نانگا پربت پر غیر ملکی کوہ پیماؤں کے قتل میں ملوث 18 دہشت گرد گرفتار

ملزمان نے جنوبی وزیرستان میں تربیت لی،4نے کوہ پیمائوں پربراہ راست فائرنگ کی،7ملزمان مفرور ہیں،سربراہ تفتیشی ٹیم

ملزمان غیرملکیوں کواغوا کرنا چاہتے تھے، مزاحمت پرمنصوبہ ناکام ہوگیا، یہی گروہ فرقہ ورانہ کلنگ میں ملوث ہے،انتظامیہ.فوٹو رائٹرز/فائل

پولیس نے جون میں نانگاپربت پر 10غیرملکی کوہ پیمائوں کے قتل کے واقعے میں ملوث 18مشتبہ دہشتگردوں کوگرفتارکر لیا ہے اورکہا ہے کہ تاحال کئی ملزم مفرور ہیں۔

22 جون کا حملہ ایک دہائی میں ملک میں غیرملکیوں پرہونے والا سب سے تباہ کن حملہ تھا جس کی ذمے داری پاکستانی طالبان کی ایک نئی ذیلی تنظیم نے قبول کی تھی۔دیامر اورگلگت پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں نے حملے کی منصوبہ بندی کرنے کے الزام میں 18 افراد کو گرفتارکیا ہے۔تفتیشی ٹیم کے سربراہ محمدنوید نے بتایاکہ ان میں سے 4کے بارے میں یقین ہے کہ وہ نانگا پربت حملے میں براہ راست ملوث تھے اور انھوں نے کوہ پیمائوں پر گولیاں چلائیں تھیں۔انھوں نے کہا کہ 7ملزمان ابھی تک گرفتار نہیں کیے جاسکے۔ملزموں نے پولیس کی یونیفارم میں کوہ پیمائوں پرحملہ کیا تھا۔




واقعے کی دیگرتفصیلات دوران تفتیش معلوم ہوئیں جن کے مطابق ملزمان کا غیرملکی کوہ پیمائوں کواغوا کرنے کا منصوبہ تھا لیکن ایک چینی کی مزاحمت پرمنصوبہ ناکام ہوگیا۔مقامی انتظامیہ کے ایک سینئراہلکار کا کہنا تھاکہ دیامر میں رہنے والے شدت پسندوں کے 35 رکنی گروہ کے پاکستانی طالبان سے روابط تھے اور انھوں نے جنوبی وزیرستان میں لڑائی کی تربیت حاصل کی۔انھوں نے کہاکہ یہی گروپ علاقے میںفرقہ ورانہ فسادات پھیلانے اور ٹارگٹ کلنگ کا سبب تھا۔پولیس افسر نوید نے بھی حملہ آوروں کی پاکستانی طالبان سے تعلق کی تصدیق کی۔اس حملے کے بعدطالبان نے کہاکہ تھاکہ انھوں نے ایک نیاگروپ جنود الحفضہ تشکیل دیاہے جو ڈرون حملوں کے بدلے میں غیرملکیوں پرحملے کرے گا۔
Load Next Story