تھرپارکر کے قحط سے متاثرین کو رعایتی قیمت پر گندم کی فراہمی شروع کردی گئی
دیہی عوام امداد سے محروم،دعوئوں کے برعکس امدادسیاست کی نذر، ڈپو ہولڈرز کی فہرستیں بنانے کا کام ریونیو عملے کے سپرد.
دیہی عوام امداد سے محروم،دعوئوں کے برعکس امدادسیاست کی نذر، ڈپو ہولڈرز کی فہرستیں بنانے کا کام ریونیو عملے کے سپرد
تھرپارکر میں قحط سالی سے متاثرین کو کم قیمت پر گندم کی فروخت شروع کردی گئی ۔
ڈاکٹر مہیش کمار ملانی نے مٹھی کی شہری آبادی سے سستی گندم کی فروخت کا آغازکیا۔ دیہی آبادی امداد کی منتظر، دوسری طرف کمشنر میرپور خاص کے دعوے کے باوجود گندم کی فروخت کا کام سیاستدانوں، ریونیو اور ڈیو ہولڈرز کے حوالے کردیا گیا۔ تھرپارکر میں قحط کی صورتحال برقرار، معمولی بارشوں سے گھاس بھی نہیں اگ سکی۔ تفصیلات کے مطابق قحط زدہ تھرپارکر کے لیے نصف قیمت پر گندم کی فروخت کا کام شروع کردیا گیا جس کا افتتاح پی پی ایم این اے ڈاکٹر مہیش کمار ملانی نے مٹھیشہر سے کیا۔
تھرپار کر کی 12 لاکھ آبادی میں فی خاندان 50 کلو گندم 782 روپے میں فروخت کی جائے گی۔ گندم کی آدھی رقم سندھ حکومت ادا کرے گی۔ صوبائی وزیر ریلیف حلیم عادل شیخ کے دورے میں کمشنر میرپور خاص غلام حسین میمن نے میڈیا کے سامنے دعویٰ کیا تھا کہ تھر میں ریلیف کا کام سیاسی لوگوں کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔
ریونیو کا عملہکرپشن کرتا ہے اس لیے ضلعی انتظامیہ ، محکمہ خوراک اور مقامی لوگوں کی کمیٹیاں بناکر گندم تقسیم کی جائے گی تاکہ غریب تھری باشندوں کو فائدہ پہنچے مگر یہ دعویٰ بھی دھرا رہ گیا اور گندم کی فروخت کا افتتاح ہی سیاست کی نذر ہوگیا جبکہ ڈپو ہولڈرز کی لسٹیں بنانے اور تقسیم کا کام بھی ریونیو عملے کے حوالے کردیا گیا ہے۔ ایسی صورتحال میں ریلیف کا کام تھری عوام کے لیے سود مند ثابت نہیں ہوگا۔
ڈاکٹر مہیش کمار ملانی نے مٹھی کی شہری آبادی سے سستی گندم کی فروخت کا آغازکیا۔ دیہی آبادی امداد کی منتظر، دوسری طرف کمشنر میرپور خاص کے دعوے کے باوجود گندم کی فروخت کا کام سیاستدانوں، ریونیو اور ڈیو ہولڈرز کے حوالے کردیا گیا۔ تھرپارکر میں قحط کی صورتحال برقرار، معمولی بارشوں سے گھاس بھی نہیں اگ سکی۔ تفصیلات کے مطابق قحط زدہ تھرپارکر کے لیے نصف قیمت پر گندم کی فروخت کا کام شروع کردیا گیا جس کا افتتاح پی پی ایم این اے ڈاکٹر مہیش کمار ملانی نے مٹھیشہر سے کیا۔
تھرپار کر کی 12 لاکھ آبادی میں فی خاندان 50 کلو گندم 782 روپے میں فروخت کی جائے گی۔ گندم کی آدھی رقم سندھ حکومت ادا کرے گی۔ صوبائی وزیر ریلیف حلیم عادل شیخ کے دورے میں کمشنر میرپور خاص غلام حسین میمن نے میڈیا کے سامنے دعویٰ کیا تھا کہ تھر میں ریلیف کا کام سیاسی لوگوں کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔
ریونیو کا عملہکرپشن کرتا ہے اس لیے ضلعی انتظامیہ ، محکمہ خوراک اور مقامی لوگوں کی کمیٹیاں بناکر گندم تقسیم کی جائے گی تاکہ غریب تھری باشندوں کو فائدہ پہنچے مگر یہ دعویٰ بھی دھرا رہ گیا اور گندم کی فروخت کا افتتاح ہی سیاست کی نذر ہوگیا جبکہ ڈپو ہولڈرز کی لسٹیں بنانے اور تقسیم کا کام بھی ریونیو عملے کے حوالے کردیا گیا ہے۔ ایسی صورتحال میں ریلیف کا کام تھری عوام کے لیے سود مند ثابت نہیں ہوگا۔