بلوچستان میں بدامنی کے مزید واقعات
پاک ایران سرحدی علاقے کی مانیٹرنگ سخت ہونی چاہیے اور اس تنازعہ کا فوری حل نکلنا چاہیے۔
بم دھماکا اور ایرانی بارڈر فورسز کی فائرنگ کا واقعہ بلوچستان کی مخدوش سیکیورٹی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔ فوٹو: آن لائن
بدھ کو کوئٹہ میں بم دھماکے میں 4 افراد جاںبحق جب کہ 21 زخمی ہوگئے ، بم گنجان آباد علاقے میں نصب تھا جب کہ امدادی کارروائیوں کے دوران دوسرا بم بھی پھٹ گیا۔ادھر پنجگور کے علاقے پروم میں پاک ایران سرحد پر ایرانی بارڈر فورسز کی جانب سے پاکستانی علاقے میں ایک گاڑی پر فائرنگ کے باعث 2 افراد شدید زخمی ہوگئے' زخمیوں کو تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کریا گیا' اطلاع ملنے پر پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے موقع پر پہنچ کر 6 مشتبہ افراد کو گرفتار کرکے 3گاڑیاں قبضے میں لے لیں۔ بم دھماکا اور ایرانی بارڈر فورسز کی فائرنگ کا واقعہ بلوچستان کی مخدوش سیکیورٹی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔ صوبہ میں انتہا پسندی شورش اور بدامنی میں شدت آنے کے باعث امن و استحکام، متحارب سیاسی قوتوں اور ناراض بلوچ رہنمائوں سے بات چیت کا ہنوز کوئی دروزہ کھلتا نظر نہیں آتا ، کل جماعتی کانفرنس کس قدر تنائو اور انارکی کے خاتمے میں مدد دے سکے گی اس کا بھی یقین سے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔
ادھر ایران میں پاکستان کے ناظم الامور سہیل صدیقی نے کہا ہے کہ ایران کے جنوب مشرقی علاقے سراوان میں دہشتگردی میں ملوث عناصر اگر پاکستان میں پائے گئے تو انھیں ایران کے حوالے کردیا جائے گا، یاد رہے کہ دو روز قبل پاک ایران سرحد پر دونوں اطراف سے سیکیورٹی فورسز کے فائرنگ کے تبادلے میں 14 ایرانی سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔ در اندازی کا یہ واقعہ بھی تشویش ناک ہے، پاک ایران سرحدی علاقے کی مانیٹرنگ سخت ہونی چاہیے اور اس تنازعہ کا فوری حل نکلنا چاہیے۔ مزیدبرآں ڈیرہ بگٹی کے علاقے زینکو سے 5 روز پرانی دو لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ لیویز ذرایع کے مطابق دونوں افراد کو گولیاں مارکر قتل کیا گیا ہے۔پاکستان میں اغوا ہونے والی دو چیک خواتین کی نئی ویڈیو جاری کی گئی ہے ، ویڈیو میں ایران سے بلوچستان میںداخل ہوتے ہوئے13 مارچ کو اغوا ہونے والی خواتین نے اپنی جلد رہائی کی اپیل کی ہے یہ واقعات بلوچستان میں بدامنی کے خاتمہ کی اولین ضرورت کا احساس دلاتے ہیں۔حکام علاقے کی سیکیورٹی کو یقینی بنائیں۔
ادھر ایران میں پاکستان کے ناظم الامور سہیل صدیقی نے کہا ہے کہ ایران کے جنوب مشرقی علاقے سراوان میں دہشتگردی میں ملوث عناصر اگر پاکستان میں پائے گئے تو انھیں ایران کے حوالے کردیا جائے گا، یاد رہے کہ دو روز قبل پاک ایران سرحد پر دونوں اطراف سے سیکیورٹی فورسز کے فائرنگ کے تبادلے میں 14 ایرانی سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔ در اندازی کا یہ واقعہ بھی تشویش ناک ہے، پاک ایران سرحدی علاقے کی مانیٹرنگ سخت ہونی چاہیے اور اس تنازعہ کا فوری حل نکلنا چاہیے۔ مزیدبرآں ڈیرہ بگٹی کے علاقے زینکو سے 5 روز پرانی دو لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ لیویز ذرایع کے مطابق دونوں افراد کو گولیاں مارکر قتل کیا گیا ہے۔پاکستان میں اغوا ہونے والی دو چیک خواتین کی نئی ویڈیو جاری کی گئی ہے ، ویڈیو میں ایران سے بلوچستان میںداخل ہوتے ہوئے13 مارچ کو اغوا ہونے والی خواتین نے اپنی جلد رہائی کی اپیل کی ہے یہ واقعات بلوچستان میں بدامنی کے خاتمہ کی اولین ضرورت کا احساس دلاتے ہیں۔حکام علاقے کی سیکیورٹی کو یقینی بنائیں۔