غیر ملکی ایجنسیاں عدلیہ کو دھمکیاں دے رہی ہیںپشاور ہائیکورٹ
صدر اور وزیراعظم کے پاس کسی کی رہائی کااختیار نہیں،انھیں بیرونی دباؤ پر رہا کیا گیا،چیف جسٹس دوست محمد خان
ہم ڈرون گرانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، حکومت کیا کر رہی ہے، آواز نہ اٹھائی تو امریکا کل ہمارے شہروں میں بھی آپریشن کی جرات کریگا،فوٹو: فائل
چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ دوست محمد خان نے کہا ہے کہ حکومت نے عدالت کی منظوری کے بغیر کس قانون کے تحت افغان طالبان رہنما ملابرادر کو رہا کیا؟
لاپتہ افراد کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کوئی ملزم عدالتی حکم پرجیل جاتا ہے تو اسے رہا کرنے کیلئے عدالت سے منظوری لازم ہے، بیرونی ایجنسیاں ہماری ایجنسیوں کو استعمال کرکے عدلیہ میں تفرقہ ڈالنے کی بڑی سازش کر رہی ہیں، عدالتوں پر دبائو بھی ڈالا جاتا ہے مگر ہم ڈرنے اور جھکنے والے نہیں،ڈرون حملوں سے متعلق بین الاقوامی سطح پر امریکا کیخلاف آواز اٹھ رہی ہے مگر ہماری حکومت کیا کر رہی ہے؟ ہم ڈرون مارگرانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں مگر جب تک اسٹیبلشمنٹ امریکی امداد پر ا نحصارنہیں چھوڑے گی تب تک امریکا حملے کرتا رہے گا اور اگر ہم نے ان کیخلاف آواز نہ اٹھائی تو کل ہمارے شہروں میں بھی آپریشن کیلیے آنے کی جرات کرے گا، حکومت اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے۔
این این آئی کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ صدر اور وزیراعظم کے پاس کسی کی رہائی کا اختیار نہیں، غیرملکی ایجنسیاں عدلیہ کے پیچھے پڑی ہوئی ہیں، بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ ہماری اپنی ایجنسیاںبھی ہمارے خلاف ہیں، آن لائن کے مطابق انکا کہنا تھا کہ ملا برادر کو غیرملکی دبائو پر رہا کیا گیا،کھلی عدالت میں کہتا ہوں کہ ہمیں غیرملکی ایجنسیوں کی طرف سے دھمکیاں مل رہی ہیں لیکن بدقسمتی سے ہماری اپنی ایجنسی جسے ہم نے مختلف اوقات میں دوسری غیر ملکی ایجنسیوں سے بچایا وہ بھی ان کیساتھ مل جاتی ہیں۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل عتیق شاہ نے کہا کہ حکومت کو لاپتہ افراد کے مسائل کابخوبی علم ہے اوروہ عدالتی احکام کااحترام کرتی ہے، اسی بنا پر فیڈرل ٹاسک فورس تشکیل دی گئی ہے، چیف جسٹس نے کہاکہ خدشہ ہے کہ اس کمیٹی میں شامل بعض طاقتورممبران سرے سے سچ بولیں گے ہی نہیں کیونکہ یہ لوگ خود کو قانون سے بالاترسمجھتے ہیں، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نوید اختر نے 50افراد کی فہرست پیش کی جنہیں حراستی مرکز منتقل کیاگیا۔
لاپتہ افراد کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کوئی ملزم عدالتی حکم پرجیل جاتا ہے تو اسے رہا کرنے کیلئے عدالت سے منظوری لازم ہے، بیرونی ایجنسیاں ہماری ایجنسیوں کو استعمال کرکے عدلیہ میں تفرقہ ڈالنے کی بڑی سازش کر رہی ہیں، عدالتوں پر دبائو بھی ڈالا جاتا ہے مگر ہم ڈرنے اور جھکنے والے نہیں،ڈرون حملوں سے متعلق بین الاقوامی سطح پر امریکا کیخلاف آواز اٹھ رہی ہے مگر ہماری حکومت کیا کر رہی ہے؟ ہم ڈرون مارگرانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں مگر جب تک اسٹیبلشمنٹ امریکی امداد پر ا نحصارنہیں چھوڑے گی تب تک امریکا حملے کرتا رہے گا اور اگر ہم نے ان کیخلاف آواز نہ اٹھائی تو کل ہمارے شہروں میں بھی آپریشن کیلیے آنے کی جرات کرے گا، حکومت اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے۔
این این آئی کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ صدر اور وزیراعظم کے پاس کسی کی رہائی کا اختیار نہیں، غیرملکی ایجنسیاں عدلیہ کے پیچھے پڑی ہوئی ہیں، بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ ہماری اپنی ایجنسیاںبھی ہمارے خلاف ہیں، آن لائن کے مطابق انکا کہنا تھا کہ ملا برادر کو غیرملکی دبائو پر رہا کیا گیا،کھلی عدالت میں کہتا ہوں کہ ہمیں غیرملکی ایجنسیوں کی طرف سے دھمکیاں مل رہی ہیں لیکن بدقسمتی سے ہماری اپنی ایجنسی جسے ہم نے مختلف اوقات میں دوسری غیر ملکی ایجنسیوں سے بچایا وہ بھی ان کیساتھ مل جاتی ہیں۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل عتیق شاہ نے کہا کہ حکومت کو لاپتہ افراد کے مسائل کابخوبی علم ہے اوروہ عدالتی احکام کااحترام کرتی ہے، اسی بنا پر فیڈرل ٹاسک فورس تشکیل دی گئی ہے، چیف جسٹس نے کہاکہ خدشہ ہے کہ اس کمیٹی میں شامل بعض طاقتورممبران سرے سے سچ بولیں گے ہی نہیں کیونکہ یہ لوگ خود کو قانون سے بالاترسمجھتے ہیں، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نوید اختر نے 50افراد کی فہرست پیش کی جنہیں حراستی مرکز منتقل کیاگیا۔