کراچی قانونی اسلحے کیلیے بھی گھر گھر تلاشی لی جائےسپریم کورٹ

ڈیلرزسے معلوم کریں اسلحہ کہاں سے خریدا؟گولیاں کتنی خریدیں اورکہاں کہاں استعمال کیں،3رکنی بینچ

کنٹینرزمیں اسلحے کی تلاش کے لیے کسٹم حکام نے انتہائی غیرسنجیدگی کا مظاہرہ کیا۔عدالت فوٹو: فائل

سپریم کورٹ نے کراچی میں امن و امان بحال کرنے،غیرقانونی اسلحہ،منشیات اوراسمگلنگ کی روک تھام کیلیے وفاقی سیکریٹری داخلہ،اینٹی نارکوٹکس فورس،فیڈرل بورڈآف ریونیو،وفاقی سیکریٹری فنانس اوردیگر اداروں کوصوبائی حکومت کے ساتھ تعاون کاحکم دیاہے،سپریم کورٹ نے آبزرو کیاکہ کنٹینرزمیں اسلحے کی تلاش کے لیے کسٹم حکام نے انتہائی غیرسنجیدگی کا مظاہرہ کیا۔

ڈائریکٹر جنرل رینجرزکابیان ریکارڈ پر آجانے کے بعدمتعلقہ حلقوں کواس سلسلے میں انکوائری کرناچاہیے تھی،وفاقی اداروں نے یوسف گوٹھ اورسہراب گوٹھ میں آپریشن کیلیے15روز میں تیاری جبکہ حکومت سندھ نے شہر میں آپریشن کیلیے خفیہ منصوبہ عدالت میں پیش کردیا،بینچ نے رینجرز اور پولیس کو قانونی طورپربھی لائے گئے اسلحے کی گھر گھرجاکر تحقیقات کاحکم دیا۔ اٹارنی جنرل منیر ملک نے کہاکہ سی بی آرنے حکومت سے سوئس بینکوں میں موجودکالے دھن تک رسائی کے سلسلے میں سوئس حکومت سے مذاکرات جلدکرنے کیلیے رابطہ کیاہے۔

جمعے کوسپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخارچوہدری کی سربراہی میں3رکنی بینچ نے کراچی بدامنی عمل درآمد کیس کی سماعت کی،بینچ میں جسٹس جواد ایس خواجہ، جسٹس گلزار احمد شامل تھے،سپریم کورٹ نے اپنے عبوری حکم میں کسٹم حکام کو حکم دیاکہ وہ گزشتہ3سال کے دوران کراچی میں آنے والے اسلحہ کی مرحلہ وارچیکنگ کریں قانونی طور پرکراچی میں کتنا اسلحہ آیا،کس ڈیلر نے اسلحہ منگوایااورپھرکہاں اورکیسے فروخت کیا؟کسٹم حکام اس سلسلے میںکسٹم حکام کے ساتھ کراچی کے پانچوں اضلاع کے ڈپٹی کمشنر مکمل تعاون کریں،سپریم کورٹ نے آئی جی سندھ اورڈی جی رینجرزکوحکم دیا کہ وہ قانونی اسلحہ رکھنے والے افرادسے اسلحے کی تفصیلات لیں کہ انھوں نے اسلحہ کہاں سے خریدا؟گولیاں کتنی خریدیں اورکہاں کہاں استعمال کیں۔

اس سے متعلق رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے۔ سپریم کورٹ نے کہاکہ لائسنس رکھنے والے افرادجنھوں نے خلاف ورزی کی ہے ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے،سپریم کورٹ نے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل سندھ خالدجاویدنے عدالت میںکراچی میں امن و امان برقراررکھنے کیلیے خفیہ پلان پیش کردیاہے،آئندہ سماعت میں وہ اس پر عملدرآمدکی رپورٹ پیش کریں، سپریم کورٹ نے حکم دیاکہ کراچی میں صوبائی حکومت کی جانب سے کراچی آپریشن کوکامیاب بنانے کیلیے وفاقی سیکریٹری داخلہ، اے این ایف، ایف بی آر، فنانس کے محکمے تعاون کریں تاکہ امن و امان کیلیے بنائے جانے والے پلان کے مطلوبہ نتائج حاصل کیے جا سکیں۔ سپریم کورٹ نے ڈی جی اے این ایف کو کراچی کو 7 روز میں منشیات فری سٹی بنانے کا حکم دیاہے۔

عدالت نے کہا کہ شعیب سڈل کمیشن رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ 19 ہزار کنٹینرز افغانستان نہیں پہنچے ہیں کسٹم حکام ان19ہزارگمشدہ کنٹینرزکی تحقیقات کی جائے اور عدالت میں اس کی رپورٹ پیش کرے،نومبر 2010میں کراچی کے ایک پرائیویٹ گودام میں9کنٹینرز کھولے گئے ہیں ان میں اسلحہ تھا،انٹیلی جنس رپورٹ میں یہ بات بھی ثابت ہوئی ہے کہ 2011سے پہلے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے کنٹینرز اسکین نہیں کیے جاتے تھے،جب 2011سے پہلے افغان ٹرانزٹ ٹریڈکے کنٹینرزچیک نہیں ہوئے تو کسٹم حکام کیوں یہ کہتے ہیں کہ ان میں اسلحہ تھا،افغان ٹرانزٹ ٹریڈکے ڈی جی ارشادکیانی نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ جدیداسلحہ آیا ہے اورکراچی میں جدیدہتھیاراستعمال ہورہے ہیں۔




منیراے ملک نے بتایا کہ تمام ایجنسیوں نے یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ کراچی سے اسلحہ و منشیات ختم کرنے کے فوری طور پر اقدامات کرنے کا فیصلہ کرلیاہے اور تمام وفاقی ایجنسیوں کو کراچی سے اسلحہ و منشیات سے پاک کرنے کے احکاما ت جاری کردیے ہیں،فیصلہ کیا گیا ہے کہ کسٹم تمام کنٹینرزکواسکین کرے گی تاہم کسٹم کے پاس اس وقت3اسکینرزہیں اورفی کنٹینرکی فی کی اسکیننگ کیلیے4ہزارروپے اداکیے جاتے ہیں ایک اسکینرزڈیڑھ کروڑ روپے مالیت کاہے اس لیے انھوں نے جدیدترین اسکینرز کو خریدنے کی سفارش کی ہے۔ منیراے ملک نے عدالت کو بتایاکہ بینکوں ،ہنڈی اور حوالے کے ذریعے غیر قانونی کام جاری ہیں منی ایکسچینجزغیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں ،90فیصد مڈل ایسٹ میں رہنے والے پاکستا نی بینکوں پراعتماد نہیں کرتے۔

ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت کو بتایاکہ کراچی کے علاقے کواسلحے پاک کرنے کیلیے سندھ حکومت نے بھی ایک آپریشن کاخاکہ تیار کرلیاہے تاہم وہ ان معلومات کوابھی خفیہ رکھنا چاہتے ہیں،ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہاکہ ہمیں سپریم کورٹ کے گھر گھرجاکر اسلحے کی تلاشی کے لیے کرفیو لگانے کے لیے تحریری احکامات کی ضرورت تھی،عدالت اگرکرفیو لگانے کابھی حکم دے توہم اقدامات کرنے کو تیارہیں۔چیف جسٹس نے کہاکہ آپ ہمارے فیصلے کا کیوں انتظار کرتے ہیں یہ توآپ کو خود طے کرناہے اور یہ ذمے داری بھی آپ کی ہی ہے،عدالت کرفیولگانے کاحکم جاری نہیں کرے گی۔

دوران سماعت چیف اپریزمنٹ کسٹم آفسرناصرمسرورنے 19 ہزار کنٹینر سے متعلق رپورٹ پیش کی اوربتایاکہ انکی تحقیقات میں کہیں یہ ثابت نہیں ہوتاہے کہ نیٹو کنٹینرمیں اسلحہ آتاہے اس موقع پر سینئر وکیل راجہ ارشاداپنی نشست سے کھڑے ہوئے اور عدالت کو بیان دیا کہ وہ اپنی رپور ٹس پیش کرچکے ہیں کہ جس میں ثابت ہوچکاہے کہ کسٹم نے نیٹو اورایساف کے کسی ایک کنٹرینر کو بھی چیک نہیں ان میں جدید ترین اسلحہ آتا رہاہے کسٹم آفیسر نے بتایاکہ اکتوبر 2010سے قبل پاک افغان معاہدے کے تحت وہ5فیصد کنٹینر کوچیک کرتے تھے ۔

تاہم ایبٹامعاہدے کے بعد اب 100 فیصد چیکنگ کی جارہی ہے جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ شیعب سڈل رپورٹ میں یہ رپورٹ سامنے آئی ہے کہ ایک کنٹینر8 دن میں افغانستان پہنچے اورواپس کراچی آئے یہ ممکن ہی نہیں اگر ایسا ہے تو یہ کنٹینرز افغانستان پہنچے ہی نہیں،کسٹم حکام کراچی میں اسلحہ ڈیلرز کے ریکارڈ کی چھان بین کریں۔ چیف جسٹس نے اپنے فیصلے میں کہاکہ شعیب سڈل کمیشن کی رپورٹ کی روشنی میں کسٹم حکام نیٹو اور ایساف کے غائب ہونے والے19ہزار کنٹینرز کی از سر نوتحقیقات کرے اور جائزہ لے ۔عدالت نے وفاقی حکومت ،سیکریٹری داخلہ ،سیکریٹریبورڈ آف ریو نیو،سیکریٹری نارکوٹکس،سیکریٹری فنانس،چیئرمین ایف بی آر کو احکامات جاری کیے کہ کراچی میں مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کیلیے سندھ اور وفاقی حکومت کے مشترکہ ہاتھ مضبوط کرنے کیلیے اقدامات کریں۔عدالت نے کیس کی سماعت 11نومبر کیلیے ملتوی کردی ہے۔
Load Next Story