160ارب ڈالر کے ٹیکسوں کا عدم نفاذ روئی کی قیمتوں میں تیزی
مقامی مارکیٹوں میں نرخ 200 روپے بڑھ کر 9200 تا 9300 روپے کی سطح پر پہنچ گئے
چین اور امریکا نے 15 دسمبر سے نئے ٹیکسوں کے نفاذکا اعلان کر رکھا تھا، احسان الحق فوٹوـفائل
امریکا اورچین کے درمیان 160ارب ڈالر کے مجوزہ نئے ٹیکسوں کے عدم نفاذ کے بعد چین کی امریکا سے روئی کی خریداری سرگرمیوں کوبحال کرنے کے فیصلے کے باعث پاکستان سمیت دنیا بھر میں روئی کی قیمتوں میں تیزی کا رجحان غالب ہوگیا۔
مقامی کاٹن مارکیٹوں میں تیزی کا رحجان غالب ہونے سے فی من روئی کی قیمت 200 روپے کے اضافے سے9200روپے تا 9300 روپے کی سطح پر پہنچ گئی۔
چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے بتایا کہ چین اور امریکا کے درمیان طویل عرصے سے جاری اقتصادی جنگ کے باعث امریکا اور چین کی حکومتوں نے ایک دوسرے پر بھاری ٹیکسزعائدکرنے کے علاوہ چین نے امریکاسے روئی کی خریداری کی سرگرمیوں کوبھی بند کرنے کا اعلان کردیا تھا۔
بعد ازاں دونوں ممالک کی حکومتوں نے15 دسمبر سے ایک دوسرے پر مزید 160 ارب ڈالر مالیت نئے ٹیکسوں کے نفاذ کا بھی اعلان کر رکھا تھا جو بین الاقوامی سطح پرروئی کی قیمتوں میں تنزلی کاباعث بنتا۔
مقامی کاٹن مارکیٹوں میں تیزی کا رحجان غالب ہونے سے فی من روئی کی قیمت 200 روپے کے اضافے سے9200روپے تا 9300 روپے کی سطح پر پہنچ گئی۔
چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے بتایا کہ چین اور امریکا کے درمیان طویل عرصے سے جاری اقتصادی جنگ کے باعث امریکا اور چین کی حکومتوں نے ایک دوسرے پر بھاری ٹیکسزعائدکرنے کے علاوہ چین نے امریکاسے روئی کی خریداری کی سرگرمیوں کوبھی بند کرنے کا اعلان کردیا تھا۔
بعد ازاں دونوں ممالک کی حکومتوں نے15 دسمبر سے ایک دوسرے پر مزید 160 ارب ڈالر مالیت نئے ٹیکسوں کے نفاذ کا بھی اعلان کر رکھا تھا جو بین الاقوامی سطح پرروئی کی قیمتوں میں تنزلی کاباعث بنتا۔