آئی پی پیز کو 480 ارب روپے کی ادائیگی کے آڈٹ کا حکم

لوڈشیڈنگ کا شیڈول ویب سائٹ پر اپ لوڈ اور چیف ایگزیکٹو لیسکو سمیت تمام افسران کی تقرریاں میرٹ پرکی جائیں،لاہور ہائیکورٹ

عدالت کا جی ایم اور ڈی آئی جی ریلوے کی عدم حاضری اورعدالتی فیصلے پر تنقید کرنے پر وزیر ریلوے پرسخت برہمی کا اظہار۔ فوٹو: فائل

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عمرعطابندیال نے حکومت کی جانب سے آئی پی پیزکو 480ارب روپے کی ادائیگی کاآڈٹ کرانے کاحکم دے دیاہے جبکہ جی ایم ریلوے اور ڈی آئی جی ریلوے کے عدالت میں پیش نہ ہونے اور عدالتی فیصلے پرتنقید کرنے پروفاقی وزیرریلوے پرسخت برہمی کااظہار کرتے ہوئے جنرل منیجراور ڈی آئی جی ریلوے پولیس کوعدالت طلب کرلیا۔

درخواست گزارکے وکیل اظہرصدیق ایڈووکیٹ نے عدالت کوبتایا کہ حکومت کی جانب سے آئی پی پیزکو 480 ارب روپے کی ادائیگی کے باوجودبجلی کی لوڈشیڈنگ میںکمی نہیںہوئی بلکہ ایکولائزیشن سرچارج بھی وصول کرناشروع کردیا گیاہے۔ دوران سماعت جوائنٹ سیکریٹری پانی وبجلی زرغام خان نے عدالت کوبتایا کہ غیراعلانیہ لوڈ شیڈنگ ختم کردی گئی ہے۔ انھوںنے مزیدبتایا کہ ٹرانسفارمرزکا معیار اور بہترمرمت نہ ہونے کی وجہ سے لائن لاسزبڑھتے ہیں۔ کے ای ایس سی 650میگاواٹ سے زیادہ نہیں لے سکتی لیکن وہ 900میگاواٹ تک بجلی لے جاتی ہے۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے قراردیا کہ افسران کی نااہلی کابوجھ عوام پر نہیں ڈالاجا سکتااور نہ ہی بجلی کے بلوںپر ایکولائزیشن سرچارج وصول کیاجا سکتاہے۔ فاضل جج نے قراردیا کہ لائن لاسزکے پیسے عوام کودینا پڑتے ہیںجو ناانصافی ہے۔




عدالت نے حکومت کوچیف ایگزیکٹو لیسکو سمیت تمام افسران کی تقرریاں میرٹ پرکرنے کی ہدایت دیتے ہوئے حکومت کی جانب سے آئی پی پیزکو480 ارب روپے آڈٹ کرانے کا حکم دیا اوربجلی کی لوڈشیڈنگ کا شیڈول ویب سائٹ پراپ لوڈکرنے کی ہدایت کردی۔ عدالت نے کیس کی سماعت 25 نومبر تک ملتوی کردی اوربجلی کے بلوں پر ایکولائزیشن سرچارج کی وصولی سے متعلق ریکارڈ طلب کرلیا۔ دریں اثناجسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے جی ایم ریلوے اورڈی آئی جی ریلوے کے عدالت میں پیش نہ ہونے اور عدالتی فیصلے پر تنقید کرنے پروفاقی وزیر ریلوے پر سخت برہمی کااظہار کرتے ہوئے جنرل مینجرریلوے اورڈی آئی جی پولیس ریلوے کوعدالت میں طلب کرلیا ہے۔ فاضل جج نے کیس کی سماعت 7نومبر تک ملتوی کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ کسی کوابہام نہیں ہوناچاہیے، عدالتیںآئین اورقانون کے مطابق فیصلے کرتی ہیںاور اپنے فیصلوں پر عمل درآمدکرانا بھی جانتی ہیں۔
Load Next Story