رستم ٹاولز کا ہالینڈ کیلیے برآمدی کھیپ سے اظہار لاتعلقی
جعلی دستاویزاوراین ٹی این غیرقانونی استعمال کیا گیا،ذمے دارمتعلقہ فریٹ فارورڈر ہے
جعلی دستاویزاوراین ٹی این غیرقانونی استعمال کیا گیا،ذمے دارمتعلقہ فریٹ فارورڈر ہے.
KARACHI:
ٹاولز مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے رکن رستم ٹاولز کے سربراہ ثناء اللہ نے انکشاف کیا ہے کہ ہالینڈ کے لیے انکی کمپنی کے نام سے برآمد ہونے کنسائنمنٹ اور اس میں بازیاب ہونے والے پوست کے بیجوں کی344 بوریوں سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
مذکورہ کنسائمنٹ ان کی کمپنی کے نام کے جعلی دستاویزات پربرآمد کرنے کی کوشش کی گئی جس میں کمپنی کا این ٹی این بھی غیرقانونی طور پر استعمال کیا گیا۔ ''ایکسپریس'' کے استفسار پر ثناء اللہ نے بتایا کہ ٹاولز کی آڑ میں پوست کے بیج برآمد کرنے کی اصل ذمے دار متعلقہ فریٹ فارورڈرکمپنی ہے جسے معلوم ہے کہ رستم ٹاولز صرف ٹاولز مصنوعات برآمد کرتا ہے۔ انہوں نے محکمہ ایکسپورٹ کلکٹریٹ اور ڈائریکٹریٹ کسٹمز انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن کراچی کی جانب سے کی گئی کارروائی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ قومی مفاد میں ان اداروں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں گے۔
ایک سوال کے جواب میں ثناء اللہ نے بتایا کہ انکی کمپنی لاہور میں قائم ہے جبکہ سازشی عناصر نے پکڑے گئے مذکورہ کنٹینر کو کراچی میں ہی بھر کر ہالینڈ برآمد کرنے کی کوشش کی جس کا ہمیں کوئی علم نہیں تھا۔ انہوں نے بتایا کہ رستم ٹاولز گزشتہ 13 سال سے یورپ امریکا ہالینڈ جرمنی اور برطانیہ کو مستقل بنیادوں پر ٹاولز مصنوعات کی برآمدات کرتا ہے اور پاکستان سے ان ممالک کو رستم ٹاولز ماہانہ 70 تا80 کنٹینرز پر مشتمل کنسائنمنٹس برآمد کررہا ہے لیکن حالیہ واقعے نے کمپنی کی ساکھ کو بری طرح مجروح کیا ہے جس کی وجہ سے کمپنی کے پاس کروڑوں ڈالر مالیت کے برآمدی آرڈرز کی تکمیل میں مشکلات پیدا ہوگئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ محکمہ کسٹمز اور ایف بی آر کے خودکار نظام میں انکی کمپنی کی تمام تفصیلات موجود ہیں اور سرکاری ادارے میں کمپنی ایک بہترین ساکھ کی حامل ہے۔ ثناء اللہ نے بتایا کہ انہیں معلوم ہوا ہے کہ رستم ٹاولز کے نام سے ایک اورکنسائنمنٹ بھی کنٹینر نمبر CVHU8381800 کے ذریعے برآمد کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جس میں ممکنہ طور پر مزید پوست کے بیجوں کے بیگز رکھے گئے ہوں۔
لہٰذا متعلقہ کسٹمز حکام کو اس کنٹینر پر بھی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ واضح رہے کہ محکمہ کسٹمزایکسپورٹ کلکٹریٹ اور ڈائریکریٹ کسٹمز انٹیلی جنس نے اپنے ایک مشترکہ آپریشن میں کنٹینرنمبر CBHU-8687739کے ذریعے ٹیکسٹائل گڈز کی آڑ میں16720 کلوگرام پوست کے بیجوں کے حامل 344 بوریاں اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بنائی ہے جو ہالینڈ برآمد کرنے کی کوشش کی جارہی تھی جس کی باقاعدہ ایف آئی آررستم ٹاولز ودیگر کے خلاف درج کردی گئی ہے اور مزید تحقیقات کی جارہی ہے۔
ٹاولز مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے رکن رستم ٹاولز کے سربراہ ثناء اللہ نے انکشاف کیا ہے کہ ہالینڈ کے لیے انکی کمپنی کے نام سے برآمد ہونے کنسائنمنٹ اور اس میں بازیاب ہونے والے پوست کے بیجوں کی344 بوریوں سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
مذکورہ کنسائمنٹ ان کی کمپنی کے نام کے جعلی دستاویزات پربرآمد کرنے کی کوشش کی گئی جس میں کمپنی کا این ٹی این بھی غیرقانونی طور پر استعمال کیا گیا۔ ''ایکسپریس'' کے استفسار پر ثناء اللہ نے بتایا کہ ٹاولز کی آڑ میں پوست کے بیج برآمد کرنے کی اصل ذمے دار متعلقہ فریٹ فارورڈرکمپنی ہے جسے معلوم ہے کہ رستم ٹاولز صرف ٹاولز مصنوعات برآمد کرتا ہے۔ انہوں نے محکمہ ایکسپورٹ کلکٹریٹ اور ڈائریکٹریٹ کسٹمز انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن کراچی کی جانب سے کی گئی کارروائی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ قومی مفاد میں ان اداروں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں گے۔
ایک سوال کے جواب میں ثناء اللہ نے بتایا کہ انکی کمپنی لاہور میں قائم ہے جبکہ سازشی عناصر نے پکڑے گئے مذکورہ کنٹینر کو کراچی میں ہی بھر کر ہالینڈ برآمد کرنے کی کوشش کی جس کا ہمیں کوئی علم نہیں تھا۔ انہوں نے بتایا کہ رستم ٹاولز گزشتہ 13 سال سے یورپ امریکا ہالینڈ جرمنی اور برطانیہ کو مستقل بنیادوں پر ٹاولز مصنوعات کی برآمدات کرتا ہے اور پاکستان سے ان ممالک کو رستم ٹاولز ماہانہ 70 تا80 کنٹینرز پر مشتمل کنسائنمنٹس برآمد کررہا ہے لیکن حالیہ واقعے نے کمپنی کی ساکھ کو بری طرح مجروح کیا ہے جس کی وجہ سے کمپنی کے پاس کروڑوں ڈالر مالیت کے برآمدی آرڈرز کی تکمیل میں مشکلات پیدا ہوگئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ محکمہ کسٹمز اور ایف بی آر کے خودکار نظام میں انکی کمپنی کی تمام تفصیلات موجود ہیں اور سرکاری ادارے میں کمپنی ایک بہترین ساکھ کی حامل ہے۔ ثناء اللہ نے بتایا کہ انہیں معلوم ہوا ہے کہ رستم ٹاولز کے نام سے ایک اورکنسائنمنٹ بھی کنٹینر نمبر CVHU8381800 کے ذریعے برآمد کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جس میں ممکنہ طور پر مزید پوست کے بیجوں کے بیگز رکھے گئے ہوں۔
لہٰذا متعلقہ کسٹمز حکام کو اس کنٹینر پر بھی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ واضح رہے کہ محکمہ کسٹمزایکسپورٹ کلکٹریٹ اور ڈائریکریٹ کسٹمز انٹیلی جنس نے اپنے ایک مشترکہ آپریشن میں کنٹینرنمبر CBHU-8687739کے ذریعے ٹیکسٹائل گڈز کی آڑ میں16720 کلوگرام پوست کے بیجوں کے حامل 344 بوریاں اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بنائی ہے جو ہالینڈ برآمد کرنے کی کوشش کی جارہی تھی جس کی باقاعدہ ایف آئی آررستم ٹاولز ودیگر کے خلاف درج کردی گئی ہے اور مزید تحقیقات کی جارہی ہے۔