حالات یہی رہے تو کراچی ہمیں خدا حافظ کہہ دے گا اور ہم دیکھتے رہ جائیں گے سپریم کورٹ

کراچی کی نمائندگی کے دعویدار جرائم کی پشت پناہی کررہے ہیں،چیف جسٹس پاکستان

کراچی کو اسلحے اور منشیات سے پاک کیا جائے ، ملک ایسے نہیں چلتے،سماعت کے دوران ریمارکس۔ فوٹو: فائل

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ منشیات مافیا اتنی مضبوط ہے کہ اعلیٰ فوجی افسران بھی اس کے خلاف کارروائی سے ڈرتے ہیں۔

میجرجنرل رینک کا افسر بھی اسمگل شدہ سامان کے گڑھ یوسف گوٹھ اور سہراب گوٹھ کا نام لینے سے گریزاں ہے حالانکہ اس ادارے میں حاضر سروس افسران کو اسی لیے تعینات کیا گیا ہے کہ وہ ہمت سے کام کریں گے ورنہ اے این ایف میں ان کی تقرری کا کوئی جواز نہیں۔ جسٹس جواد خواجہ نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ کہا ہے کہ کراچی کو اسلحے اور منشیات سے پاک کیا جائے ، ملک ایسے نہیں چلتے ، اگر یہی حالات رہے تو کراچی ہمیں خدا حافظ کہہ دے گا اور ہم دیکھتے رہ جائیں گے۔ کراچی کی نمائندگی کے دعویدار جرائم کی پشت پناہی کررہے ہیں۔

یہ ریمارکس انھوں نے جمعرات کو کراچی بدامنی عمل درآمد کیس کی سماعت کے دوران دیے سپریم کورٹ نے منشیات کے خاتمے سے متعلق کسٹم ، میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی، پاکستان کوسٹ گارڈ اور اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف)کی مشترکہ رپورٹ مسترد کرتے ہوئے جمعے کو دوبارہ موثر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔ فاضل بینچ نے اسلحہ ڈیلروں کے لیے بیرون ملک سے آنیوالے اسلحے کی 3 سال کی تفصیلات بھی طلب کی ہیں جبکہ یہ ہدایت بھی دی ہے کہ افغان ٹرانزٹ کے سلسلے میں اسلحے کے ساتھ غائب ہونے والے کنٹینرز کی تعداد کے بارے میں بھی تفصیلات مہیا کی جائیں۔

جمعرات کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کراچی بدامنی عمل درآمد کیس کی سماعت جاری رکھی۔ سماعت کے موقع پر منیراے ملک نے کہاکہ انھوں نے چیئرمین ایف بی آر ودیگر اداروں سے مشاورت کی ہے چیف جسٹس نے چیئرمین ایف بی آر طارق باجوہ کو بلایا اورکہاکہ آپ نے جوجواب داخل کیا ہے اس میں ایک سطر بھی نہیں لکھی کہ آپ نے اہداف حاصل کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے؟۔ 3 دن سے سپریم کورٹ احکام جاری کررہی ہے مگر آپ ٹس سے مس نہیں ہوئے۔ اس پر چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ ان کا ادارہ اقدامات کرنے کیلیے سنجیدہ ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کے پاس ایک موقع تھا کہ آپ شعیب سڈل اور رمضان بھٹی کمیشن کی رپورٹ کا جائزہ لیتے اور اقدامات کرتے مگر یہ رپورٹس آپ کی ٹیبلز پر جمع ہیں اور آپ نے کام نہ کرنے کہ تہیہ کیا ہوا ہے۔

چیف جسٹس نے کہاکہ ہمیں عملی اقدامات سے دلچسپی ہے ۔آپ کے افسران کی کہانی یہ ہے کہ 1994 سے اسلحہ پورٹ پر پڑا ہے مگر انھیں یہ معلوم نہیں کہ یہ کس نے اور کہاں سے منگوایاتھا؟۔ عدالت نے کسٹم آفیسر ناصر مسرور سے پوچھا کہ سچ سچ بتائیں کہ سمندری راستے سے نیٹو ایساف کا اسلحہ آتا ہے یا نہیں؟۔، ناصرمسرور نے کہا کہ پورٹ کے ذریعے اسلحہ نہیں آتا جس پر چیف جسٹس نے برہمی کااظہار کیا کہ کیا آپ نے شعیب سڈل کی رپورٹ نہیں پڑھی۔عدالت نے اینٹی نارکوٹکس فورس کے میجر جنرل ظفراقبال ملک سے استفسارکیا کہ آپ کی اینٹلی جنس نے کوئی رپورٹ تیارکی ہے جیسا کہ کسٹم کے ڈائریکٹر اینٹلی جنس محمدریاض نے کی۔ جنرل ظفراقبال نے انٹیلی جنس یونٹ کے سربراہ میجر شجاعت کو جواب دینے کی ہدایت کی تاہم انھوں نے بتایا کہ ہمارے پاس کوئی تحریری رپورٹ نہیں ۔




سہراب گوٹھ اور یوسف گوٹھ کے بارے میں سناہے کہ یہاں اسمگل شدہ سامان ہے، کارروائی کرینگے ؟ ڈی جی ظفر اقبال نے بتایا کہ ہم نے 2002 میں 2بڑے آپریشن کیے۔چیف جسٹس نے کہا کہ یہ آپ کی ناک کے نیچے ہورہا ہے جس پر یہ الزام آپ عائد ہوتا ہے کہ آپ ان سے ملے ہوئے ہیں۔ جسٹس گلزار احمد نے بریگیڈیئر ابوذر پر برہمی کااظہارکیا کہ آپ اپنے گھر سے دفتر جاتے ہوئے کیا آنکھیں بند کرکے جاتے ہیں، آپ کے اپنے دفتر کے سامنے نشے کے عادی افراد پڑے ہوتے ہیں اور آپ آنکھیں بندکرکے گزر جاتے ہیں۔جسٹس جواد نے کہا کہ میں کئی بار سماعت کے لیے کراچی آیا، ہمیشہ کہا کہ ملک ایسے نہیں چلتے ، کراچی اسی صور ت میں بچ سکتا ہے جب اسلحہ منشیات پر قابو پایا جائے گا، ورنہ کراچی ہم سب کو خدا حافظ کہہ دے گا اور ہم دیکھتے رہ جائیں گے۔

چیف کللٹر کسٹم یحیی نے عدالت کو بتایاکہ پورٹ قاسم پر موجود اسلحہ 1992 میں کچھ کمپنیوں نے منگوایا، چیف جسٹس نے استفسارکیا کہ یہ اسلحہ کہاں سے کس نے بھیجا ،جلیل اینڈ جلیل کے نام سے لاہور کی جس کمپنی کے نام یہ اسلحہ بھیجا گیا اسکا وجود بھی ہے یا نہیں اوروہ یہ اسلحہ کیوں نہیں لے رہی ، جبکہ اس میں ایک کارتوس صرف 25پیسے کا پڑتا ہے ۔جسٹس خواجہ نے کہا کہ اتنا سستا کارتوس میرے ہوش میں کبھی نہیں رہا، تاہم کسٹم حکام اس بارے میں جواب نہ دے سکے ، فاضل بینچ نے انھیں جمعے کو اس بارے میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں بتائیں کہ نیٹو اور ایساف اور امریکا کا اسلحہ نیٹو کنٹینرز میں آیا کہ نہیں؟۔

چیف جسٹس نے چیرمین ایف بی آر کو طلب کیاکہ شعیب سڈل اور رمضان بھٹی کی رپورٹس آپ ٹیبلز پر رکھی ہیں مگر آپ اور آپ کے افسران کو زحمت نہیں آپ سمجھتے ہیں کہ شاید عدالت مذاق کررہی ہے۔ ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ہم کسی دوسری ایجنسی کو تحقیقات کرنے کے احکام جاری کردیں گے ہمارے سخت فیصلے کی زد میں آپ اور آپ کے افسران آئیں گے اور آپ کو گھروں میں واپس جانا پڑے گا، نااہل لوگوں کو گھر بھیج دینا چاہیے ،یہ لوگ ملک کی معیشت سے کھیل رہے ہیں ،چیف جسٹس نے چیف کلکٹر سے دریافت کیا کہ بتائیں نیٹو اور ایساف کنٹینرز میں کیا کیا آتا ہے۔چیف کلیکٹر محمد یحییٰ نے عدالت کو بتایاکہ نیٹو اور ایساف کنٹرز کو این ایل سی کے اسکینرز کے ذریعے چیک کیا جاتا ہے جہاں آئی ایس آئی اور ایم آئی بھی موجود ہوتی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں اللہ کی مدد حاصل ہے، ہمیں کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ ایک کرمنل آپ کے ملک کا قانون توڑتا ہے تو آپ اس کو کس بات کی رعائت دے رہے ہیں؟ ،ہم نے دیکھ لیا کوئی کام کرنے کو تیار نہیں۔ ٹھیک ہے ہم اپنا فیصلہ جاری کردیتے ہیں جس کے بعد چیف جسٹس افتخار محمد چوہدر ی نے حکم تحریر کراتے ہوئے کہاکہ مختلف گروہوں کو سیاسی جماعتوں کی سیاسی ،اخلاقی اور معاشی مکمل حمایت حاصل ہے اور ہم یہ پہلے کہہ چکے ہیں کہ سیاسی جماعتیں جو کراچی میں عوامی نمائندہ ہونے کے دعوے کرتی ہیں وہ ان جرائم پیشہ عناصر کی سرپرستی کررہی ہیں۔ایسی صورت حال میں انتظامیہ کی ذمے داری ہے کہ وہ شہرمیں امن وامان کی بحالی ،معیشت کی بہتری اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف سخت کارروائی کرے ۔

یہ بہت اہمیت کا حامل ہے کہ دونوں حکومتوں کی جانب سے سنجیدہ کوششوں کے بعد سپریم کورٹس میں رینجرز،پولیس اور چیف سیکریٹر ی کی پیش ہونے والی رپورٹس سے اندازہ ہوتاہے کہ حکومتیں اور قانون نافذکرنیوالے ادارے سنجیدہ کوششیں کررہے ہیں، پولیس اور رینجرز کی کاکردگی اطمینا ن بخش ہے جرائم پیشہ عناصر قانون سے بالاترنہیں ہوسکتاہے ، حالیہ کوششوں سے کوئی مطمئن نہ مگر پولیس اور رینجرز قانون کی مکمل عمل داری کیلیے اپنی ذمے داریاں اداکرنا جاری رکھے ، اگر ان جرائم پیشہ عناصر کی آمد ن کے ذرائع کو بند کردیا جائے تو قابو پایا جاسکتاہے۔

سندھ حکومت نے غیر قانونی اسلحے کے خلاف اشتہاری مہم چلائی مگر کرمنل عناصر نے کوئی تعاون نہیں کیا،یہ جرائم پیشہ عناصر انفرادی طور پر کام نہیں کررہے بلکہ ان کے گینگز بنے ہوئے ہیں ورنہ کراچی میں کوئی لسانی مسئلہ نہیں۔چیف جسٹس نے منیراے ملک کو حکم دیا کہ وہ سندھ حکومت ،کسٹم اور تمام اداروں کے ساتھ ملکر بیٹھیں اور اجلاس کرکے عدالت کو بتائیں کہ چیئرمین ایف بی آر ،کسٹم ،نارکوٹکس اور میری ٹائم سیکیورٹی کے ساتھ ملکر ایک منصوبہ ترتیب دیں اور وہ بتائیں کہ ان کے پاس اسلحہ منشیات کی سملنگ روکنے کیلیے کیا حکمت عملی ہے۔
Load Next Story