کراچی اعلیٰ سرکاری افسران کے نام پر بھی بھتہ مانگنے کا انکشاف

ڈی سی سینٹرل کے دفتر میں قائم اسلحہ لائسنس برانچ میں اینٹی کرپشن کے نام پر پیسے مانگے گئے

اسلحہ لائسنس برانچ کی جانب سے باضابطہ طور پر واقعے کی تمام تفصیلات تحریری طور پر ڈی سی سینٹرل کے دفتر میں جمع کرا دی گئیں ،فوٹو:فائل

شہر میں بھتہ خوروں کی جانب سے جہاں بھتے کی پرچیاں بھیجنے کا سلسلہ بدستور جاری ہے وہیں پر مبینہ طور پر سرکاری ادارے کے اعلیٰ افسر کے نام پر نہایت دیدہ دلیری سے بھی ہفتہ وار بھتہ طلب کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے ۔

ذرائع نے بتایا کہ ڈپٹی کمشنر سینٹرل کے دفتر میں قائم اسلحہ لائسنس برانچ میں بابر نامی شخص نے اسلحہ لائسنس کی تجدید کے لیے تعینات عملے سے اپنے افسر کے نام پر مبینہ طور پر ہفتہ وار بھتہ طلب کیا جس پر عملے نے انھیں کہا کہ وہ ڈی سی سینٹرل سے رابطہ کریں اور ان ہی سے اس حوالے سے تقاضہ بھی کریں۔ اسکے بعد بابر نامی شخص وہاں سے چلا گیا جس کے بعد انچارج اسلحہ لائسنس برانچ کی جانب سے باضابطہ طور پر واقعے کی تمام تفصیلات تحریری طور پر ڈی سی سینٹرل کے دفتر میں جمع کرا دی گئیں۔ درخواست میں بتایا گیا کہ 30 اکتوبر بروز بدھ دوپہر 2 بجکر 10 منٹ پر بابر نامی شخص جس کے ہمراہ دیگر 3 افراد بھی موجود تھے، ڈی سی سینٹرل کی عمارت میں قائم اسلحہ لائسنس برانچ آئے اور وہاں پر تعینات عملے کو بتایا کہ وہ مبینہ طور پر اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ سے آیا ہے اور اس نے اپنے ڈپٹی سپرٹنڈنٹ پولیس (ڈی ایس پی) کے نام پر ہفتہ وار بھتہ طلب کیا۔ مذکورہ افراد جس پولیس موبائل میں ڈی سی سینٹرل کے دفتر آئے تھے اس پر نمبرGS-5070 درج تھا۔




اسلحہ لائسنس برانچ میں مبینہ طور پر اینٹی کرپشن کے ڈی ایس پی کے نام پر آکر ہفتہ وار بھتہ طلب کرنے کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر سینٹرل ڈاکٹر سیف الرحمن سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے اس طرح کے واقعے سے لاعملی کا اظہار کیا تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ انچارج اسلحہ لائسنس برانچ کی جانب سے درخواست ان کے دفتر میںجمع کرا دی گئی ہے جبکہ اس حوالے سے کوئی قانونی کارروائی تاحال عمل میں نہیں لائی جا سکی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مبینہ طور پر ایک سرکاری ادارے کا دوسرے سرکاری ادارے سے ہفتہ وار بھتہ طلب کیے جانے کا معاملہ اعلیٰ حکام تک پہنچانے اور سرکاری ادارے سے آکر بھتہ طلب کرنے کے واقعے پر اسلحہ برانچ میں تعینات عملے میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ اسلحہ لائسنس برانچ میں انتہائی شفاف طریقے سے اسلحہ لائسنس کی تصدیق کا عمل جاری ہے اور اس حوالے سے کسی بھی شخص کو نہ تو بلاجواز پریشان نہیں کیا جاتا اور نہ ہی کسی قسم کا تقاضا کیا جاتا ہے۔
Load Next Story