فیڈریشن نے ہاکی کو تباہی کے اندھیروں میں دھکیل دیا سابق اسٹارز

عہدیداروں نے اقتدارکو طول دینے کیلیے ڈمی الیکشن سے من پسند نتائج حاصل کرنے کی تیاری کرلی

سودے بازی میں ناکامی کے بعد الیکشن شیڈول سے قبل کرواکے من پسند نتائج حاصل کرلیے گئے۔ فوٹو: فائل

سابق اولمپئنز نے کہا ہے کہ پی ایچ ایف نے قومی کھیل کو تباہی کے اندھیروں میں دھکیل دیا۔

عہدیداروں نے اقتدار کو طول دینے کیلیے ڈمی الیکشن کے ذریعے من پسند نتائج حاصل کرنے کی تیاری مکمل کرلی ، اہل افراد کو پس منظر میں پھینکا جارہا ہے، وزیر اعظم نے کوئی ایکشن نہ لیا تو اسمبلی ہال جاکر میڈل واپس کردیں گے۔لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شہناز شیخ نے کہا کہ قاسم ضیا اور آصف باجوہ کی سربراہی میں فیڈریشن کے5سال پاکستان ہاکی کا سیاہ دور تھے، قومی ٹیم میڈلز حاصل کرنے کے بجائے بار بار آخری پوزیشن کی شرمندگی اٹھاتی اور عوام کے ارمانوں پر پانی پھیرتی رہی۔ عہدیداروں کی ناقص پالیسیز اور غفلت کے سبب قومی کھیل کی سرپرستی کرنے والوں نے ہاتھ کھینچ لیے، 20ڈپارٹمنٹل ٹیمیں ختم ہونے سے درجنوں باصلاحیت کھلاڑی بے روزگار ہیں، قومی ٹیم میں شامل کئی پلیئرز بھی ابھی تک ملازمتوں سے محروم یا کنٹریکٹ پر ہیں۔

انھوں نے کہا کہ گراس روٹ پر کھیل کو فروغ دینے کے دعووں میں بھی کوئی صداقت نظر نہیں آتی،ہاکی نرسریاں برباد ہیں، پی ایچ ایف نے حکومت کو بتایاکہ ملکی اکیڈمیز میں627 کھلاڑی اور 57کوچز رہنمائی کیلیے موجود ہیں، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہاں سے سامنے آنے والا ٹیلنٹ نظر کیوں نہیں آتا، جاپان میں موجود ٹیم پوری کرنے کیلیے لیگ سے واپس آنے والے پلیئرز کو ایونٹ سے1،2 روز قبل شامل کرنا پڑا،گرین شرٹس ورلڈ کپ کیلیے کوالیفائی کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے، پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے تنازعات میں الجھنے کے سبب کامن ویلتھ گیمز میں شرکت ممکن نہیں رہی، ایشن گیمز میں شمولیت کا بھی امکان نہ ہونے کے برابر رہ گیا،حکومت کی طرف سے ایک ارب کے قریب فنڈز پانے کے باوجود 5سال میں بہتری کے آثار نظر نہیں آسکے، ایسے میں اچھے مستقبل کی امیدیں کیسے وابستہ کریں، ایک ٹورنامنٹ میں ناکامی کے بعد دوسرے کو ہدف قرار دینے کا سلسلہ کتنی دیر تک چلے گا۔




شہناز شیخ نے کہا کہ ہماری چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل ہے کہ ہاکی کے ساتھ تباہ کن سلوک کیخلاف سوموٹو ایکشن لیں،وزیر اعظم بھی قومی کھیل کے معاملات میں مداخلت کریں، دوسری صورت میں اسمبلی ہال کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے میڈلز واپس کرنے پر مجبور ہوں گے۔ سمیع اللہ نے کہا کہ پسند کے عہدیداروں کا انتخاب کرنے کیلیے مختلف حربے استعمال ہورہے ہیں، ذاتی مفاد کی سیاست میں الجھنے کے بجائے کھیل کی بہتری کیلیے دور رس نتائج کے حامل فیصلے کرنے ہوں گے۔ اکیڈمیز کا قیام کوئی بُرا اقدام نہیں تھا لیکن انھیں چلانے کیلیے کوئی سسٹم نہیں بنایا گیا، ہر اکیڈمی کو سی سے اے تک مختلف کیٹیگریز میں رکھتے ہوئے نیا ٹیلنٹ گروم کیا جاتا تو آج ہم انٹرنیشنل معیار کے کھلاڑیوں کے قحط کا شکار نہ ہوتے، انھوں نے کہا کہ نچلی سطح پر کھیل کے فروغ کو نظر انداز کرنے کا نتیجہ ہے کہ ہم باصلاحیت کھلاڑیوں کا پول ہی تیار نہیں کرسکے، سابق اولمپئنز کے مشوروں پر 5فیصد بھی عمل کرلیا جاتا تو آج صورتحال مختلف ہوتی، میرا اب بھی یہ دعوٰی ہے کہ معاملات درست سمت میں چلائے جائیں، کھلاڑیوں کا معاشی تحفظ یقینی بنایا جائے تو 4سال میں ہماری ٹیم کم از کم وکٹری اسٹینڈ پر جگہ بنانے کے قابل ہوسکتی ہے۔

سلیم ناظم نے کہا کہ پی ایچ ایف کے الیکشن میں من پسند نتائج حاصل کرنے کیلیے مختلف حربے استعمال کیے جارہے ہیں، کلبز کی اسکروٹنی بھی مشکوک ہے، اس عمل کیلیے متعین 18افراد بھی فیڈریشن کے کسی نہ کسی عہدے پر کام کررہے ہیں، کئی تو قومی ٹیموں کے ساتھ ذمہ داریوں کو پس پشت ڈال کر کوآرڈینیٹر کے طور پر سرگرم ہیں، ان سے منصفانہ فیصلوں کی توقع کیسے وابستہ کی جاسکتی ہے، انھوں نے کہا کہ کئی رجسٹرڈ کلبز کو دانستہ نظر انداز کیا جارہا ہے، چند شہروں میں سابق اولمپئنز کو عہدوں کی پیشکش کی گئی، سودے بازی میں ناکامی کے بعد الیکشن شیڈول سے قبل کرواکے من پسند نتائج حاصل کرلیے گئے۔

اس انداز کی جمہوریت سے میرٹ پر عہدیداروں کا انتخاب نہیں ہوسکتا، اسی لیے ہمیں اپنا موقف عدالت کے روبرو پیش کرنا پڑا،انھوں نے کہا کہ اگرالیکشن کوئی نیوٹرل باڈی کرائے تو ہمیں اعتراض نہیں ہوگا، اس ضمن میں حکومت کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ورنہ قومی کھیل کی تباہی کا سفر کوئی نہیں روک سکے گا۔ محمد ثقلین نے کہاکہ پاکستان ہاکی مسلسل پستی میں جارہی ہے، رواں سال ہماری ٹیم کے خلاف 157گول ہوئے جبکہ ہم صرف 67کرسکے، دفاع اور دیگر شعبوں میں خامیوں کو دور کرنے پر توجہ دینے کے بجائے ایسی سرگرمیوں پر توانائی صرف کی جاتی ہے جن کا کھیل سے کوئی تعلق نہیں،انھوں نے کہا کہ سابق اولمپئنز کی بڑی تعداد کیلیے ہاکی روزگار کا ذریعہ نہیں، اس لیے ان کے کوئی مالی مفادات بھی نہیں، ماضی کے عظیم کھلاڑی تو قومی کھیل کیلیے تڑپ کی وجہ سے مستقبل میں بہتری کیلیے کوئی کردار ادا کرنا چاہتے ہیں، ہمیں ان کے تجربے اور مہارت کا فائدہ اٹھانا چاہیے۔
Load Next Story