سانحہ اے پی ایس…ہم نہیں بھولے
آرمی پبلک اسکول کے شہداء کی 5ویں برسی پیر کو منائی گئی اور ان کی قبروں پر پھولوں کی چادریں چڑھائی گئیں۔
آرمی پبلک اسکول کے شہداء کی 5ویں برسی پیر کو منائی گئی اور ان کی قبروں پر پھولوں کی چادریں چڑھائی گئیں۔ فوٹو: فائل
وزیراعظم عمران خان نے سانحہ اے پی ایس کی 5 ویں برسی پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ہم آج کے روز شہداء اور ان کے لواحقین کے لیے دعاگو ہیں، معصوم بچوں کی جانوں کی قربانی نے قوم کودہشت گردوں، تشدد اور نفرت کے خلاف متحد کردیا، عسکریت پسندی کی سوچ کو پروان نہیں چڑھنے دیں گے۔
ہم اپنے ننھے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں اور ساتھ ہی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فوج ،پولیس اورایجنسیوں کی قربانیوں کو بھی سراہتے ہیں، ہم عہد کرتے ہیں کہ کسی بھی طرح کی عسکریت پسندی کی سوچ کو پروان نہیں چڑھنے دیں گے اور نہ ملک و قوم کو متعصب نظریے کے ہاتھوں یرغمال بنانے کی اجازت دیں گے۔
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ اے پی ایس کا قتل عام کبھی نہیں بھولیں گے، سانحے کے شہداء اور غمزدہ خاندانوں کو سلام پیش کرتے ہیں، اے پی ایس سانحہ کے پانچ مجرموں کو فوجی عدالتوں نے پھانسی دی اور دہشت گردی کو شکست دینے کے لیے بطور قوم طویل سفر طے کیا، ہم متحد ہوکر پاکستان کے پائیدار امن اور خوشحالی کی جانب گامزن ہیں۔
آرمی چیف کا کہنا تھا کہ ایک ایسی فوج کا چیف ہوں جس کے جوان ملک کی خاطر جان نچھاورکرنے کوتیار ہوتے ہیں اور ملک کے باہر سے پاکستان کو دھمکیاں دینے والوں کو پیغام ہے کوئی اس ملک کابال بیکا نہیں کر سکتا۔
16دسمبر2014کو دہشت گردوں نے آرمی پبلک اسکول پشاور کے اندر فائرنگ کرتے ہوئے طلباء اور پرنسپل طاہرہ قاضی سمیت 150افراد کو شہید کردیا تھا' اس سانحہ کے صدمے نے پوری قوم کو اپنی گرفت میں لے لیا، اس دل دہلا دینے والے واقعے نے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ سب کو دہشت گردی کے خلاف متحد ہو کر جنگ لڑنا ہو گی جس کے بعد عسکری اور سیاسی قیادت نے دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائی کرنے اور انھیں بیخ و بن سے اکھاڑنے کا فیصلہ کیا اور یہ عزم کیا گیا کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جنگ جاری رکھی جائے گی۔
اس سانحے کی ہولناکی نے ماضی کے تمام سانحات کو پس منظر میں دھکیل دیا، اس سانحے نے نہ صرف شہداء کے لواحقین کے دلوں پر انمٹ نقوش چھوڑے بلکہ تمام پاکستانیوں کو بھی اعصابی صدمے سے دوچار کیا۔ ہر سال 16دسمبر کو اس سانحے کے زخم تازہ ہو جاتے اور شہداء کے لواحقین آہیں بھرتے نظر آتے ہیں۔ اس سانحہ میں شہید ہونے والے ایک طالب علم محمد علی' جو اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھا، کی والدہ رو رو کر بینائی کھو بیٹھی ہیں، سب کے لبوں پر یہ دعا رہتی ہے کہ ایسا سانحہ پھر کبھی نہ آئے۔
آرمی پبلک اسکول کے شہداء کی 5ویں برسی پیر کو منائی گئی اور ان کی قبروں پر پھولوں کی چادریں چڑھائی گئیں۔ دہشت گردی کے اس سانحے میں ملوث کرداروں کی ڈوریاں افغانستان سے ہلائی جا رہی تھیں' اس سے پیشتر اور بعدازاں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کے ڈانڈے بھی افغانستان کے اندر موجود دہشت گردوں کے کیمپوں سے ملے جس کے بعد دہشت گردوں کے خلاف ہر ممکن کارروائی کرنے اور پاک افغان سرحد پر سیکیورٹی مینجمنٹ کا سسٹم موثر بنانے کا عزم کیا گیا۔
پاک فوج نے شمالی وزیرستان میں موجود دہشت گردوں کے خلاف ضرب عضب کے نام سے کامیاب آپریشن کیا' اس آپریشن میں درجنوں سپاہیوں نے وطن کی سلامتی اور امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے جام شہادت نوش کیا، شہداء کا یہ خون رائیگاں نہیں گیا' ایک طویل کارروائی کے بعد پاک فوج دشمن کے ٹھکانوں اور ان کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کو تباہ کرنے میں کامیاب ہو گئی۔
سرحد پار دہشت گردوں کی آمدورفت روکنے کے لیے پاک افغان سرحد پر باڑ اور چوکیوں کی تنصیب کا عمل شروع کیا گیا۔ اب بھی اکثر و بیشتر سرحد پار سے دہشت گردوں کے حملے جاری رہتے ہیں' جو اس امر کے مظہر ہیں کہ جب تک سرحد پار موجود دہشت گردوں کے کیمپوں کے خلاف کارروائی نہیں کی جاتی دونوں ممالک میں دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں۔ مشرقی سرحد پر بھارت کی دشمنی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں لیکن شمال مغربی سرحد کے پار سے دہشت گردوں کے حملے سنگین صورت اختیار کر چکے ہیں۔
امریکا پاکستان سے دہشت گردوں کے خلاف ڈومور کے مطالبے کرتا رہتا اور ایف اے ٹی ایف کی آڑ میں پاکستان پر دباؤ بڑھایا جاتا ہے لیکن امریکی اور نیٹو افواج کی موجودگی کے باوجود دہشت گردوں کے سرحد پار حملے بہت سے سوالات کو جنم دیتے ہیں۔ ایک پرامن اور مضبوط افغانستان نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کی سلامتی اور امن و امان کی صورتحال کو یقینی بنانے کے لیے ناگزیر ہے۔
آج پوری قوم کو متحد ہو کر یہ عہد کرنا ہو گا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی اور یہ بھی عہد کرنا ہوگا کہ ہم سانحہ اے پی ایس کو بھولے نہیں ہیں اور نہ ہی کبھی بھولیں گے۔
ہم اپنے ننھے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں اور ساتھ ہی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فوج ،پولیس اورایجنسیوں کی قربانیوں کو بھی سراہتے ہیں، ہم عہد کرتے ہیں کہ کسی بھی طرح کی عسکریت پسندی کی سوچ کو پروان نہیں چڑھنے دیں گے اور نہ ملک و قوم کو متعصب نظریے کے ہاتھوں یرغمال بنانے کی اجازت دیں گے۔
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ اے پی ایس کا قتل عام کبھی نہیں بھولیں گے، سانحے کے شہداء اور غمزدہ خاندانوں کو سلام پیش کرتے ہیں، اے پی ایس سانحہ کے پانچ مجرموں کو فوجی عدالتوں نے پھانسی دی اور دہشت گردی کو شکست دینے کے لیے بطور قوم طویل سفر طے کیا، ہم متحد ہوکر پاکستان کے پائیدار امن اور خوشحالی کی جانب گامزن ہیں۔
آرمی چیف کا کہنا تھا کہ ایک ایسی فوج کا چیف ہوں جس کے جوان ملک کی خاطر جان نچھاورکرنے کوتیار ہوتے ہیں اور ملک کے باہر سے پاکستان کو دھمکیاں دینے والوں کو پیغام ہے کوئی اس ملک کابال بیکا نہیں کر سکتا۔
16دسمبر2014کو دہشت گردوں نے آرمی پبلک اسکول پشاور کے اندر فائرنگ کرتے ہوئے طلباء اور پرنسپل طاہرہ قاضی سمیت 150افراد کو شہید کردیا تھا' اس سانحہ کے صدمے نے پوری قوم کو اپنی گرفت میں لے لیا، اس دل دہلا دینے والے واقعے نے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ سب کو دہشت گردی کے خلاف متحد ہو کر جنگ لڑنا ہو گی جس کے بعد عسکری اور سیاسی قیادت نے دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائی کرنے اور انھیں بیخ و بن سے اکھاڑنے کا فیصلہ کیا اور یہ عزم کیا گیا کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جنگ جاری رکھی جائے گی۔
اس سانحے کی ہولناکی نے ماضی کے تمام سانحات کو پس منظر میں دھکیل دیا، اس سانحے نے نہ صرف شہداء کے لواحقین کے دلوں پر انمٹ نقوش چھوڑے بلکہ تمام پاکستانیوں کو بھی اعصابی صدمے سے دوچار کیا۔ ہر سال 16دسمبر کو اس سانحے کے زخم تازہ ہو جاتے اور شہداء کے لواحقین آہیں بھرتے نظر آتے ہیں۔ اس سانحہ میں شہید ہونے والے ایک طالب علم محمد علی' جو اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھا، کی والدہ رو رو کر بینائی کھو بیٹھی ہیں، سب کے لبوں پر یہ دعا رہتی ہے کہ ایسا سانحہ پھر کبھی نہ آئے۔
آرمی پبلک اسکول کے شہداء کی 5ویں برسی پیر کو منائی گئی اور ان کی قبروں پر پھولوں کی چادریں چڑھائی گئیں۔ دہشت گردی کے اس سانحے میں ملوث کرداروں کی ڈوریاں افغانستان سے ہلائی جا رہی تھیں' اس سے پیشتر اور بعدازاں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کے ڈانڈے بھی افغانستان کے اندر موجود دہشت گردوں کے کیمپوں سے ملے جس کے بعد دہشت گردوں کے خلاف ہر ممکن کارروائی کرنے اور پاک افغان سرحد پر سیکیورٹی مینجمنٹ کا سسٹم موثر بنانے کا عزم کیا گیا۔
پاک فوج نے شمالی وزیرستان میں موجود دہشت گردوں کے خلاف ضرب عضب کے نام سے کامیاب آپریشن کیا' اس آپریشن میں درجنوں سپاہیوں نے وطن کی سلامتی اور امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے جام شہادت نوش کیا، شہداء کا یہ خون رائیگاں نہیں گیا' ایک طویل کارروائی کے بعد پاک فوج دشمن کے ٹھکانوں اور ان کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کو تباہ کرنے میں کامیاب ہو گئی۔
سرحد پار دہشت گردوں کی آمدورفت روکنے کے لیے پاک افغان سرحد پر باڑ اور چوکیوں کی تنصیب کا عمل شروع کیا گیا۔ اب بھی اکثر و بیشتر سرحد پار سے دہشت گردوں کے حملے جاری رہتے ہیں' جو اس امر کے مظہر ہیں کہ جب تک سرحد پار موجود دہشت گردوں کے کیمپوں کے خلاف کارروائی نہیں کی جاتی دونوں ممالک میں دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں۔ مشرقی سرحد پر بھارت کی دشمنی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں لیکن شمال مغربی سرحد کے پار سے دہشت گردوں کے حملے سنگین صورت اختیار کر چکے ہیں۔
امریکا پاکستان سے دہشت گردوں کے خلاف ڈومور کے مطالبے کرتا رہتا اور ایف اے ٹی ایف کی آڑ میں پاکستان پر دباؤ بڑھایا جاتا ہے لیکن امریکی اور نیٹو افواج کی موجودگی کے باوجود دہشت گردوں کے سرحد پار حملے بہت سے سوالات کو جنم دیتے ہیں۔ ایک پرامن اور مضبوط افغانستان نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کی سلامتی اور امن و امان کی صورتحال کو یقینی بنانے کے لیے ناگزیر ہے۔
آج پوری قوم کو متحد ہو کر یہ عہد کرنا ہو گا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی اور یہ بھی عہد کرنا ہوگا کہ ہم سانحہ اے پی ایس کو بھولے نہیں ہیں اور نہ ہی کبھی بھولیں گے۔