قومی ہاکی ٹیم کی ایشین گیمزمیں شرکت مشکوک
ڈیڈ لائن گزرگئی، پی او اے کی کئی بار یاددہانی کے باوجود پی ایچ ایف نے جواب نہ دیا
ستمبرمیں چین کے شہر انچن میں ہونے والے ایشین گیمز میں شرکت پر بھی سوالیہ نشان لگ گیا۔ فوٹو : فائل
قومی ہاکی ٹیم کی ایشین گیمزمیں شرکت مشکوک ہوگئی، ڈیڈ لائن گزرچکی، پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کی بار بار یاد دہانی کے باوجود پی ایچ ایف نے کوئی جواب دینا گوارا نہ کیا۔
تفصیلات کے مطابق پی او اے کے متوازی دھڑوں کے تنازع کی وجہ سے قومی ہاکی ٹیم گلاسگو میں شیڈول کامن ویلتھ گیمز2014 میں شمولیت کا حق کھو چکی ہے، اب اس کی آئندہ سال ستمبرمیں چین کے شہر انچن میں ہونے والے ایشین گیمز میں شرکت پر بھی سوالیہ نشان لگ گیا۔ پی او اے عارف حسن گروپ کے مطابق شرکت کی تصدیق کیلیے ڈیڈ لائن گزرگئی لیکن پاکستان ہاکی فیڈریشن نے ابھی تک اپنا اظہار دلچسپی نہیں بھجوایا، حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے پی ایچ ایف کویاد دہانی کیلیے دعوت نامہ بھیجنے کے بعد2 خطوط بھی ارسال کیے لیکن کوئی جواب نہ ملا۔
پی او اے کے ڈائریکٹر جنرل خالد محمود نے کہاکہ اولمپک کونسل آف ایشیا اور ایشن گیمز کی آرگنائزنگ کمیٹی صرف عارف حسن گروپ کو ہی تسیلم کرتی ہے، اس کے سوا کسی اسپورٹس باڈی کی طرف سے بھجوائی جانے والی انٹری قابل قبول نہیں ہوں گی لیکن ہاکی حکام متوازی گروپ کا ساتھ دیتے ہوئے اپنی ضد پر قائم ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پاکستانی ٹیم ایشین گیمزکے ہاکی ایونٹ کی دفاعی چیمپئن ہے، گرین شرٹس نے 2008 میں فائنل میں ملائیشیا کوشکست دیکرگولڈ میڈل اپنے نام کیا تھا،اس بار شرکت بھی اعزاز برقرار رکھنے کا موقع فراہم کرسکتی تھی لیکن کھیلوں میں سیاست کی روش پر چلتے ہوئے قومی کھیل کو نقصان پہنچانے والا راستہ اختیار کیا جا رہا ہے، پی ایچ ایف کے حکام اپنی ذاتی وابستگیوں سے بالا تر ہوکر ملک و قوم کے مفاد میں فیصلے کریں تو بہتر ہوگا۔
تفصیلات کے مطابق پی او اے کے متوازی دھڑوں کے تنازع کی وجہ سے قومی ہاکی ٹیم گلاسگو میں شیڈول کامن ویلتھ گیمز2014 میں شمولیت کا حق کھو چکی ہے، اب اس کی آئندہ سال ستمبرمیں چین کے شہر انچن میں ہونے والے ایشین گیمز میں شرکت پر بھی سوالیہ نشان لگ گیا۔ پی او اے عارف حسن گروپ کے مطابق شرکت کی تصدیق کیلیے ڈیڈ لائن گزرگئی لیکن پاکستان ہاکی فیڈریشن نے ابھی تک اپنا اظہار دلچسپی نہیں بھجوایا، حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے پی ایچ ایف کویاد دہانی کیلیے دعوت نامہ بھیجنے کے بعد2 خطوط بھی ارسال کیے لیکن کوئی جواب نہ ملا۔
پی او اے کے ڈائریکٹر جنرل خالد محمود نے کہاکہ اولمپک کونسل آف ایشیا اور ایشن گیمز کی آرگنائزنگ کمیٹی صرف عارف حسن گروپ کو ہی تسیلم کرتی ہے، اس کے سوا کسی اسپورٹس باڈی کی طرف سے بھجوائی جانے والی انٹری قابل قبول نہیں ہوں گی لیکن ہاکی حکام متوازی گروپ کا ساتھ دیتے ہوئے اپنی ضد پر قائم ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پاکستانی ٹیم ایشین گیمزکے ہاکی ایونٹ کی دفاعی چیمپئن ہے، گرین شرٹس نے 2008 میں فائنل میں ملائیشیا کوشکست دیکرگولڈ میڈل اپنے نام کیا تھا،اس بار شرکت بھی اعزاز برقرار رکھنے کا موقع فراہم کرسکتی تھی لیکن کھیلوں میں سیاست کی روش پر چلتے ہوئے قومی کھیل کو نقصان پہنچانے والا راستہ اختیار کیا جا رہا ہے، پی ایچ ایف کے حکام اپنی ذاتی وابستگیوں سے بالا تر ہوکر ملک و قوم کے مفاد میں فیصلے کریں تو بہتر ہوگا۔