ہمیں کتابیں نہیں جوتے چاہئیں
اس شہر میں آپ کو جوتوں کی دکانیں بہت کثرت سے ملیں گی جو جوتا کلچر کے فروغ کی دلیل ہیں
صورتحال کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ ہمیں کتابوں کی نہیں، جوتوں کی ضرورت ہے۔ (فوٹو: فائل)
چند روز قبل کتابیں خریدنے کےلیے نیشنل بک فاؤنڈیشن (این بی ایف) کے لاہور میں واقع علاقائی دفتر گیا تو پتا چلا کہ رواں برس کےلیے جاری ہونے والا بک ریڈرز کلب کارڈ کا کوٹہ ختم ہوچکا ہے۔ پوچھنے پر پتا چلا کہ حکومت نے این بی ایف کے بجٹ میں 55 فیصد کمی کردی ہے، جس کے باعث مذکورہ کارڈز کی تعداد گھٹ کر ایک تہائی رہ گئی ہے۔ فاؤنڈیشن کے ملازم نے یہ بھی بتایا کہ کارڈز کا کوٹہ ستمبر اور اکتوبر کے دو مہینوں میں ہی ختم ہوگیا تھا، لہٰذا اب آپ کو اگلے مالی سال کے شروع ہونے تک انتظار کرنا پڑے گا۔ میں کارڈ بنوانے کےلیے اگست کے آخر میں گیا تھا لیکن تب بتایا گیا تھا کہ کارڈز کا اجرا ایک ہفتے کے بعد شروع ہوگا۔ مصروفیت کے باعث دوبارہ اس طرف جانے کا موقع نہیں ملا اور جب موقع ملا تب پتا چلا کہ کارڈز ختم ہوچکے ہیں۔ اب کارڈ والی رعایت سے تو فائدہ نہیں اٹھایا جاسکتا تھا، لہٰذا عمومی رعایت پر ہی کتابیں خریدنی پڑیں۔
جو قارئین این بی ایف کے مذکورہ کارڈ اور اس کے ساتھ ملنے والی رعایت سے ناواقف ہیں، ان کےلیے یہ بتانا ضروری ہے کہ نیشنل بک فاؤنڈیشن ایک سرکاری ادارہ ہے جو 1972 میں پارلیمان کے ایک ایکٹ کے ذریعے قائم کیا گیا تھا۔ یہ ایک تعلیمی فلاحی ادارہ ہے جس کا مرکزی دفتر اسلام آباد میں ہے اور چاروں صوبوں میں اس کے علاقائی دفاتر اور دکانیں موجود ہیں، جن کے ذریعے یہ ادارہ ملک بھر میں کتابوں کی فروخت کا کام کرتا ہے۔ اس ادارے کی طرف سے ہر برس کسی بھی پاکستانی شہری کو ایک باقاعدہ فارم پر درخواست دینے پر ایک سو دس روپے میں ایک بک ریڈر کلب کارڈ جاری کیا جاتا ہے۔ اس کارڈ کے ذریعے این بی ایف کی اپنی دکانوں میں موجود کتابوں پر 55 فیصد رعایت ملتی ہے، جبکہ این بی ایف سے وابستہ دیگر دکانوں سے 50 فیصد رعایت پر کتابیں خریدی جاسکتی ہیں۔ یہ کارڈ ایک سال کی مدت کےلیے جاری کیا جاتا ہے اور اس کی مدد سے چھ ہزار روپے تک کی کتابیں خریدی جاسکتی ہیں۔
میرے جیسے کتابیں پڑھنے والوں کےلیے این بی ایف کا مذکورہ کارڈ بڑی سہولت ہے، لیکن اب حکومت نے فاؤنڈیشن کے بجٹ میں کمی کرتے ہوئے اس سہولت کو محدود کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
اس سہولت کے محدود ہونے سے یاد آیا کہ لاہور میں ایک بہت بڑی اور بہت پرانی کتابوں کی دکان ہوا کرتی تھی۔ میں نے اس دکان کو دیکھا تو نہیں، کیونکہ وہ شاید میرے پیدا ہونے سے پہلے ہی ختم ہوگئی تھی لیکن اس کے بارے میں اپنے اساتذہ اور بزرگ دوستوں سے سنا ہے اور اس کے آثار بھی دیکھے ہیں جو اس عمارت کی شکل میں موجود ہیں جہاں وہ دکان ہوا کرتی تھی۔ اس دکان کا نام تھا 'رام کرشن اینڈ سنز بک سیلرز'۔ مال روڈ کے انارکلی چوک میں واقع یہ دکان 1894 میں قائم ہوئی تھی، لیکن اس کی عمارت سترہ سال بعد 1911 میں بنی تھی۔ ایک لمبے عرصے تک یہ دکان کتابیں پڑھنے والوں کےلیے مرجع بنی رہی۔
ہندوستان کی تقسیم کے بعد رام کرشن اینڈ سنز تو شاید بھارت چلے گئے لیکن دکان قائم رہی اور اس کی جگہ آئیڈیل بک ہاؤس نامی ایک ادارے نے کتابوں کی فروخت کا سلسلہ شروع کردیا، جو 1980 کی دہائی تک جاری رہا۔ اس دور میں کئی معروف لوگ اس دکان پر جایا کرتے تھے، جن میں ایک نام گورنمنٹ کالج لاہور کے استاد اور شاعر قیوم نظر کا بھی ہے۔ آئیڈیل بک ہاؤس کے خاتمے کے بعد اس جگہ شوز کمپنی نے جوتوں کی دکان بنالی، جو آج تک لاہوریوں کی جوتا پسندی کے سبب خوب چل رہی ہے۔
لاہور ایک وقت تک تعلیمی اداروں کا شہر گنا جاتا تھا۔ تعلیمی ادارے تو آج بھی اس شہر میں بےشمار ہیں اور ہر گزرنے والے دن کے ساتھ ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے، لیکن چائے خانے اور کتابوں کی وہ دکانیں جو تعمیری اور صحت مند مباحثے اور علم دوستی کے کلچر کو فروغ دے کر تعلیمی اداروں کا روپ نکھارنے میں اہم کردار ادا کررہی تھیں، اب کم بلکہ بہت کم رہ گئی ہیں۔ اب اس شہر میں آپ کو ریستوراں بہت بڑی تعداد میں ملتے ہیں، جو بسیار خوری اور بعض صورتوں میں ناحلال خوری کے کلچر کو بڑھاوا دے رہے ہیں یا اس شہر میں آپ کو جوتوں کی دکانیں بہت کثرت سے ملتی ہیں جو جوتا کلچر کے فروغ کی دلیل ہیں۔ اس صورتحال کو دیکھ کر تو ایسا ہی لگتا ہے کہ ہمیں کتابوں کی نہیں، جوتوں کی ضرورت ہے۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
جو قارئین این بی ایف کے مذکورہ کارڈ اور اس کے ساتھ ملنے والی رعایت سے ناواقف ہیں، ان کےلیے یہ بتانا ضروری ہے کہ نیشنل بک فاؤنڈیشن ایک سرکاری ادارہ ہے جو 1972 میں پارلیمان کے ایک ایکٹ کے ذریعے قائم کیا گیا تھا۔ یہ ایک تعلیمی فلاحی ادارہ ہے جس کا مرکزی دفتر اسلام آباد میں ہے اور چاروں صوبوں میں اس کے علاقائی دفاتر اور دکانیں موجود ہیں، جن کے ذریعے یہ ادارہ ملک بھر میں کتابوں کی فروخت کا کام کرتا ہے۔ اس ادارے کی طرف سے ہر برس کسی بھی پاکستانی شہری کو ایک باقاعدہ فارم پر درخواست دینے پر ایک سو دس روپے میں ایک بک ریڈر کلب کارڈ جاری کیا جاتا ہے۔ اس کارڈ کے ذریعے این بی ایف کی اپنی دکانوں میں موجود کتابوں پر 55 فیصد رعایت ملتی ہے، جبکہ این بی ایف سے وابستہ دیگر دکانوں سے 50 فیصد رعایت پر کتابیں خریدی جاسکتی ہیں۔ یہ کارڈ ایک سال کی مدت کےلیے جاری کیا جاتا ہے اور اس کی مدد سے چھ ہزار روپے تک کی کتابیں خریدی جاسکتی ہیں۔
میرے جیسے کتابیں پڑھنے والوں کےلیے این بی ایف کا مذکورہ کارڈ بڑی سہولت ہے، لیکن اب حکومت نے فاؤنڈیشن کے بجٹ میں کمی کرتے ہوئے اس سہولت کو محدود کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
اس سہولت کے محدود ہونے سے یاد آیا کہ لاہور میں ایک بہت بڑی اور بہت پرانی کتابوں کی دکان ہوا کرتی تھی۔ میں نے اس دکان کو دیکھا تو نہیں، کیونکہ وہ شاید میرے پیدا ہونے سے پہلے ہی ختم ہوگئی تھی لیکن اس کے بارے میں اپنے اساتذہ اور بزرگ دوستوں سے سنا ہے اور اس کے آثار بھی دیکھے ہیں جو اس عمارت کی شکل میں موجود ہیں جہاں وہ دکان ہوا کرتی تھی۔ اس دکان کا نام تھا 'رام کرشن اینڈ سنز بک سیلرز'۔ مال روڈ کے انارکلی چوک میں واقع یہ دکان 1894 میں قائم ہوئی تھی، لیکن اس کی عمارت سترہ سال بعد 1911 میں بنی تھی۔ ایک لمبے عرصے تک یہ دکان کتابیں پڑھنے والوں کےلیے مرجع بنی رہی۔
ہندوستان کی تقسیم کے بعد رام کرشن اینڈ سنز تو شاید بھارت چلے گئے لیکن دکان قائم رہی اور اس کی جگہ آئیڈیل بک ہاؤس نامی ایک ادارے نے کتابوں کی فروخت کا سلسلہ شروع کردیا، جو 1980 کی دہائی تک جاری رہا۔ اس دور میں کئی معروف لوگ اس دکان پر جایا کرتے تھے، جن میں ایک نام گورنمنٹ کالج لاہور کے استاد اور شاعر قیوم نظر کا بھی ہے۔ آئیڈیل بک ہاؤس کے خاتمے کے بعد اس جگہ شوز کمپنی نے جوتوں کی دکان بنالی، جو آج تک لاہوریوں کی جوتا پسندی کے سبب خوب چل رہی ہے۔
لاہور ایک وقت تک تعلیمی اداروں کا شہر گنا جاتا تھا۔ تعلیمی ادارے تو آج بھی اس شہر میں بےشمار ہیں اور ہر گزرنے والے دن کے ساتھ ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے، لیکن چائے خانے اور کتابوں کی وہ دکانیں جو تعمیری اور صحت مند مباحثے اور علم دوستی کے کلچر کو فروغ دے کر تعلیمی اداروں کا روپ نکھارنے میں اہم کردار ادا کررہی تھیں، اب کم بلکہ بہت کم رہ گئی ہیں۔ اب اس شہر میں آپ کو ریستوراں بہت بڑی تعداد میں ملتے ہیں، جو بسیار خوری اور بعض صورتوں میں ناحلال خوری کے کلچر کو بڑھاوا دے رہے ہیں یا اس شہر میں آپ کو جوتوں کی دکانیں بہت کثرت سے ملتی ہیں جو جوتا کلچر کے فروغ کی دلیل ہیں۔ اس صورتحال کو دیکھ کر تو ایسا ہی لگتا ہے کہ ہمیں کتابوں کی نہیں، جوتوں کی ضرورت ہے۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔