پاکستانی کرکٹ حلقوں میں بال ٹیمپرنگ پر بحث چھڑگئی
اسپنرز بھی گیند سے چھیڑچھاڑکرتے ہیں،خود بھی کئی بارایسا کرچکا،مشتاق محمد
60 اوورز بعد بال بدل دی جائے(عامر)پرانی گیند سے ریورس سوئنگ ہوسکتی ہے، سرفراز۔ فوٹو: فائل
پاکستانی کرکٹ حلقوں میں بال ٹیمپرنگ پر بحث چھڑگئی،سابق کپتان مشتاق محمد کے مطابق یہ کوئی نئی بات نہیں۔
جنوبی افریقی پلیئر ڈو پلیسی کے ملوث ہونے پراتنا شور کیوں مچایا جارہا ہے،اسپنرز بھی گیند کی سلائیوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتے ہیں، میں خود کئی مرتبہ ایسا کرچکا ہوں۔ تفصیلات کے مطابق دبئی ٹیسٹ میں پروٹیز پلیئر فاف ڈوپلیسی کو ٹیلی ویژن کیمروں نے گیند خراب کرتے ہوئے پکڑ لیا، امپائرز نے بال تبدیل کرنے کے ساتھ پاکستان کو 5پنالٹی رنز بھی دیے، بعد ازاں میچ ریفری نے ڈوپلیسی پر میچ فیس کا50 فیصد جرمانہ عائد کر دیا،اس کے بعد پاکستانی کرکٹ حلقوں میں ایک بحث چھڑی ہوئی ہے،سابق کپتان مشتاق احمد نے کہاکہ ہر ٹیم کسی نہ کسی انداز میں بال ٹیمپرنگ کرتی ہے، مجھے حیرت ہے کہ ٹیسٹ سیریز میں پروٹیز کی جانب سے ایسا ہونے پر کیوںاتنا شور کیوں مچایا گیا، میرے دور میں گیند کی پکڑ بہتر بنانے کیلیے اسپنرز سلائیاں اکھاڑ دیا کرتے تھے، چند مرتبہ خود میں نے بھی ایسا کیا تھا۔
انھوں نے کہا کہ بال ٹیمپرنگ کے باوجود بولرز کے کامیاب ہونے اور تیزی سے وکٹیں لینے کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی، ریورس سوئنگ پر آج بھی گنے چنے پیسرز ہی مہارت رکھتے ہیں۔ مشتاق محمد نے کہا کہ جرم کو دیکھا جائے تو فاف ڈوپلیسی کو کم سزا دی گئی۔ایک اور سابق کپتان عامرسہیل نے سابقہ موقف دہراتے ہوئے کہا کہ آئی سی سی قوانین کے تحت جو سزا بنتی تھی پروٹیز پلیئر کو وہی دی گئی، اگر کسی کو اس ضمن میں بنائے جانے والے قواعد و ضوابط پر اعتراض تھا تو آئی سی سی کے اجلاس میں اٹھایا جاسکتا تھا،اب ایک فضول بحث میں پڑنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ عامر سہیل نے تجویز پیش کی کہ اگر60اوورز کے بعد گیند تبدیل کردی جائے تو ٹیمپرنگ کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ سابق پیسر سرفراز نواز نے کہا کہ بولرز اور فیلڈرز نئی گیند کو ہی ایک طرف سے کھردرا بنانے کی کوشش کرتے ہیں، 40یا 50اوورز پرانی گیند ریورس سوئنگ کے قابل لیکن نرم ہوتی ہے، ابتدا میں ہی چھیڑ چھاڑ کے نتیجے میں بال تیز اور بیٹسمین کیلیے زیادہ مہلک بن جاتی ہے۔
جنوبی افریقی پلیئر ڈو پلیسی کے ملوث ہونے پراتنا شور کیوں مچایا جارہا ہے،اسپنرز بھی گیند کی سلائیوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتے ہیں، میں خود کئی مرتبہ ایسا کرچکا ہوں۔ تفصیلات کے مطابق دبئی ٹیسٹ میں پروٹیز پلیئر فاف ڈوپلیسی کو ٹیلی ویژن کیمروں نے گیند خراب کرتے ہوئے پکڑ لیا، امپائرز نے بال تبدیل کرنے کے ساتھ پاکستان کو 5پنالٹی رنز بھی دیے، بعد ازاں میچ ریفری نے ڈوپلیسی پر میچ فیس کا50 فیصد جرمانہ عائد کر دیا،اس کے بعد پاکستانی کرکٹ حلقوں میں ایک بحث چھڑی ہوئی ہے،سابق کپتان مشتاق احمد نے کہاکہ ہر ٹیم کسی نہ کسی انداز میں بال ٹیمپرنگ کرتی ہے، مجھے حیرت ہے کہ ٹیسٹ سیریز میں پروٹیز کی جانب سے ایسا ہونے پر کیوںاتنا شور کیوں مچایا گیا، میرے دور میں گیند کی پکڑ بہتر بنانے کیلیے اسپنرز سلائیاں اکھاڑ دیا کرتے تھے، چند مرتبہ خود میں نے بھی ایسا کیا تھا۔
انھوں نے کہا کہ بال ٹیمپرنگ کے باوجود بولرز کے کامیاب ہونے اور تیزی سے وکٹیں لینے کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی، ریورس سوئنگ پر آج بھی گنے چنے پیسرز ہی مہارت رکھتے ہیں۔ مشتاق محمد نے کہا کہ جرم کو دیکھا جائے تو فاف ڈوپلیسی کو کم سزا دی گئی۔ایک اور سابق کپتان عامرسہیل نے سابقہ موقف دہراتے ہوئے کہا کہ آئی سی سی قوانین کے تحت جو سزا بنتی تھی پروٹیز پلیئر کو وہی دی گئی، اگر کسی کو اس ضمن میں بنائے جانے والے قواعد و ضوابط پر اعتراض تھا تو آئی سی سی کے اجلاس میں اٹھایا جاسکتا تھا،اب ایک فضول بحث میں پڑنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ عامر سہیل نے تجویز پیش کی کہ اگر60اوورز کے بعد گیند تبدیل کردی جائے تو ٹیمپرنگ کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ سابق پیسر سرفراز نواز نے کہا کہ بولرز اور فیلڈرز نئی گیند کو ہی ایک طرف سے کھردرا بنانے کی کوشش کرتے ہیں، 40یا 50اوورز پرانی گیند ریورس سوئنگ کے قابل لیکن نرم ہوتی ہے، ابتدا میں ہی چھیڑ چھاڑ کے نتیجے میں بال تیز اور بیٹسمین کیلیے زیادہ مہلک بن جاتی ہے۔