دھونی نے ایک بار پھر نئے قوانین کے خلاف ’تلوار‘ نکال لی
350 معمولی ہدف بن گیا،بولرزکے بجائے مشین سے کام چلا لینا چاہیے،بھارتی قائد
نئے قوانین کے بعد رنز کی رفتار روکنا بولرز کیلیے بہت بڑا چیلنج بن گیا،دھونی۔ فوٹو: فائل
بھارتی کپتان مہندرا سنگھ دھونی نے ایک بار پھر نئے ون ڈے قوانین کے خلاف 'تلوار' نکال لی۔
ان کا کہنا ہے کہ بولرز کے بجائے بولنگ مشین سے ہی کام چلا لینا چاہیے، 350 رنز بھی اب معمولی ہدف بن کر رہ گیا،7 گھنٹوں میں صرف چوکے اور چھکے ہی کیا کرکٹ رہ گئی ہے؟ ، اگر پچ فلیٹ نہ ہو تو 2 نئی گیندوں سے بیٹسمینوں کا بُرا حشر ہوجاتا ہے، ان خیالات کا اظہار انھوں نے آسٹریلیا کے خلاف چھٹے ون ڈے انٹرنیشنل میں پہاڑ جیسا ہدف عبور کرنے کے بعد میڈیا سے بات چیت کے دوران کیا۔ بھارت نے اس سیریز میں دوسری مرتبہ 350 پلس کا ہدف باآسانی حاصل کیا۔ اب تک دونوں ٹیموں کے درمیان چار میچز میں مجموعی طور پر 2565 رنز بنے،اس میں آسٹریلیا کا 295 کا وہ اسکور شامل نہیں جو اس نے رانچی میں بارش سے متاثرہ میچ میں بنایا تھا۔
دھونی نے کہاکہ نئے قوانین کے بعد رنز کی رفتار روکنا بولرز کیلیے بہت بڑا چیلنج بن گیا، یہ جنگ اب اس بات تک محدود ہوگئی کہ کس ٹیم کے بولرز کم بُری گیندیں کرتے ہیں، اندرونی دائرے کے اندر اضافی فیلڈر کی وجہ سے اگر آپ کے سامنے بڑا ہدف ہوتو بائونڈریز سے اسکور کرتے ہیں، بعض بولرز تو اتنے مایوس ہوچکے کہ کہتے ہیں کہ ان کی جگہ بولنگ مشین سے ہی کام لے لیا جائے، ہم نے نئے ون ڈے قوانین کے تحت زیادہ کرکٹ نہیں کھیلی، ہوسکتا ہے کہ بعد میں اس سے ہم آہنگ ہوجائیں، ہمیں دیکھو اور انتظار کرنے کی پالیسی پر عمل کرنا ہوگا موجودہ صورتحال کو کسی صورت بہتر قرار نہیں دیا جاسکتا، اچھے بیٹنگ ٹریکس پر اوس اور نئے قوانین کی بدولت بڑے سے بڑا ہدف آسانی سے حاصل کیا جاسکتا ہے لیکن جہاں پر پچ مشکل ہوئی وہاں دونوں اینڈ سے نئی گیند کے استعمال کی وجہ سے ٹیمیں150 سے 180 کے دوران آئوٹ ہوسکتی ہیں۔ دھونی نے مزید کہا کہ رنز کی یہ بہتات ہمیں کس جانب لے جارہی ہے اور نئے قوانین بناکر وہ ہم سے چاہتے کیا ہیں؟ کیا 7 گھنٹوں میں چوکوں اور چھکوں کی برسات کا نام ہی کرکٹ رہ گیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ بولرز کے بجائے بولنگ مشین سے ہی کام چلا لینا چاہیے، 350 رنز بھی اب معمولی ہدف بن کر رہ گیا،7 گھنٹوں میں صرف چوکے اور چھکے ہی کیا کرکٹ رہ گئی ہے؟ ، اگر پچ فلیٹ نہ ہو تو 2 نئی گیندوں سے بیٹسمینوں کا بُرا حشر ہوجاتا ہے، ان خیالات کا اظہار انھوں نے آسٹریلیا کے خلاف چھٹے ون ڈے انٹرنیشنل میں پہاڑ جیسا ہدف عبور کرنے کے بعد میڈیا سے بات چیت کے دوران کیا۔ بھارت نے اس سیریز میں دوسری مرتبہ 350 پلس کا ہدف باآسانی حاصل کیا۔ اب تک دونوں ٹیموں کے درمیان چار میچز میں مجموعی طور پر 2565 رنز بنے،اس میں آسٹریلیا کا 295 کا وہ اسکور شامل نہیں جو اس نے رانچی میں بارش سے متاثرہ میچ میں بنایا تھا۔
دھونی نے کہاکہ نئے قوانین کے بعد رنز کی رفتار روکنا بولرز کیلیے بہت بڑا چیلنج بن گیا، یہ جنگ اب اس بات تک محدود ہوگئی کہ کس ٹیم کے بولرز کم بُری گیندیں کرتے ہیں، اندرونی دائرے کے اندر اضافی فیلڈر کی وجہ سے اگر آپ کے سامنے بڑا ہدف ہوتو بائونڈریز سے اسکور کرتے ہیں، بعض بولرز تو اتنے مایوس ہوچکے کہ کہتے ہیں کہ ان کی جگہ بولنگ مشین سے ہی کام لے لیا جائے، ہم نے نئے ون ڈے قوانین کے تحت زیادہ کرکٹ نہیں کھیلی، ہوسکتا ہے کہ بعد میں اس سے ہم آہنگ ہوجائیں، ہمیں دیکھو اور انتظار کرنے کی پالیسی پر عمل کرنا ہوگا موجودہ صورتحال کو کسی صورت بہتر قرار نہیں دیا جاسکتا، اچھے بیٹنگ ٹریکس پر اوس اور نئے قوانین کی بدولت بڑے سے بڑا ہدف آسانی سے حاصل کیا جاسکتا ہے لیکن جہاں پر پچ مشکل ہوئی وہاں دونوں اینڈ سے نئی گیند کے استعمال کی وجہ سے ٹیمیں150 سے 180 کے دوران آئوٹ ہوسکتی ہیں۔ دھونی نے مزید کہا کہ رنز کی یہ بہتات ہمیں کس جانب لے جارہی ہے اور نئے قوانین بناکر وہ ہم سے چاہتے کیا ہیں؟ کیا 7 گھنٹوں میں چوکوں اور چھکوں کی برسات کا نام ہی کرکٹ رہ گیا ہے۔