ناقابل اعتبار بیٹنگ کیلیے آزمائش کی ایک اور گھڑی آگئی

شکست میں الجھے رہے تو مشکل بڑھ جائے گی،پلیئرز پریشر میں کھیلنا سیکھیں ،مصباح

دبئی:پریکٹس سیشن کے دوران وکٹوں پر درست نشانہ لگانے والے پاکستانی کھلاڑی عمر اکمل خوشی کا اظہار کررہے ہیں ، جنوبی افریقہ سے دوسرا ون ڈے آج ہوگا۔ فوٹو: اے ایف پی

پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان ون ڈے سیریز کا دوسرا میچ جمعے کو دبئی اسپورٹس سٹی اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔

ناقابل اعتباربیٹنگ لائن کیلیے آزمائش کی ایک اورگھڑی آگئی، منزل پر پہنچ کر ہمت ہارنے کی بیماری نے ٹیم مینجمنٹ کو پریشان کردیا، دبائو میں ہاتھ پائوں پھول جانے کا مرض خطرناک مرحلے پر پہنچ گیا، کپتان مصباح الحق بھی پہلے میچ میں ناکامی کی وجہ بیان کرنے سے قاصر ہوگئے، ان کا کہنا ہے کہ ہم اسی شکست میں الجھے رہے تو مشکل بڑھ جائے گی، بہتر ہے کہ کھلاڑی دبئی کے میچ کو نیا معرکہ سمجھ کر کھیلیں۔ پلیئنگ الیون میں ردوبدل کا امکان موجود اور عمر امین کی جگہ اسد شفیق کو موقع مل سکتا ہے، البتہ انجرڈ احمد شہزاد کے نہ کھیلنے کی صورت میں عمر کی جگہ محفوظ رہے گی۔ دوسری جانب شکست کا منہ موڑنے سے پروٹیز کے حوصلے آسمان کو چھونے لگے، سیریز میں برتری دگنی کرنے کو مقصد قرار دے دیا، کپتان ابراہم ڈی ویلیئرز کا کہنا ہے کہ پہلے ہی جانتے تھے کہ پاکستانی بیٹنگ لائن 4 نمبر تک جاتی ہے، ہم دوسرے معرکے کیلیے تیار ہیں۔




تفصیلات کے مطابق پاکستان کرکٹ ٹیم نے شارجہ میں پہلے میچ میں 183 رنز کے معمولی ہدف کو بھی حاصل نہ کرکے ثابت کردیا کہ اس پر ناقابل پیشگوئی ہونے کی چھاپ درست ہے، بیٹنگ لائن پر سے شائقین کا تھوڑا بہت بھروسہ بھی ختم ہو چکا،اب یہی ناقابل اعتبار بیٹنگ لائن نئی آزمائش کے لیے ہمت مجتمع کرنے میں مصروف ہے۔ گذشتہ روز کھلاڑیوں نے دبئی کے اسپورٹس سٹی اسٹیڈیم میں بھرپور پریکٹس کی اور شارجہ کی شرمناک شکست کو بھولنے کی کوشش میں لگے رہے،اس دوان مصباح الحق نے اپنے نائب محمد حفیظ کے ہمراہ پچ کا بھی معائنہ کیااور دوسرے میچ کیلیے حکمت عملی طے کی۔ پاکستانی الیون میں ردوبدل کا امکان موجود ہے، عمر امین کی جگہ اسد شفیق کو موقع مل سکتا ہے، احمد شہزاد کے نہ کھیلنے کی صورت میں عمر کی جگہ بچ جائے گی۔

کپتان مصباح الحق نے کہاکہ اگر ہم اسی بات میں الجھے رہے کہ گذشتہ میچ میں کیا ہوا تو مشکل بڑھ جائے گی، ہمیں اسے بھول کو آگے بڑھنے اور دوسرے معرکے کو نئے گیم کی طرح لینا ہوگا، شارجہ میں بیٹنگ کی ناکامی کے بارے میں انھوں نے کہا کہ آخری 6 بیٹسمینوں کو معلوم ہونا چاہیے تھا کہ انھیں کتنے رنز بنانے اور کس طرح بیٹنگ کرنی ہے، انھوں نے انتہائی ناقص شاٹس کھیلے، میرے خیال میں یہی سب سے مناسب وقت ہے کہ کھلاڑی پریشر میں کھیلنا سیکھ لیں۔دوسری جانب جنوبی افریقہ کے کپتان ابراہم ڈی ویلیئرز نے کہا کہ ہمیں تو شروع سے ہی اس بات کا یقین تھا کہ کسی بھی وقت میچ کا پانسہ پلٹ سکتے ہیں، صرف ابتدائی چار کھلاڑیوں کو آئوٹ کرنے کی ضرورت تھی اس کے بعد دیگر پلیئرز سے نمٹناآسان تھا، عمران طاہر نے اچھی بولنگ کی مگر کریڈٹ لونوابو سوٹسوبے کو دینا چاہیے، ان کی2 وکٹوں نے کام آسان کیا جس کے بعد عمران نے اپنا جادو جگایا۔ انھوںنے مزید کہا کہ ٹیم دبئی میں بھی فتح کا پرچم بلند رکھنے کیلیے پُرعزم ہے، البتہ بیٹسمینوں کو اس بار زیادہ ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے بڑا مجموعہ اسکور بورڈ پر سجانا ہوگا۔
Load Next Story