نے، جنہوں نے گزشتہ ہفتے امریکی صدر اوباما سے ملاقات کی تھی، ڈرون حملوں کے بارے میں بھی سوال اٹھایا تھا۔ادھر امریکی ایوانِ نمایندگان کی خارجہ امور کی کمیٹی کے ایک رکن ایلن گریسن نے کہا ہے کہ اگر پاکستان چاہے تو ڈرون حملے کل بند ہو سکتے ہیں۔ گریسن کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان حملوں میں مارے جانے والے بیگناہ شہریوں کو امریکا کی طرف سے معاوضہ دیا جانا چاہیے۔ یوں دیکھا جائے تو ڈرون حملوں کا ایشو حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہو گیا ہے' اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اس معاملے کو کس انداز میں حل کرتی ہے۔
وزیراعظم میاں نواز شریف جب امریکا میں تھے تو اس وقت ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ڈرون حملوں میں ہونے والی ہلاکتوں کو جنگی جرائم کے زمرے میں شمار کیا کیونکہ ایمنسٹی کے نزدیک ان حملوں میں مارے جانے والوں کی اکثریت کا تعلق عسکریت پسندی سے نہیں ہے۔ قبل ازیں اقوام متحدہ کے خصوصی نمایندے بین ایمرسن نے ستمبر میں جنرل اسمبلی میں جو رپورٹ جمع کروائی تھی، اس میں بھی امریکی امریکی ڈرون حملوں میں مارے جانے والے عام شہریوں کا سوال اٹھایا گیا تھا اور واشنگٹن سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ ڈرونز سے ہونے والی ہلاکتوں کے اعداد و شمار شایع کر ے۔ ڈرون حملوں پر تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں ہزاروں کی تعداد میں بیگناہ افراد لقمہ اجل بنے ہیں جس کے نتیجے میں ملک میں شدت پسندی میں الٹا اضافہ ہوا ہے۔
وزیر اعظم نواز شریف نے، جنہوں نے گزشتہ ہفتے امریکی صدر اوباما سے ملاقات کی تھی، ڈرون حملوں کے بارے میں بھی سوال اٹھایا تھا۔ادھر امریکی ایوانِ نمایندگان کی خارجہ امور کی کمیٹی کے ایک رکن ایلن گریسن نے کہا ہے کہ اگر پاکستان چاہے تو ڈرون حملے کل بند ہو سکتے ہیں۔ گریسن کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان حملوں میں مارے جانے والے بیگناہ شہریوں کو امریکا کی طرف سے معاوضہ دیا جانا چاہیے۔ یوں دیکھا جائے تو ڈرون حملوں کا ایشو حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہو گیا ہے' اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اس معاملے کو کس انداز میں حل کرتی ہے۔