بھارتی شہریت بل فسطائی سوچ کا عکاس

شہریت کا متنازعہ بل سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا امکان ظاہرکیا گیا ہے

شہریت کا متنازعہ بل سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا امکان ظاہرکیا گیا ہے۔ فوٹو: فائل

بھارت کو اسرائیلی طرز پر ایک مکمل ہندو ریاست بنانے کا جو خواب مودی سرکار نے دیکھا ہے اسے شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے بھارتی شہریت بل لایا گیا ہے، اس چنگاری نے آگ کے شعلوں کو مزید ہوا دے دی ہے۔ بھارت کا سیکولر ریاست والا امیج ٹوٹ کر کرچی کرچی ہوگیا ہے۔

اس وقت بھارت بھر میں پرتشدد مظاہرے جاری ہیں۔ آسام میں پولیس کی براہ راست فائرنگ سے تین افراد جاں بحق ہوئے ہیں ، جب کہ سیاسی جماعت انڈین یونین مسلم لیگ نے بھارتی پارلیمان سے منظورہونیوالے شہریت سے متعلق متنازع مسلم مخالف ترمیمی بل کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا ہے۔ حیرت انگیز امر ہے کہ شہریت کے متنازع بل میں مسلمانوں کے علاوہ تمام تارکین وطن کو شہریت کا حق دیا گیا ہے۔ بل کی حمایت میں 293 جب کہ مخالفت میں 82 ووٹ پڑے۔ بل کی منظوری کے بعد آسام میں کئی دہائیوں سے رہائش پذیر لاکھوں بنگالی مسلمان سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔


یہی وجہ ہے کہ ان کا بھر پور احتجاجی ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔ متنازع شہریت ترمیمی بل کی منظوری کے بعد سیکڑوں افراد نے انڈین ریاست آسام کے شہر گوہاٹی میں اجتماعی بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے۔ شہر میں کرفیو نافذ ہونے کے باوجود جگہ جگہ لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔اس درمیان آسام کے دس اضلاع میں موبائل انٹرنیٹ سروس پر پابندی کو سنیچر تک کے لیے بڑھا دیا گیا ہے۔ تین علاقوں ڈبروگڑھ، گوہاٹی اور تن سوکیا میں کرفیو بھی نافذ ہے۔

کلکتہ سے آسام جانے والی پروازیں منسوخ کر دی گئیں، تریپورہ میں مظاہرے روکنے کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دی گئی، انٹرنیٹ سروس بھی بند کر دی گئی ہے، علی گڑھ یونیورسٹی میں مسلم دشمن بل کے خلاف ہزاروں طلبہ نے بھوک ہڑتال کر دی ہے، جس پر طلبہ پر مقدمات درج کرلیے گئے ہیں۔

کانگریس کی جانب سے شہریت کا متنازعہ بل سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا امکان ظاہرکیا گیا ہے، یہ تو وہ واقعات جو میڈیا میں رپورٹ ہوئے ہیں۔ بھارت تو بے شمار قومیت کا صدیوں سے مسکن ہے، مسلمانوں سمیت تمام اقلیتیں بھارت ہی کے باشندے ہیں پھر یہ ناروا سلوک اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ بھارتی حکمران اسرائیلی طرزکی پالیسی پر عمل کرکے اقلیتوں پر عرصہ حیات تنگ کررہے ہیں۔ تمام عالمی طاقتوں کو بھارت پر دباؤ بڑھانا چاہیے تاکہ وہ ایسے اقدامات سے باز رہے۔
Load Next Story